وزیر اعلی کے لئے نیک مشورہ

وزیر اعلی کے لئے نیک مشورہ

24 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: خالد حسین سام

مسئلہ یہ ہے کہ جب سیاستدان مسند اقتدار پر براجمان ہوتے ہیں تو بہت ساری زمینی حقیقتوں سے دور ہوتے ہیں کیونکہ ریاست کے کاموں میں ایسے الجھتے ہیں کہ بہت ساری چیزوں کا ادراک بس میں نہیں ہوتا ہے ایسے میں درباری اس کیفیت سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہیں یہی درباری اہل لوگوں کو حکمران کے نزدیک بھی آنے نہیں دیتے۔ درباریوں کا اصول ہوتا ہے کہ حکمران کے سامنے خوش آمدی اور سب اچھا ہے کی گردان الاپ کر فائدے سمیٹتے ہیں۔ حکمران جب درباریوں کے چنگل میں گرفتار ہوں تو اقتدار مٹھی کی ریت کی طرح سرکنا شروع ہوتا ہے اور ایسے میں بھی درباری یہی گردان الاپتے ہیں کہ حضور سب اچھا ہے آپ فکر نہ کریں ہم سب سنبھالیں گے یوں حکمران اس وقت ہوش میں آتے ہیں جب اقتدار کی مسند سے اتر جاتے ہیں۔

گلگت بلتستان میں بھی کچھ ایسی ہی صورتحال ہے مسلم لیگ کی حکومت کے درباری سب اچھا ہے کی گردان الاپ رہے ہیں لیکن میڈیا میں کچھ بھی اچھا نہیں ہے میڈیا کے میدان میں مسلم لیگ بیک فٹ پر چلی گئی ہے ،میڈیا کمپین کے لئے مسلم لیگ میں پلاننگ اور ویثرن سے بھر پور ذہن نہیں ہے۔ ہر محاز پر وزیر اعلی اکیلے لڑ رہے ہیں ،میڈیا کمپین کا اپنا ایک طریقہ کار ہے صرف بیان بازی سے کام نہیں چلتا ہے یا مخالفت میں کوئی بیان آئے تو اس کا جواب دینا ہی کافی نہیں ہوتا ہے یہ ایک ویثرن اور پیشہ ور کام ہے۔ دو لفظ لکھنے والا نہ تو صحافی ہوتا ہے اور نہ دو لفظ بولنے والا سیاستداں ،معاملات وہاں بگڑنے شروع ہوتے ہیں جب اہل لوگوں کی خدمات لینے کے بجائے درباریوں کو ذمہ داریاں دی جائیں۔

رشید ارشد گلگت بلتستان کے ایک ایسے سینئر صحافی ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے بیس برس صحافت کے شعبے میں گزارے ہیں۔ نیشنل اخبارات میں اداریہ لکھتے رہے ہیں علاقائی و قومی اخبارات میں اچھے کالم نویس کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ کالم نگاری میں انہیں کئی ایوارڑ بھی مل چکے ہیں اس کے علاوہ پاکستان کے دو اعام نتخابات میں پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتوں کے سنٹرل میڈیا میں اہم عہدے پر کام کر چکے ہیں نہ صرف گلگت بلتستان کی صحافت میں ان کا نام ہے بلکہ نیشنل سطح پر انہوں نے اپنی محنت سے ایک نام بنایا ہے۔

مجھے حیرت ہے کہ مسلم لیگ گلگت بلتستان کی حکومت نے ابھی تک انہیں میڈیا ایڈوائزر یا میڈیا کواڈینٹر کی ذمہ داریاں کیوں نہیں دیں ہیں؟ حالانکہ سوشل میڈیا سے لے کر پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا میں مسلم لیگ کی حکومت کی بہت اچھی ترجمانی کر رہے ہیں۔

ہم ابھی تک تو یہی سمجھتے رہے کہ شاید حکومت نے ان سے بیک ڈور کوئی معاہدہ کیا ہوگا اس ترجمانی کیلئے لیکن یہ عقدہ بھی کھل گیا رشید ارشد یہ سب کچھ اپنی طرف سے کر رہے ہیں اور بغیر معاوضے کے گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

مجھے رشید ارشد کے نظریات سے شدید اختلاف ہو سکتا ہے لیکن مجھے ان کی مسلم لیگ کی گلگت بلتستان حکومت کے لئے ہمدردی اور کام کو دیکھ حیرت بھی ہوتی ہے کہ حکومت کو شاید اپنے مخلص لوگوں کے لئے وقت ہی نہیں۔ میرا رشید ارشد سے بہت سا رے معاملات پر ہمیشہ اختلاف رہا ہے اور میں اکثر انہیں کہتا بھی رہا ہوں کہ ایک صحافی کیلئے مناسب نہیں کہ کسی حکومت یا جماعت کیلئے یکطرفہ جھکاؤ ہو۔ میری بات کو صرف ایک مسکراہٹ میں ٹال دیتے ہیں۔

بہر حال میں ان سطور کی وساطت سے وزیر اعلی گلگت بلتستان حافظ حفیظ الرحمان سے کہنا چاہتا ہوں کہ گلگت بلتستان کی حکومت کی کارکردگی کو میڈیا کے زرئعے عوام کے سامنے لانے کیلئے رشید ارشد سے زیادہ میری نظر میں کوئی صحافی نہیں انہیں قدرت نے بہت ساری صلاحیتوں سے نوازا ہے،لفظوں کی جادو گری کا فن انہیں خوب آتا ہے۔ اگر گلگت بلتستان حکومت ان کی خدمات کا صلہ نہیں دیتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ درباری سب اچھا ہے کی رپورٹ دے کر وزیر اعلی کو زمینی حقائق سے دور کر رہے ہیں۔

وزیر اعلی کیلئے نیک مشورہ ہے کہ رشید ارشد کو گلگت بلتستان حکومت میں میڈیا کے حوالے سے اہم ذمہ داری دیں تا کہ مسلم لیگ کی حکومت کے حوالے سے جو منفی تاثر پھیل رہا ہے اس کا ازالہ ہو سکے اور رشید ارشد اپنے صحافتی تجربے کو بروئے کار لاتے ہوئے حکومت کی اچھی ترجمانی کر سکیں

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔