زندگی کیا ہے؟؟؟

زندگی کیا ہے؟؟؟

36 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

زندگی خوبصورت ہے، کس نے کہا؟ نہ معلوم یہ جملہ کس سمت سے میرے کانوں سے ٹکرایا تھا مگر اٹھنے والے قہقہے کی آواز یقینا میرے دِل کی تھی، اس استہزائیہ قہقہہ کی حقیقت کا واقف حال صرف میں ہی ہوں کیونکہ زندگی کی خوبصورتی ایسی ہوتی ہے کسی ننھے وجود کو اپنی ننھی حسرتوں کے مزار پر آنسو بہاتے دیکھتا ہے تو دِل پوچھتا ہے کہ ان پرنم آنکھوں میں تمہاری خوبصورت زندگی کی قوس و قزاح کہاں ہے؟ عزت کی بھیٹ چڑے کسی خود دار کی انا کو کسی کمینے کے ہاتھوں مجروع ہوتے دیکھتا ہے تو مجھ سے سوال کرتا ہے کہ غربت کی زنجیر پہنے ہوئے خوبصورت زندگی کا پنچھی کیسے پرواز کرتا ہے؟ کسی بے کس کو جب کسی کم ظرف سے اپنی مجبوری کا اخراج گالیوں کی صورت میں ملتے دیکھتا ہے تو پوچھتا ہے کہ مجبوری کے انگاروں پر برہنہ پا چلتے ہوئے زندگی کا حسن کیا جھلس نہیں جاتا؟ سفارش کی ڈگری سے محروم کسی قابل جوان کے گلے میں ناکامی کا طوق دیکھتا ہے تو پوچھتا ہے کہ محرومی کی اذیت زندگی کے خوبصورت چہرے پر جھریوں کی بھیک نہیں ڈالتی۔۔۔؟ کسی بے گناہ کو معتوب دیکھتا ہے تو پوچھتا ہے کہ ناانصافی کا زہر زندگی کی خوبصورتی کو کیا زنگ آلود نہیں کرتا۔۔۔؟ خوبصورتی کو پوجنے والی دنیا میں جب کوئی اپنے خوبصورت دِل کے ساتھ تنہا رہ جاتا ہے تو یہ پوچھتا ہے کہ خوبصورتی کو معیارِ محبت ٹھہرانے والے اور گرداننے والے زندگی کے چہرے کو کیا گہنا نہیں دیتے۔۔۔؟ کسی ماں کو اپنے جوان بیٹے کے لاشے پر بین کرتی دیکھتا ہے تو پوچھتا ہے کہ آہ و فغان جب زندگی کے چہرے پر مدفن ہوتی ہے تو کیا چہرہ سندر لگتا ہے۔۔۔؟

ایسے انگنت سوالات ہیں جو میرا دِل کئی بار مجھ سے پوچھتا ہے، وہ میرا دامن تھامے آس و نراس کی کیفیت میں کھڑا رہتا ہے کہ شاید میں اس کو باور کرانے میں کامیاب ہوجاؤں کہ زندگی واقعتا حسین و جمیل ہے، اتنی ہی اُجلی ہے جتنے کسی پری کے اُجلے پر، اتنی ہی معصوم ہے جتنا کوئی شیر خوار بچہ، اتنی ہی سریلی ہے جتنی کسی آبشار کی آواز، اتنی ہی پرسکون ہے جتنی پہاڑوں کے دامن میں کوئی جھیل، مگر میرا دِل میرے دامن کے چوکھٹ سے بے نیل و خرام لوٹ جاتا ہے اور میں ایسا کرنے پر مجبور ہوں، میرے پاس ان سوالوں کا کوئی جواب نہیں، میں ہر سو نظر دوڑاتا ہوں کہ دِل کی تشنگی کو کسی امید کے سمندر سے ختم کر ڈالوں لیکن مجھے تو امید کا قطرہ تک نہیں ملتا کجا سمندر؟ میں زندگی کا ہر ورق گھنگالتا ہوں کہ شاید کوئی بجھتا ہوا دیا مل جائے جو اس کے سوالوں سے پھیلنے والی تاریکی کو چیر ڈالے مگر میری تلاش بے سود اور ہر کوشش بے کار۔

ہاں میری تلاش اب بھی جاری ہے، شاید میں زندگی کے خوبصورت ہونے کا سچ پالوں اور اپنے دِل کے سامنے سرخرو ہو سکوں، خدا کرے کہ ایک دن آئے جب میں اپنے دِل کے قہقہہ کو سرزنش کروں اور اسے بتاؤں کہ اے دِلِ نادان، دنیا کہتی ہے کہ زندگی خوبصورت ہے کیونکہ زندگی خوبصورت نہیں بے انتہا خوبصورت ہے، لیکن اس دن تک میری طرح شاید تم کو بھی زندگی کی خوبصورتی کا پتہ نہیں ہوگا کیونکہ

مشکل سفر کو دیکھ کے گھبرا گئے ہو کیوں

تم کو ابھی پتہ ہی نہیں زندگی ہے کیا

اس بے حسی نے چھین لی ہر دِل کی روشنی

اندھے کو کیا بتائےکہ یہ زندگی ہے کیا

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

(میری دوسری کتاب’’کلیاتِ کریمی‘‘ کی پہلی جلد سے ایک ورق)

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments