موجود قوانین میں نیٹکو کو گندم سپلائی کا براہِ راست ٹھیکہ دینے کی گنجائش نہیں تھی، وزرا کا پریس کانفرنس سے خطاب

موجود قوانین میں نیٹکو کو گندم سپلائی کا براہِ راست ٹھیکہ دینے کی گنجائش نہیں تھی، وزرا کا پریس کانفرنس سے خطاب

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت (پ ر) صوبائی وزیر اطلاعات، منصوبہ بندی و ترقی، اقبال حسن، وزیر سیاحت فداخان اور پارلیمانی سیکریٹری قانون اورنگزیب ایڈوکیٹ نے گندم بحران سے مطلق مشترکہ پریس کانفرس کرتے ہوئے کہا ہے کہ کابینہ کے گزشتہ اجلاس میں نیٹکو کو براہ راست گندم کا ٹھیکہ دینے کا فیصلہ کرتے ہوئے ایک کمیٹی بنائی گئی تھی ۔کمیٹی کی سفارشات کے مطابق موجودہ قوانین میں اس بات کی گنجائش موجود نہیں تھی کہ براہ راست نیٹکو کو ٹھیکہ دیا جائے ۔اس لئے گندم کی ترسیل کا ٹینڈر کیا گیا ،جس میں نیٹکو ، NLC اور سید فرین مختلف سٹیشنوں کے لئے شارٹ لسٹ ہوئے۔ نیٹکو نے 15لاکھ بوریاں پاسکو سے اسلام، 11لاکھ بوریاں پاسکو سے جی بی اور چار لاکھ پچاس ہزار بوریاں سکردو پہنچانی تھی۔ باقی دوسرے ٹھیکیداروں NLCاور سید فرین کو دئیے گئے۔

پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صوبائی وزیر اطلاعات اقبال حسن نے کہا کہ یہاں ایک بات کی وضاحت بے حد ضروری ہے کہ اس وقت پورے ملک میں 9 زون اور 200سینٹر ہیں جہاں سے گندم اٹھائی جاتی ہے۔اس کا طریقہ کار یہ ہے کہ سب سے پہلے منسٹری آف فنانس گندم کی ریلز منسٹری آف فوڈ سیکیورٹی کو دیتا ہے۔ وہاں سے وہ پاسکو کو مطلع کرتا ہے اور پاسکو 9زونز اور 200سینٹرز میں سے کوئی بھی سینٹر سے گندم اٹھانے کے حوالے سے محکمہ خوراک جی بی کو مطلع کرتا ہے پھر محکمہ خوراک ، نیٹکو کو ریلز کی کاپی فراہم کرتا ہے اس کے بعد محکمہ خوراک اور نیٹکو سٹاف متعلقہ جگہ پہنچ جاتے ہیں۔ لوڈنگ ان لوڈنگ کے لئے مزدوروں اور ٹرکوں کا انتظام کیا جاتا ہے۔ اس سارے عمل میں تقریبا 15سے 20دن لگ جاتے ہیں۔اس موقعے پر صوبائی وزراء کا کہنا تھا کہ گزشتہ دنوں گندم بحران کی ایک اہم وجہ یہ قانونی پیچیدہ عمل بھی تھا۔لیکن گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت نے فورا اس کا نوٹس لیا۔ اور چیف سیکرٹری گلگت بلتستان کی سربراہی میں ایک میٹنگ ہوئی۔جس میں گندم بحران کے فوری حل کے لئے سیکرٹری ہوم ،سیکرٹری ایکسائز،سیکرٹری ایجوکیشن، سیکرٹری فوڈ اور کمشنر گلگت ریجن پر مشتمل ایک کمیٹی بنائی گئی۔اس کمیٹی نے اپنی سفارشات 15اگست 2017کو پیش کیں۔ جس کے مطابق نیٹکو کو اختیار دیا گیا کہ وہ ضابطہ اور قانون کے مطابق بذریعہ ٹینڈر کرایہ پر ٹرک حاصل کر سکتا ہے یہ 22ویلر ٹرک ہوں گے۔جو 600سے زائد بوریاں اٹھانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔اس کا ٹیندررواں ماہ 28اگست کو اوپن ہو رہے ہیں۔۔باقی 45دنوں تک پاسکو سے اسلام آباد کے لئے نیٹکو کے لئے منطور کردہ ریٹ پر 2لاکھ 51ہزار بوریاں سید فرین اور ایک لاکھ بوریاں NLCکو دیا گیا۔ جس میں سے آج کی تاریخ تک سید فرین نے 75ہزار بوریاں اسلام آباد اور35000بوریاں جی بی پہنچائی ہیں، جبکہ NLCنے 27603پاسکو سے اسلام آباد اور 15ہزار بوریاں اسلام آباد سے جی بی پہنچائی ہیں۔گلگت بلتستان کے ایسے دور افتادہ علاقے جو شدید برف باری کی وجہ سے سال کے کچھ مہینے ملک کے دیگر حصوں سے کٹے رہتے ہیں۔ایک لاکھ80ہزار بوریوں کی ریلز آج کل میں آ جائے گی۔اور ان کی ترسیل کا کام بھی سید فرین اور NLCکے پاس ہے۔نیٹکو نے پاسکو سے اسلام آباد تک 72 ہزار بوریاں پہنچائی ہیں۔ اور اسلام آباد سے جی بی کے مختلف علاقوں کے لئے 72ہزار بوریاں پہنچائی ہیں۔اس کے ساتھ ساتھ نیٹکو کو مزید استحکام اور گندم کی رفتار کو مزید تیز تر بنانے کے لئے10نئے 18ویلر ٹرک خریدے جا چکے ہیں ، اور مزید 10نئے ٹرک اگلے دو ماہ کے اندر نیٹکو کے کارگو بیٹرے میں شامل ہوں گے۔ اس طرح نیٹکو کے کارگو بیٹر ے میں 150سے زائد گاڑیاں ہوں گی۔ان کہ مذیدکہنا تھا کہ اس وقت گلگت بلتستان میں گندم کا کوئی بحران نہیں ہے۔ اور تقریبا 65سے70ہزار بوریاں محکمہ خوراک گلگت بلتستان کے گوداموں میں موجود ہے۔

آج کی پریس کانفرنس کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ آپ کی وساطت سے عوام کو موجودہ صوبائی حکومت کی جانب سے گندم کی بروقت ترسیل کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا جائے ۔اس موقع پر سیکریٹری انفارمیشن فدا حسین ، ایم ڈی نیٹکومحمد حسین،ڈائریکٹر محکمہ خوراک اکرام و دیگر بھی موجود تھے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔