محکمہ تعمیرات دیامر کو کیسے ٹھیک کیا جاسکتا ہے؟

محکمہ تعمیرات دیامر کو کیسے ٹھیک کیا جاسکتا ہے؟

14 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

محمد قاسم
(صدر دیامر پریس کلب)

ان سے یہ میری پہلی طویل نشست تھی. ان کے خاندانی خدمات سے گلگت بلتستان کا کوئی بھی شہری انکاری نہیں. نرم لہجہ’خوش اخلاق’ شریں مزاج’صبر و استقامت’محکمانہ تجربہ’بولے تو موتی بکھرےاورخدا ترسی ان کے خاندانی زندگی کا بنیادی اصول ہے.

انکے دفتر کے اندر ملاقات کا ماحول اچھا خاصا گرم اور مایوس کن رہا.

انہوں نے اپنے محکمے کے کلریکل سٹاف کی ٹهیکداروں سے ملی بھگت .کمیشن خوری اور کام چوری کی داستانیں خوب گرج چمک کے ساتھ بیان کرتے رہے. اور ہم خاموشی سے سنتے رہے. اور انتساب میں سر ہلاتے رہے.

چیف انجینئر بشارت اللہ

انہوں نے محکمے کی محکمانہ غفلت لاپرواہی کے واقعات اتنے دردناک انداز میں بیان کیا کہ آسمان بھی رو پڑا.اور چلاس کا گرم موسم ایک دم ابر آلود ہو گیا.مگر ساتھ بیٹھے دو کیشیر صاحبان کے ماتھے پر بل تک نہیں آئے. اور اپنے باس (Boss)کی باتوں کو قصہ پارینہ سمجھ کر مکمل نظر انداز کرتے رہے.جیسے کوئی بھینس کے آگے بین بجا رہا ہے. ہاں دل ہی دل میں ہمیں کوستے اور نہ جانے کون کون سے القابات سے نوازتے رہے ہونگے..

وہ بولے کہ کہ محکمے کے اندر کلریکل سٹاف کی شکل میں موجود کالی بھیڑیاں اب سفید ہاتھی بن چکے ہیں. بااثر سیاسی مگرمچھ سے تعلقات کے بنا پر ٹیهکداروں سے ملی بھگت کر کے محکمے کے قواعد و ضوابط کی دھجیاں اڑائی جاتی ہیں.اور صرف اپنی کمیشن کی خاطر نہ جانے کیا کیا کالے دھندے کرتے ہیں. ..

وہ چند لمحوں کے لئے روکے اور خاموشی کے بعد دراز سے سگریٹ نکال کر نوشی کی اور پہلے کش کے دھواں کے ساتھ ہی محکمے کی سست روی’کریپشن کا ایک اور پنڈورابکس کیا کھولا. کہ میرے اندر کے تمام سوالات اپنی موت آپ مر گئے. اور سن سن کے کان سن ہوگئے. زبان لڑکھڑا گئ. ہاتھ کاپنے لگے.دل کی دھڑکن کبھی تیر تو کبھی سست روی کا شکار ہونے لگی. الہی آخر یہ ماجرا کیا ہے. اپنے ہی علاقے کے کلرک تعمیر وترقی کا لبادہ اوڑھ کے چند ٹکو کے خاطر ہمارے روش مستقبل کو کیوں تاریک کرنے میں تلے ہوئے ہیں.

انہوں نے فرمایا کہ اس علاقے کا سپوت ہو نے کے ناطے جی تو کر رہا ہے کہ بہت کچھ کروں

تعمیر و ترقی میں رکاوٹ ڈالنے والوں کے ہاتھ کاٹ دوں

ہر کام میرٹ پر کروں.

کام کام اور بس کام کروں

ہر طرف ترقی کا راج ہو.

ہر کام بروقت ہو.

مگر پھر اپنے ہی گراتے ہیں نشیمن پہ بجلیاں کلریکل سٹاف آڑے آ جاتے ہیں اور میں بے بس ہو جاتا ہوں. …

میں نے تعمیر وترقی کے اس بڑے محکمے میں اندھیر نگری اور چوبٹ راج کیوں کا سوال کیا

تو کہنے لگے

محکمہے کے ذمےدار بے حس ہو چکے ہیں

سزا و جزا کا دور دور تک نام و نشان نہیں

حوصلہ افزائی اور سر کوبی کرنے کا تصور مر چکا ہے.

انہوں نے مزیدکہا کہ اگر

کلریکل سٹاف کا گیرہ تنگ نہ کیا جائے

ان کو ضلع بدر نہ کیا جائے

سزا جزا کے نظام کو بہتر نہ کیا جائے

سرکاری خزانے کو لوٹ مار کرنے والے کا بے رحمانہ محاسبہ نہ کیا جائے

تو ترقی کا پہیہ جام ہوگا اور علاقے میں مزید گهپ اندھیروں کا راج ہوگا..

سوال کیا کہ ان سفید ہاتھیوں کو آہنی پنجرے میں کون بند کرے گا.

کہا کہ ایک نسخہ کیمیا کو آخری دوا کے طور پہ استعمال کرنے کی سعی میں ہوں. اپنے رب سے پرامید ہوں کہ حلق سے اترتے ہی اکسیر ثابت ہوگی. اور ہم نے بھی چیف انجینئر دیامر استور ڈویژن بشارت اللہ خان سے وعدہ کیا کہ اس کار خیر میں دیامر پریس کلب کے صحافی آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔