سازش کے تحت دیامر ڈویژن کو نظر انداز کیا جارہا ہے، دیامر کے عوام کو جن بھوت بنا کر پیش کیا جاتا ہے، حاجی جانباز

سازش کے تحت دیامر ڈویژن کو نظر انداز کیا جارہا ہے، دیامر کے عوام کو جن بھوت بنا کر پیش کیا جاتا ہے، حاجی جانباز

15 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس(شفیع اللہ قریشی)صوبائی وزیر زراعت و لائیو سٹاک گلگت بلتستان حاجی جانباز خان نے کہا ہے کہ ایک منظم سازش کے تحت دیامر ڈویژن کو نظر انداز کیا جارہا ہے دیامر ڈویژن کے عوام کو جن بھوت کے طور پر پیش کرکے اعلیٰ شخصیات کو سکردو اور گلگت سے واپس کیا جاتا ہے ڈویژن کے منتخب ممبران کو اہمیت ہی نہیں دی جارہی ہے جبکہ دیامر ڈویژن کے مقابلے میں ضلع کھرمنگ،شگر ،نگر اور ہنزہ کے ضلعوں کو اہمیت زیادہ دی جارہی ہے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ سی پیک میں سب سے زیادہ دو سو کلومیٹر سڑک دیامر ڈویژن سے گزرہی ہے دیامر بھاشہ ڈیم کے لئے اٹھارہ ہزار ایکڑزمین دیامر والوں نے مفت دی ہے صوبہ خیبر پختوانخواہ متصل صوبہ ہوتے ہوئے دہشتگردی دیامر والوں نے روکا ہوا ہے ۔لاکھوں سیاحوں کی گلگت بلتستان آمد و رفت ، شاہراہ قراقرم ،شاہراہ بابوسر ناراں اور شاہراہ بٹوگاہ سے گزرتے ہیں اوراہلیان دیامر گیٹ وے پر چوکیداری کی حثیت سے فرائض سرانجام دے رہے ہیں اور ہماری حکومت ہمیں نظر انداز کررہی ہے جو قبول نہیں ہے انہوں نے کہا کہ صوبائی کابینہ کے حالیہ اجلاس کے دوران صدر پاکستان ممنون حسین بھی اجلاس میں شریک تھے میں نے کھل کر یہی سب کچھ اظہار کیا ہے اس دوران صدر ممنون حسین نے یقین دہانی کرائی ہے کہ تمام شکایات کا ازالہ کیا جائے گا انہوں نے کہا کہ گلگت بلتستان میں تین ڈویژن ہیں تینوں ڈویژنوں کو برابر اہمیت ملنی چاہیے گلگت اور سکردو میں میڈیکل کالج بھی بن رہا ہے انجئینرنگ کالج بھی تعمیر کئے جارہے ہیں اور دیگر تمام بڑے بڑے منصوبے بھی وہاں تعمیر کئے جارہے ہیں جبکہ دیامر ڈویژن میں نئے منصوبے تو کجا پرانے منصوبوں پر بھی کام نہیں ہورہا ہے انہوں نے کہا کہ کیڈٹ کالج چلاس کی چاردیواری تک کا کام اس وقت ہوا ہے جب گذشتہ دور حکومت میں اپوزیشن لیڈر تھا لیکن اس کے بعد مذید ایک کمرہ تک تعمیر نہیں کیا گیا ہے جو کہ سراسرناانصافی اور زیادتی ہے انہوں نے کہا کہ سی پیک میں گلگت کا پچاس کلومیٹر ،نگر کا تیس کلومیٹر اور ہنزہ کا نوے کلومیٹر سٹرک گزررہی ہے جبکہ سی پیک میں دوسو کلومیٹر طویل سڑک دیامر ڈویژن سے گزرہی ہے ۔ایسے حساس ڈویژن کو نظرانداز کرنا زیادتی ہے انہوں نے کہا کہ اگر دیگر ڈویژنوں کی طرح دیامر ڈویژن کو بھی اہمیت دی جاتی ہے تو درست ہے ورنہ ہمیں نام نہاد ڈویژن کی ضرورت نہیں ہے ۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخواہ کے عوام نے کالا باغ ڈیم کی تعمیر کی اجازت نہیں دی لیکن اہلیان دیامر نے ملک کی خاطر تاریخی قربانیاں دیں اپنے آباؤاجداد کے قبرستان ،زرعی اراضی ،مساجد ،گھر سب کچھ ملک کے لئے قربان کیا لیکن ابھی تک واپڈااس اہمیت کو تسلیم نہیں کررہی ہے اور مقامی لوگوں کو ملازمتیں دینے کے لئے تیار نہیں ہے انہوں نے کہاکہ اب یہ سلسلہ بند ہونا چاہئیے ملک کی خاطر اہلیان دیامر ابھی تک خاموش بیٹھے ہیں ۔حالانکہ دیامر کے عوام کو سب سے زیادہ سمجھدار ہیں لیکن ملک کی ترقی کی خاطر خاموش ہیں اہلیان دیامر کی اپنی ایک تاریخ ہے ۔قبائلی رسم و رواج کی وجہ سے صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑتے ہیں اور جب صبر ناقابل برداشت ہوا تو بپھرے ہوئے دریا کے مانندہوتے ہیں ۔ اب بھی وقت ہے کہ اہلیان دیامر کی قربانیوں کو تسلیم کرتے ہوئے مقامی لوگوں کو ملازمتیں دی جائیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔