ضلع غذر میں واقع آثار قدیمہ کا کوئی والی اور وارث نہیں، یاسین، گوپس اور گاہکوچ میں واقع قلعے کھنڈرات بن رہے ہیں

ضلع غذر میں واقع آثار قدیمہ کا کوئی والی اور وارث نہیں، یاسین، گوپس اور گاہکوچ میں واقع قلعے کھنڈرات بن رہے ہیں

64 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

غذر (دردانہ شیر ) غذر میں موجود آثار قدیمہ حکومت کی عدم توجہی کی وجہ سے لاوارث ہوگئے، 1805میں انگریزوں کے دور میں تعمیر ہونے والا گوپس فورٹ کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے جبکہ یاسین فورٹ اور گاہکوچ فورٹ کی بھی مناسب دیکھ بال نہ ہونے سے یہ قیمتی اثاثے آہستہ آہستہ مہندم ہورہے ہیں سینگل میں انگریزوں کے دور میں تعمیر کیا جانے والا ہسپتال جوکہ علاقے کا قیمتی آثاثہ تھا محکمہ تعمیرات عامہ نے اس قیمتی آثاثہ کو بچانے کی بجائے اس کونامعلوم وجوہات کی بنا پر مسمار کر دیا جس سے یہاں کے عوام اور یہاں آنے والے سیاح ایک یادگار فن تعمیر کو دیکھنے سے محروم ہوگئے دوسری طرف گوپس فورٹ جس کی تعمیر1805میں برٹش دور حکومت میں ہوئی تھی اب اس قیمتی آثاثے کی بھی دیواریں گر گئی ہیں جبکہ فورٹ کے اندر تعمیرات بھی کھنڈرات کامنظر پیش کر رہی ہے دوسری طرف یاسین اور گاہکوچ فورٹ بھی خستہ حالی کا شکار ہیں اگر حکومت نے ہمارے یہ تاریخی آثاثوں کو نہیں بچایا تھا علاقے کی تاریخ ہی مٹ جائیگی اس حوالے سے علاقے کے تینوں ممبران قانون سازاسمبلی بھی خاموش ہیں دوسری طرف علاقے کے یہ قدیم عمارتیں اہستہ اہستہ زمین بوس ہورہی ہے جبکہ سینگل گاؤں میں انگریزوں کے دور میں تعمیر ہونے والا ہسپتال کی پوری بلڈنگ ہی محکمہ تعمیرات نے مسمار کرکے علاقے کی تاریخ کو ہی مٹانے کی کوشش کی ہی جبکہ آغاخان کلچر کی جانب سے اس ہسپتال کے ڈاکٹروں کے کوارٹروں کی مرمت کرکے اس قیمتی اثاثے کو بچایا مگر ہسپتال کی بلڈنگ نامعلوم وجوہات کی بنا پر محکمہ تعمیرات عامہ نے مسمار کر دیا مگر اعلی حکام کو اسبارے میں پتہ ہونے کے باوجود بھی خاموش ہیں اس طرح اگر اس قیمتی ورثا کی حفاظت نہ کی گئی تو علاقے میں موجود دیگر ایسے قیمتی تعمیرات جن میں گوپس فورٹ یاسین فورٹ گاہکوچ فورٹ ہاکس پل اور درجنوں ایسے فن تعمیر ہیں جن کو انگریز دور میں بنایا گیا اج اس قیمتی اثاثے کو نہ بچایا گیا تو علاقے کی تاریخ ہی مٹ جائیگی

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔