غذر کے بالائی علاقوں میں ٹراوٹ مچھلی کا غیر قانونی شکار جاری، حُکام خاموش تماشائی بنےبیٹھے ہیں

غذر کے بالائی علاقوں میں ٹراوٹ مچھلی کا غیر قانونی شکار جاری، حُکام خاموش تماشائی بنےبیٹھے ہیں

19 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

غذر (بیورو رپورٹ ) غذر کے بالائی علاقوں میں ٹراوٹ مچھلی کا غیر قانونی شکار جاری پھنڈر ،ٹیرو اور خلتی میں دکانوں اور ہوٹلوں میں بھی ٹرواٹ مچھلی فروخت ہورہی ہے مگر حکام مکمل طور پر خاموش ہیں نایاب مچھلی ٹراوٹ کی مناسب دیکھ بال اور اس نایاب نسل کو بچانے کی کوشش نہ کی گئی تو بہت جلد اس نایاب مچھلی کی نسل ختم ہوجائے گی اور اس مچھلی کا ذکر صرف کتابوں کی حد تک رہ جائے گاغذر مچھلی کے شکار کی اجازت ملنے کے بعد ایک طرف پانچ ہزار روپے ادا کرکے لائسنس لینے والے افراد ہیں تو دوسری طرف بغیر لائسنس افراد کی بڑی تعداد بھی دریا کے کنارے مچھلی کا شکار کرتے نظر آتی ہے جن افراد نے پانچ ہزار ادا کرکے لائسنس لیا ہے ان کا کہنا ہے کہ اگر بغیر لائسنس کے ہی شکار کرنا تھا تو ہم نے یہ لائسنس لیکر بڑی غلطی کی انھوں کے محکمہ ماہی پروری کے زمہ داران سے غیر قانونی شکار کرنے والے افراد کے خلاف سخت کارروئی کا مطالبہ کیا گلگت بلتستان کا ضلع غذر ایک ایسا علاقہ کے جہاں کی جھیلوں اور دریائے غذر میں ٹراوٹ مچھلی کی نسل بڑی تعدادمیں پائی جاتی ہے مگر محکمہ فشیریز کی طرف سے اس نایاب نسل کو بچانے کی مناسب دیکھ بال نہ ہونے کی وجہ سے ہر سال یہ نایاب مچھلی نایاب ہوتی جارہی ہے دس مارچ سے محکمہ فشریز نے باقاعدہ طور پر سات ماہ کے لئے لائسنس جاری کر دیا ہے اب تک درجنوں افراد نے پانچ ہزار روپے ادا کرکے لائسنس حاصل کر دیا ہے مگر دریا کے کنارے لائسنس لینے والے افراد کی تعداد کم بغیر لائسنس افراد کی تعداد زیادہ نظر آتے ہیں جبکہ ہوٹلوں میں بھی یہ نایاب مچھلی کھلے عام فروخت ہورہی ہے مگر زمہ دارن خاموش ہیں

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔