بروغل نیشنل پارک حساس مسئلہ

بروغل نیشنل پارک حساس مسئلہ

10 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

کورکمانڈر 10کور پشاور خیبر پختونخوا کے حساس مسائل اور حساس علاقوں پر گہری نظر رکھتے ہیں سوات کے جنرل افیسر کمانڈنگ بھی اس معاملے میں بہت حساس واقع ہوتے ہیں مگر مسئلہ دو سالوں سے اُن کی میزوں تک نہیں پہنچا افغانستان ، تاجکستان اور چین کی سرحدات سے ملحق حساس ترین علاقہ بروغل ضلع چترال کے شمال مشرق میں اشکومن گلگت سے ملحق بستی ہے یہاں واخی، سریقولی اور کرغز آبادی بستی ہے پانچ سال پہلے 25کلو میٹر لمبی وادی کے حساس ترین مقامات کو خیبر پختونخوا کی حکومت نے نیشنل پارک بنانے کا اعلان کیا تھا اس اعلان کے بعد اے این پی کی حکومت ختم ہوگئی نئی حکومت نے منصوبے کو عملی جامہ پہنا کر مقامی آبادی کو نیشنل پارک سے بے دخل کیا بے دخل کرنے کے بعد پارک کی 38ملازمتوں پر مقامی آبادی کو این ٹی ایس کے ذریعے بھرتی کرنا تھا۔

چار سال کی کشمکش کے بعد این ٹی ایس کی شرط ختم کرکے غیر مقامی لوگوں کو پارک کی تمام ملازمتیں دی گئیں کہا گیا کہ حکومت کی پالیسی کے مطابق پارک میں چپڑاسی بھی مقامی باشندہ نہیں ہوسکتا۔ زوالوجی اور فارسٹری کا ایم ایس سی اگر مقامی ڈومیسائل رکھتا ہے تو وہ ملازمت کے لئے ’’نااہل ‘‘ ہے۔

علاقے کی منتخب قیادت اس پر سراپا احتجاج ہے علاقے کے عمائدین نے اعلان کیا ہے کہ وہ کسی غیر مقامی کو پارک میں داخل ہونے نہیں دینگے۔ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کے حکام کا کہنا ہے کہ صوبائی حکومت نے پالیسی دی ہے ہم پالیسی پر عمل کررہے ہیں۔ اس طرح حساس ترین سرحدی علاقے میں مقامی آبادی اور محکمہ وائلڈ لائف کے درمیاں محاذِ جنگ گرم ہوا ہے۔ اب خفیہ ڈائری پر کوئی عمل نہیں کرتا قومی سلامتی کی ایجنسیوں نے جو رپورٹیں دی ہوئی ہیں انہیں کوئی نہیں پڑھتا، اندھے کی لاٹھی چل گئی ہے بہرے اورلولے لنگڑے لوگ فیصلہ کرنے والی کرسیوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔

کورکمانڈر پشاور اور جی او سی ملاکنڈ کی توجہ کے لئے چار نکات پر مبنی عرضداشت تیار کی گئی ہے، عمر رفیع ، امین جان تاجک اور دوسرے عمائدین نے اس یاداشت کے ذریعے پاک فوج کے اعلیٰ حکام کی توجہ اس حساس مسئلے کی طرف مبذول کی ہے۔

پہلا نکتہ ہے کہ بروغل کے حساس ترین علاقے میں نیشنل پارک بنانے کی کیا ضرورت تھی؟ کیا فوجی حکام سے این او سی لی گئی تھی؟ اگر لی گئی تھی تو کن شرائط پر لی گئی تھی؟دوسرا نکتہ یہ ہے کہ مقامی آبادی کو علاقے کے چراگاہوں سے بیدخل کرنے کے بعد ان علاقوں میں باہر سے اجنبی لوگوں کو لاکر نیشنل پارک کا انتظام ان کے ہاتھوں میں دینے کی پالیسی کس نے بنائی؟ کیا صوبائی اسمبلی میں قانون بنایا گیا؟ کیا صوبائی کابینہ نے اس کی منظوری دی؟ کیا وزیر اعلیٰ یا عمران خان نے اس کا حکم دیا؟ کیا صوبائی گورنر کی طرف سے کوئی حکم نامہ جاری ہوا؟ اگر ایسی کوئی دستاویز ہے تو اس کو منظر عام پر لایا جائے کم از کم کورکمانڈر کے نوٹس میں لایا جائے۔

تیسرا نکتہ یہ ہے کہ صوبائی حکومت نے سکیل 5سے اوپر تمام پوسٹوں کے لئے این ٹی ایس کا ٹیسٹ لازمی قرار دیا ہے بروغل نیشنل پارک کی آسامیوں کے لئے این ٹی ایس کے ذریعے ٹیسٹ کیوں نہیں لیا گیا ؟ وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ کو استثنیٰ کس نے دیا؟ اور کس بنیاد پر دیا؟ اگر یہ پراجیکٹ ہے تو انڈی پینڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ بھی پراجیکٹ ہے اس کی تمام آسامیاں این ٹی ایس کے ذریعے پُر کی جاتی ہیں۔

چوتھا اور آخری نکتہ یہ ہے کہ اس حال میں جب ملک کو دہشت گردی کا سامنا ہے 14800فٹ کی بلندی پر واقع حساس ترین سرحدی علاقے کی آبادی میں بے چینی ، پریشانی اور افراتفری پیدا کرنے کی کوشش کیوں کی جارہی ہے؟ اس میں وائلڈ لائف کے محکمے کی نااہلی ، نالائقی اورکرپشن ہی واحد وجہ ہے یا اس کے پیچھے کسی خفیہ ہاتھ کا بھی دخل ہے؟

کورکمانڈر اور جی او سی کو بخوبی علم ہے کہ بروغل کافاصلہ چترال کے ضلعی ہیڈ کواٹر سے 340کلومیٹر ہے یہاں کی آبادی مال مویشی پال کر گذر اوقات کرتی ہے یہاں جوَ یعنی Barleyکے سوا کوئی فصل نہیں ہوتی لوگ یاک اور دنبے پالتے ہیں گلگت اور چترال کی مارکیٹوں میں فروخت کرکے گذر اوقات کرتے ہیں نیشنل پارک میں مویشی چرانے پر پاپندی ہے اگر پارک کی ملازمتیں بھی باہر کے لوگوں کو ملیں ،واچر اور چپڑاسی بھی باہر سے آگیا تو بروغل کے لوگ گذر بسر کس طرح کرینگے؟ کورکمانڈر اور جی او سی کے علم میں یہ بات بھی لائی گئی ہے کہ اگر بروغل کی آبادی نے ملک چھوڑ کر افغانستان ،تاجکستان یا چینی ترکستان کی طرف نقل مکانی کی تو اس کی ذمہ داری وائلڈ لائف ڈیپارٹمنٹ پر عائد ہوگی۔

علاقے کے عمائدین نے چترال پریس کلب کے سامنے خود سوزی کی دھمکی دی ہے اگر مجبور اورمظلوم لوگوں نے خود سوزی کی تو قتل کی ایف آئی آر سیکرٹری ماحولیات اور چیف کنزرویٹر وائلڈلائف خیبر پختونخواکے خلاف کاٹی جائے گی۔

آخری اُمید کے طور پر بروغل کے عوام نے کورکمانڈر پشاور اور جی او سی ملاکنڈ سے فوری مداخلت کرکے تمام تقرریوں کو منسوخ کرنے اور این ٹی ایس کے ذریعے مقامی باشندوں کو بھرتی کرنے کی اپیل کی ہے اگر نیشنل پارک کا قیام مقامی لوگوں کے مفاد میں نہیں تو پھر ملک اور قوم کے مفاد میں ہر گز نہیں ہوگا۔

بقولِ علامہ اقبال

جس کھیت سے دہقان کو میسر نہ ہو روزی

اُس کھیت کے ہر خوشہِ گندم کو جلا دو

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments