آثار قدیمہ تباہی کے دہانے پر۔۔زمہ دارکون؟

آثار قدیمہ تباہی کے دہانے پر۔۔زمہ دارکون؟

25 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

غذر اپنے نیلگوں آسمان ،سرسبز وشاداب ،چراگاؤں اونچی اونچی چوٹیوں اور وسیع و عریض میدانوں کی وجہ سے سیاحوں کی توجہ کامرکز رہا ہے سالانہ ہزاروں کی تعداد میں سیاح اس خوبصورت علاقے کا رخ کرتے ہیں ایک طر ف اس جنت نظیرخطے کی قدرتی خوبصورتی تو دوسری طرف یہاں پر انگریزوں کے زمانے میں بنائے گئے تعمیرات بھی یہاں آنے والے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے مگر دو سو سال قبل تعمیر ہونے والے ان قیمتی فن تعمیر کی مناسب دیکھ بال نہ ہونے سے اب آہستہ آہستہ یہ آثار قدیمہ مہندم ہوتے چلے جارہے ہیں دوسری طرف اس علاقے میں آنے والے سیاحوں کو آمدورفت کے سلسلے میں بھی سخت مشکلات کا سامنا ہے گلگت بلتستان کی صوبائی حکومت سالانہ خطے میں آنے والے سیاحوں کو اگر سہولتیں فراہم کر دیں تو یہ خطہ ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے اخباری بیانات تک تو صوبائی حکومت ٹورازم کے فروغ کے حوالے سے بلند بانگ دعوے کرتی ہے مگر عملی طور پر دیکھا جائے تو یہاں آنے والے سیاح خطے کی خستہ حال سڑکیں اور رہائش کی سہولتیں نہ ہونے پرسخت پریشان ہیں جبکہ محکمہ ٹورازم یہاں آنے والے سیاحوں کومعلومات تک فراہم نہیں کرتی اگر یہاں انفارمیشن سینٹر کا قیام عمل میں لایا جائے اور یہاں کے پرٖفضا مقامات اور آثار قدیمہ کے حوالے سے یہاں آنے والے سیاحوں کو آگاہ کیا جائے تو گلگت بلتستان کا یہ خوبصورت خطہ دیکھنے لاکھوں کی تعداد میں سیاح اس علاقے کا رخ کرسکتے ہیں صوبے کے دیگر علاقو کی طرح غذر میں بھی ٹورازم کے حوالے سے حکومت کی توجہ نہ ہونے کے برابر ہے اس وقت صورت حال یہ ہے کہ غذر میں انگریزوں کے زمانے میں بنائے گئے فورٹ کھنڈرات میں تبدیل ہوگئے ہیںیہ آثار قدیمہ حکومت کی عدم توجعی کی وجہ سے لاوارث ہوگئے ہیں 1805میں انگریزوں کے دور میں تعمیر ہونے والا گوپس فورٹ بھی کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے جبکہ یاسین فورٹ اور گاہکوچ فورٹ کی بھی مناسب دیکھ بال نہ ہونے سے یہ قیمتی آثاثے آہستہ آہستہ مہندم ہورہے ہیں سینگل میں انگریزوں کے دور میں تعمیر کیا جانے والا ہسپتال جوکہ علاقے کا قیمتی آثاثہ تھا محکمہ تعمیرات عامہ نے اس قیمتی آثاثہ کو بچانے کی بجائے اس کونامعلوم وجوہات کی بنا پر مسمار کر دیا جس سے یہاں کے عوام اور یہاں آنے والے سیاح ایک یادگار فن تعمیر کو دیکھنے سے محروم ہوگئے دوسری طرف گوپس فورٹ جس کی تعمیر1805میں برٹش دور حکومت میں ہوئی تھی اب اس قیمتی آثاثے کی بھی دیواریں گر گئی ہیں جبکہ فورٹ کے اندر تعمیرات بھی کھنڈرات کامنظر پیش کر رہی ہے اس طرح یاسین اور گاہکوچ فورٹ بھی خستہ حالی کا شکار ہیں اگر حکومت نے ہمارے یہ تاریخی آثاثوں کو نہیں بچایا توعلاقے کی تاریخ ہی مٹ جائیگی اس حوالے سے علاقے کے تینوں ممبران قانون سازاسمبلی کی خاموشی بھی حیران کن ہے دوسری طرف علاقے کے یہ قدیم عمارتیں آہستہ آہستہ زمین بوس ہورہی ہے جبکہ سینگل گاؤں میں انگریزوں کے دور میں تعمیر ہونے والا ہسپتال کی پوری بلڈنگ ہی محکمہ تعمیرات نے مسمار کرکے علاقے کی تاریخ کو ہی مٹانے کی کوشش کی اس حوالے سے علاقے کے عوام نے احتجاج بھی کیا مگر متعلقہ حکام خاموش رہے اس طرح علاقے کا یہ قیمتی آثاثہ کو چندآفراد نے مٹی کا ڈھیر بنا دیاجبکہ آغاخان کلچربورڈ کی جانب سے سینگل ہسپتال میں ڈاکٹروں کے رہائشی مکانات کی مرمت کرکے اس قیمتی اثاثے کو بچایا ہے مگر ہسپتال کی بلڈنگ نامعلوم وجوہات کی بنا پر محکمہ تعمیرات عامہ نے مسمار کر دیا مگر اعلی حکام کو اسبارے میں پتہ ہونے کے باوجود بھی خاموش ہیں اس طرح اگر اس قیمتی ورثے کی حفاظت نہ کی گئی تو علاقے میں موجود دیگر ایسے قیمتی تعمیرات جن میں گوپس فورٹ ،یاسین فورٹ ،گاہکوچ فورٹ اور ہاکس پل کے علاوہ درجنوں ایسے فن تعمیر ہیں جن کو انگریز دور میں بنایا گیا آج اس قیمتی آثاثے کو نہیں بچایا گیا تو علاقے کی تاریخ ہی مٹ جائیگی غذر میں ایسے تاریخی مقامات تھے جوکہ یہاں کی تاریخ کا ایک اہم حصہ رہے ہیں جس میں ہر ایک مقام کی پوری ایک تاریخ ہے مگر ہم آہستہ آہستہ اپنی اس تاریخ کو زندہ کرنے کی بجائے اپنی تاریخ کو مٹانے میں مصروف ہوگئے ہیں چونکہ کسی بھی قوم کی اگر ثقافت ختم ہوتو ایسی قومیں مٹ جاتی ہے ہمیں اپنے اس قیمتی ورثہ کو بچانا ہوگا صوبائی وزیر سیاحت گلگت بلتستان فدا خان فدا جس کا تعلق بھی غذر سے ہے غذر میں موجود ہمارے ان قیمتی اثاثوں کو بچانے اور ان کو ان کی اصلی شکل میں دوبارہ لانے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہوگاچونکہ بتایا جارہا ہے کہ وزیر موصوف نے ٹورزام کی وزارت اپنی پسند سے لی ہے اوروہ گلگت بلتستان میں سیاحت کے شعبے میں اہم تبدیلیاں لانا چاہتے ہیں اس لئے ان سے توقع ہے کہ وہ غذرمیں موجود آثارقدیمہ کا بچانے میں اپنا بھر پور کردار ادکرینگے اس وقت غذر میں چند ایسے تاریخی مقامات بچ گئے ہیں اگر گلگت بلتستان کی حکومت کے پاس ان تاریخی مقامات کو آصلی شکل میں لانے کے لئے پیسوں کی کمی ہے تو ان کی مرمت کاکام آغاخان کلچر بورڈ کے حوالے کردیں تاکہ یہ ادارہ ہمارے ان قیمتی آثاثے کو بچا سکے ورنہ حکومت کی اس طرح خاموشی رہی تو غذر میں موجود یہ آثار قدیمہ کا نام ونشان مٹ جائیگا اور تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author