معصوم شرارتوں کی واپسی، کچھ یادیں، کچھ باتیں!

معصوم شرارتوں کی واپسی، کچھ یادیں، کچھ باتیں!

37 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آتی بہار کی وہ حسین رات تھی۔ موسم حد درجہ خوشگوار تھا۔ چودھویں کا چاند شہر قائد پر ضیا پاشی کر رہا تھا۔ اندھیرے کہیں دُور چھپے بیٹھے تھے اور اس فسوں خیز چاندنی میں ہم سلیمہ گارڈن کے بنگلوز میں مکان نمبر آر ۔ انتالیس کی چھت پر بچھے دودھیا بستروں پر نیم دراز ننھی آشا کا دل بہلاتے۔ وہ کبھی چاند کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اپنی توتلی زبان میں کہتی ’’پاپا! مون دیکھو مون۔‘‘ پھر ستاروں کی گنتی میں کھو جاتی اتنے میں کوئی جہاز فضا کو چیرتا ہوا گزرتا تو وہ اپنے ننھے ہاتھ اوپر اُٹھاکے اسے بائے بائے کہتی۔ یہ روز کا معمول ہوتا۔ ماما اور پاپا اس کو خوش رکھنے کی ہرممکن کوشش کرتے۔ باوجود اس کے وہ بور ہوتی اور کہتی پاپا ’’مجھے کھولو میں نے اذین کے ساتھ کھیلنا ہے۔‘‘ پہلے جب وہ تندرست تھی ہم روم میں بیٹھے ہوتے جونہی دروازہ کھلتا آشا باہر کی طرف بھاگ جاتی۔ اسے ہر وقت دروازے کے کھلنے کا انتظار رہتا۔ لیکن آپریشن کے بعد جب دروازہ کھلتا تو وہ یاس و حسرت سے ہماری طرف دیکھ کے نہ صرف خود روتی بلکہ ہمیں بھی رلا دیتی۔ اس کی جھیل جیسی آنکھوں میں روشنیاں کافور ہوگئی تھیں اور شوخ تبسم کہیں دُور جا چھپا تھا۔ یہ معصوم جان اور اس عمر میں آپریشن۔ اللہ مدد فرما۔ ننھی آشا کا تین مہینے پہلے آپریشن ہوا تھا جس کی وجہ سے وہ مسلسل تین مہینے پلستر میں ہونے کی وجہ سے بستر پر رہی تھی۔ آج ہسپتال میں ان کا آخری چیک اَپ تھا۔ ان کا پلستر بھی اُٹھایا گیا تھا۔

ایک بار پھر ان کی شرارتیں لوٹ آئی تھیں۔ اور سب سے اہم بات یہ کہ ان کے ڈاکٹر اورمیڈیکل رپورٹس کے مطابق وہ ابھی مکمل صحت یاب تھیں۔ اللہ پاک کا بڑا احسان ہے آج جب آشا کو لے کے ہم ہوسپٹل کی سیڑھیاں چڑھ کے کیفے ٹیریا کی طرف جا رہے تھے تو گویا میں تین مہینے پہلے کی دُنیا میں پہنچا تھا یہی سیڑھیاں اور راہداریاں ہی تو تھیں جن سے ہوتے ہوئے ہم آشا کو لے کر آپریشن تھیٹر کی طرف جا رہے تھے تو دل میں ہزار اندیشوں نے گھیرا ڈالا ہوا تھا اور ہر قدم پر ٹپ ٹپ میرے آنسو گر رہے تھے مجھے تو دُنیا جہاں کی کوئی خبر نہیں تھی۔ میری یہ کیفیت میرے ساتھ آئے ہوئے ڈاکٹر صاحب اور نرسوں نے بھی نوٹ کیا تھا۔ جبکہ میری مسز سوسن میرے بیٹے کو لے کے ہمارے ساتھ تھیں اور ان کی حالت بھی دیدنی تھی۔ اولاد کا غم کیا ہے یہ تو ہر صاحبِ اولاد بہتر جانتا ہے۔ مجھے ٹھوکر لگی تھی یا پریشانی اتنی بڑھ گئی تھی کہ تھیٹر کے دروازے سے اندر جاتے ہوئے میں اپنی توازن برقرار نہیں رکھ سکا تھا اور آشا کے اوپر گرگیا تھا۔ اور اگلے ہی لمحے میں اُسے اپنے بازوؤں میں سمیٹ چکا تھا۔ اس کےبالوں، پیشانی، رُخساروں، گردن کونسی جگہ ایسی تھی جہاں میں نے دیوانہ وار پیار نہ کیا ہو۔ موٹے موٹے آنسو میری آنکھوں سے ٹوٹ کر آشا کا دامن بھگو رہے تھے۔ تب ڈاکٹر صاحب نے مجھے تھاما تھا اور مجھے حوصلہ دیتے ہوئے کہا تھا ’’سر! اللہ بہتر کرے گا آپ پریشان مت ہوجائیے گا۔‘‘ آشا کو تھیٹر چھوڑ کے ہم کیفے ٹیریا کیسے پہنچے مجھے نہیں یاد۔ بس اتنا یاد ضرور ہے کہ ناشتے کی میز پر چائے کے ہر گھونٹ کے ساتھ آنسو کا قطرہ بھی شامل ہو رہا تھا۔ اور آشا کی شرارتیں، آپریشن تھیٹر، ڈاکٹرز، نرسیں سب ذہن کے سکرین پر نمودار ہوتے، پھر غائب ہوتے رہے تھے۔ ایک عجیب بے چینی تھی۔

وقت گرزتا رہا اور وقت کی دُھول میں زندگی بھی گزرتی رہی لیکن نہ جانے کیوں یہ تین مہینے ہمیں تین صدیاں لگنے لگے تھے۔ میرے رب کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں اس پر مجھے پورا یقین ہے۔ پھر آج جب آشا کو لے کر میں ڈاکٹر کے روم سے باہر آرہا تھا تو سوسن ننھے اذین کے ساتھ راہداری میں ہماری منتظر تھیں۔ میں نے سوسن کو مخاطب کیا تھا ’’سوسن! میں آپ کے لیے ڈھیروں خوشیاں لے کے آیا ہوں آپ کا دامن شاید انہیں سہار بھی نہ سکے۔ ہماری آشا بالکل ٹھیک ہیں اب۔‘‘ سوسن اذین کو لے کر کس بے قراری سے آگے بڑھی اور آشا سے لپٹ گئی تھیں۔ کتنے اشک بہے، کتنے آہوں نے دم توڑ دیا تھا۔ اندھیرے چھٹ گئے تھے اور ایک روشن سحر طلوع ہوچکی تھی۔ مقدر قوس و قزح جیسے حسین رنگ لیے ہمارے اوپر سایہ فگن تھا جس کی گنے چھاؤں تلے سرمدی گیتوں کے آغوش میں ہم نے خود کو محسوس کیا۔ میرے رب کا لاکھ لاکھ شکر کہ اس نے ہی تو اُمید دلائی ہے کہ ہر مشکل کے بعد ایک آسانی ہے۔ آج بھی وہی کیفے ٹیریا، وہی میز، وہی جگہ لیکن آشا اور ان کی معصوم شرارتوں کے ساتھ کتنا اچھا گزر رہا ہے۔

اب جبکہ میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں آشا تین بار موبائل مجھ سے چھین چکی ہے۔ معصوم شرارتیں ایک بار پھر عروج پر ہیں۔ ان کی شرارتوں سے بچتے ہوئے میں نے یہ تحریر کس طرح مکمل کی مجھے نہیں معلوم۔ اس لیے اس تحریر میں اگر آپ کو سقم نظر آئے تو درگزر فرمائیے گا۔ کیونکہ بعض دفعہ الفاظ نہیں احساسات اور جذبات بولتے ہیں۔ شاید آج کی اس تحریر میں بھی آپ کو احساسات و جذبات نظر آئے صرف الفاظ نہیں۔

۔۔۔۔۔۔

یہ تحریر میری دختر نیک اختر کی صحت یابی کے موقع پر قیام شہر قائد کے دوران لکھی گئی تھی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments