فٹ بال میچ  اور سماجی عدم بلوغت کا اظہار

فٹ بال میچ  اور سماجی عدم بلوغت کا اظہار

46 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

محمد جواد شگری

سکردو بلتستان کو پاکستان کا پرامن ترین شہر کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔یہاں امن و امان کی صورتحال کا مشاہدہ کرکےدیگر علاقوں سے آنے والے سیاح نہایت خوشگوار حیرت میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ اور یہاں کا ٹھنڈا اور پیارا موسم ثانوی حیثیت کرجاتا ہے۔16  اگست 2017 بھی انہی خوشگوار دنوں میں سے ایک دن تھا۔ جب سکردو شہر میں معمول سے زیادہ گہما گہمی تھی۔ ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے غول بے فکر ہوکر بازاروں اور گلیوں میں چل پھر رہے تھے اور یہاں کے ٹھنڈے موسم کی طرح ٹھنڈے مزاج رکھنے والے بلتی لوگوں کی غیر معمولی چہل پہل سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ اس چہل پہل کی وجہ فٹ بال میچ کا فائنل تھا جو نیورنگاہ اور بازار ایریا کی ٹیموں کے درمیان کھیلا جانا تھا۔شاہین گراونڈ کھچا کھچ بھرا ہوا تھا اور تل دھرنے کو جگہ نہ تھی۔ آس پاس کی عمارتوں کی چھتوں پر بھی لوگ چڑھے ہوئے تھے اور فٹ بال میچ دیکھنے میں مصروف تھے۔ اچانک ایک ٹیم کی فتح کے شادیانے بجنے لگتے ہیں اور تماشائیوں کا جوش و خروش عروج کو پہنچ جاتا ہے۔ ملکی و غیر ملکی سیاح بھی اس کھیل سے لطف اندوز ہورہے تھے۔ اچانک  گنگوپی نہر کے عقب میں واقع ہوٹل کی چھت سے شکست خوردہ ٹیم کے حامیوں کی جانب سے پتھراو شروع ہوگیا۔ لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی ۔ ہر طرف ہٹو بچو کی صدائیں بلند ہوگئیں۔ان گناہگار آنکھوں نے کئی معصوم بچوں کو عوام الناس کے قدموں تلے چلاتے ہوئے دیکھا۔ اگر ان کے والدین ساتھ نہ ہوتے تو شاید ان کی معصوم جانیں قفس عنصری سے پرواز کر جاتیں اور زبانِ حال سے کہہ رہی ہوتیں۔ بِاَیِّ ذَنبٍ قُتِلَت۔۔۔ مجھے کس جرم میں قتل کردیا گیا۔۔

ملکی سیاح جو  پاکستان کے امن و امان کی مخدوش صورتحال کے  عادی تھے، شاید اتنے پریشان نہیں ہوئے ہونگے۔ لیکن وہ غیر ملکی سیاح جو اس صورتحال کیلئے بالکل تیار نہیں تھے، بوکھلا گئے تھے۔ انہیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا ہورہا ہے۔ اتنے میں آنسو گیس فائر ہو نے لگے۔ میں جب  چشمہ بازار سے گنگوپی کی طرف جانے لگا تو ایک ناقابلِ یقین منظر گراونڈ میں دیکھا۔ تقریباً آٹھ دس نوجوان گراونڈ سے اوپر کی جانب میونسپل لائبریری کے آس پاس  موجود افراد پر پتھراو کر رہے تھے۔ اور گراونڈ میں ہی تقریباً پندرہ بیس کے قریب سکیورٹی فورسز کے نوجوان ٹہل رہے تھے۔ ان چند انگشت شمار نوجوانوں کو گرفتار کرنے کے بجائے وہ اوپر بازار کی جانب شیلنگ کررہے تھے۔ صاف پتہ چل رہا تھا کہ ان چند نوجوانوں کو پکڑنے کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔ ورنہ ڈرامہ جلدی ختم ہوجانا تھا۔

بدترین شیلنگ سے بچنے کیلئے میں حسینی مسجد والی گلی میں گھس گیا تو پتہ چلا کہ وہاں تو گراونڈ سے زیادہ دھواں ہے۔ میرے دل پر اس وقت رنج و الم کے پہاڑ ٹوٹ پڑے جب میں نے آس پاس کے گھروں میں آنسو گیس کی وجہ سے بلکتے بچوں کی آوازیں  سنیں  جبکہ انکی مائیں خود کھانستی ہوئی دلاسہ دے رہی تھیں کہ بیٹا کچھ نہیں ہوا۔ ابھی سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔

اس ساری کہانی کے پیچھے مجھے دو عوامل نظر آرہے ہیں۔ جو اس ناخوشگوار واقعے کے ذمے دار ہیں۔

پہلا عامل: قانون نافذ کرنے والے ادارے، جو ہر سال ایسے مقابلوں کے فائنل میں پیش آنے والے ناخوشگوار واقعات سے  واقف ہونے کے باوجودسدباب کیلئے خاطر خواہ اقدامات نہیں کرتے۔اگر ایک دفعہ چند شرپسندوں کو پکڑ کر سبق سکھائیں تو شاید آئندہ پھر کسی کی ایسی جرات نہ ہو۔

دوسرا عامل: سپورٹس مین سپرٹ اور سماجی بلوغت کا فقدان ہے۔ ایسے میچز کم و بیش تمام شہروں میں ہوتے ہیں ۔ لیکن میچ کے فیصلے کے بعد کھلاڑی ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں، ہاتھ ملاتے ہیں۔ اور نہایت خوشگوار اختتام ہوتا ہے۔ کیونکہ ان میں ہار اور جیت دونوں صورتوں میں خود کو قابو میں رکھنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ اسی کو سپورٹس مین سپرٹ کہتے ہیں۔ جسکا سکردو کی ٹیموں اور تماشائیوں میں شدید فقدان پایا جاتا ہے۔ پتھراو گالم گلوچ اور اس جیسی اوچھی حرکتیں سماجی عدم بلوغت کی علامات ہیں۔ تعلیم و تربیت کی کمی اس کی بنیادی وجہ ہے۔

نہایت افسوس کے ساتھ عرض کرتا ہوں کہ سکردو اور دیگر شہروں کے تعلیمی اداروں میں بلتستان سے تعلق رکھنے والے جتنے  محنتی طلباء زیر تعلیم ہیں ان میں آپ کو سکردو شہر سے تعلق رکھنے والے خال خال ہی نظر آئیں گے۔ زیادہ تر کا تعلق کھرمنگ، خپلو، روندو اور شگر وغیرہ سے ہونگے۔ والدین کو بھی اسکی فکر نہیں ہے۔ جس کا نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ سکردو سنٹر سے تعلق رکھنے والے طلباء تعلیم چھوڑ کر غلط دوستوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا شروع کردیتے ہیں۔ اور ایک جاہل اور غیر تربیت یافتہ سماج وجود میں آجاتا ہے۔ جو علاقے کے امن و امان کو داو پہ لگادیتے ہیں۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ جن غیر ملکی سیاحوں کو اندھا دھند شیلنگ نے بوکھلا دیا تھا۔ وہ جاکر پاکستان سفر کی کہانی کیسے بیان کریں گے۔ وہ اور ان کے دوست اگلی دفعہ پاکستان آتے ہوئے دس دفعہ نہیں سوچیں گے؟؟ کیا ایسے واقعات بطور انسان (مسلمان تو دور کی بات) ہمیں زیب دیتے ہیں؟ والدین اور دانشوروں کیلئے یہ سانحہ ایک سوال چھوڑ گیا ہے۔ ہمارا معاشرہ کس طرف جارہا ہے؟ جب یہ نوجوان معاشرے کی قیادت سنبھالیں گے تو معاشرے کو کس طرف لے جائیں گے؟ اگر ابھی ان باتوں پر سنجیدگی سے غور نہ کیا گیا تو  پھر مستقبل میں بھیانک نتائج  کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔