گلگت بلتستان میں ٹرانسپورٹ کے بڑھتے مسائل

گلگت بلتستان میں ٹرانسپورٹ کے بڑھتے مسائل

23 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے ٹرانسپورٹرز ان دنوں ہزارہ پولیس کے خلاف سراپا احتجاج ہیں انکے مطابق ناراں، کاغان اور بالاکوٹ پولیس بابو سر ٹاپ کے راستے راولپنڈی یا مانسہرہ سے گلگت بلتستان کی طرف آنے والی بسوں اور کوسٹروں کو دن کے اور رات گئے واپس کرنے پر مجبورکرتی ہے اور بلیک میل کرکے ٹرانسپورٹرز سے 5000 روپے جرمانے کے نام پر وصول کئے جاتے ہیں۔ٹرانسپورٹرز کا یہ بھی الزام ہے کہ پولیس والے اور مانسہرہ اور بالا کوٹ کے ہوٹل مالکان آپس میں ملے ہوئے ہیں اور ہوٹل مالکان اپنا کاروبار چمکانے کے لئے پولیس کے ذریعے ٹرانسپورٹ کو رکواتے ہیںتاکہ مسافر ان کے ہوٹلوں میں قیام کرنے پر مجبور ہوں۔

اس معاملے کا عبوری جائزہ لیا جائے تو خیبر پختوانخواہ کی پولیس اگر ظالم ہے تو ٹرانسپورٹر بھی معصوم مسافروں پر ظلم کے معاملے میں میں کسی سے کم نہیں ۔دنیا کی خطرناک ترین سڑکوں میں سے ایک شاہراہ قراقرم پر اوور سپیڈنگ اور ٹریفک رولز کی خلاف ورزی کو تو کسی قسم کی غلطی سمجھا ہی نہیں جاتا ہے ۔گرمیوں کے سیزن میں چند ہفتوں کے لئے کھلنے ولے بابوسر ٹاپ پر گرمیوں میں خاصا رش ہوتا ہے۔ چونکہ کے کے ایچ روڈ کا راستہ بابو سر ٹاپ کے راستے کی نسبت خاصا طویل اور خراب ہے ۔اور دوسرے نمبر پر بابو سر ٹاپ اور اس کے گردونواح کی قدرتی خوبصورتی کی وجہ سے بھی ٹورسٹس اس راستے کو ترجیح دیتے ہیں۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ صر ف اس سال جون جولائی اور اگست تین ماہ کے اعداد شمار جمع کئے جائیں توان مہینوں کے دوران ایک دن بھی ایسا نہیں گزار ہوگا جس دن بابو سر ٹاپ کے علاقے میں کوئی ٹریفک حادثہ رونما نہ ہوا ہو۔ان حادثات کی دو بنیادی وجوہات ہیں پہلے نمبر پر میدانی علاقوں سے آنے والے وہ ڈرائیور جو پہاڑی گھاٹیوں پر گاڑی چلانے کا تجربہ نہیں رکھتے وہ اپنے اناری پن اور بعض اوقات شوخی میں اترائی پر بریک شو گرم کرنے کے بعدبریک فیل کرکے حادثات کا شکار ہوتے ہیں۔ اورحادثات کی دوسری اور بڑی وجہ وہ کم عمر کمرشل ڈرائیور ہیںجن کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہورہا ہے ۔ چھوٹے چھوٹے لڑکوں کو گلگت راولپنڈی پر چلنے والی رینٹ اے کار سروس میں چلانے پر دے دی گئی ہیں جو اپنی تیز رفتاری سے نہ صرف اپنے بلکہ دوسرے ڈرائیوروں کے لئے خطرے کا باعث بنتے ہیں۔ رالپنڈی اور گلگت ، استور اور سکردو کے درمیان چند سالوں میں بس اور کوسٹر سروس کے ساتھ ایک نئی کرولا سروس کے رجحان میں بہت زیادہ اضافہ ہورہا ہے۔ یہ ایسی سروس ہے جس میں 70فیصدکم عمر ڈرائیور ایسے ہیں جن کے نہ تو لائسنس ہیں اور یہاں تک کہ وہ شناختی کارڈ بنوانے کی عمر تک بھی نہیں پہنچے لیکن دنیا کی خطرناک ترین سڑکوں میں سے ایک اس سڑک پر گاڑی بھگانے کی انکو کھلی چھٹی دے دی گئی ہے۔

 اس سڑک پر جو پرفیشنل ڈرائیورانکی اکثریت نشے کی عادی ہے اور اسی سرووراور مدحوشی کے عالم میں وہ مسافروں کی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں۔

 حیران کن امر ہے کہ اچھے بھلے پڑھے لکھے لوگ اور یہاں تک کہ خواتین بھی وقت بچانے کی خاطراس کار کو اپنے سفر کا زریعہ بنانے کو پہلی ترجیح دیتے ہیں اور وہ بھی محض اس لئے کہ بس کی نسبت یہ گاڑیاں آدھے سے بھی کم وقت میں انہیں ان کی منزل تک پہنچا دیتی ہیں ، لیکن اس طرح سے وہ اپنی قیمتی جانوںکو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔ ایک مشہور محاورہ ہے کہ )کبھی نہ پہنچنے سے دیر سے پہنچنا بہتر ہے) اگر اس محاورے کے الفاظ پر ہم غور کرنا شروع کردیں تو شاید اس طرح کی غلطی کبھی نہ کریں۔ دوسری جانب اگر اس رینٹ اے کار سروس کی نسبت حکومت پاکستان کی بس سروس(نیٹکو) اور دیگر بس سروسز کا موازنہ کیا جائے تو یہ گاڑیاں گلگت اور راولپنڈی مانسہرہ تک جانے میں وقت تو شائد زیادہ لگا دیتی ہیں لیکن کے کے ایچ پر حادثات میں ان کا حصہ بہت کم ہے۔اب رہی با ت خیبر پختونخواہ پولیس کی تو کرپشن کے معاملے میں تو اب یہ پولیس شائد کرپشن میں مشہور پنجاب پولیس سے بھی دو ہاتھ آگے دکھائی دے رہی ہے ،خاص طور پر ایبٹ آباد پولیس میں کرپشن تو اس طرح سے کوٹ کوٹ کر بھر چکی ہے کہ وہ وردی پہنے ایسے بھیڑے دکھائی دیتے ہیں جوٹریفک کو کنٹرول کرنے کی بجائے ہر لمحہ شکاری کی تلاش میں ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ مانسہرہ سے ایبٹ آباد اور ہری پور تک ٹریفک کی صورتحال اس قدر خراب ہوچکی ہے کہ جگہ جگہ ٹریفک جام کی وجہ سے مسافر گاڑیوں کا اکثر دوگنا وقت لگ جاتا ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کی خیبر پختونخواہ میں حکومت ہے مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس صوبے کے چھوٹے شہروں میں روایتی پولیس کلچر کو درست کرنے میں ناکام رہی ہے۔ رہی بات غیر قانونی ٹرانسپورٹ سروسز اور غیر تربیت یافتہ و بغیر لائسینس ڈرائیوروں کی جو روز بروز بڑھتے ہوئے حادثات کا باعث بن رہے ہیں انکے روک تھام کے لئے نہ صرف گلگت بلتستان بلکہ خیبر پختونخواہ اورپنجاب پولیس کو بھی سخت ایکشن لینا چاہیے، اور یہاں شہریوں پر بھی زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ محض وقت بچانے کی خاطر کرولا سروس، ٹو ڈی سروس یا ایسی غیر قانونی ٹرانسپورٹ سروسز کا استعمال پرگزنہ کریںجو نہ صرف ان کی جانوں کے لئے خطرہ ہیں بلکہ ان تیز رفتار ٹیکسی سروس گاڑیوں کے سامنے آنے والی ہر گاڑی کے لئے بھی یہ گاڑیاں کسی چلتے پھرتے راکٹ یا بم سے کم نہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author