روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام پر اقوام متحدہ و ہیومن رائٹس کی خاموشی تشویش ناک ہے ،امبر حسین ایڈوکیٹ

روہنگیا مسلمانوں کے قتل عام پر اقوام متحدہ و ہیومن رائٹس کی خاموشی تشویش ناک ہے ،امبر حسین ایڈوکیٹ

20 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت بلتستان(پ ر) پاکستان پیپلز پارٹی گلگت بلتستان ویمن ونگ کی رہنما اور دی مشن ٹرسٹ کی چیئرپرسن امبر حسین ایڈوکیٹ نے روہنگیا میں مسلمانوں کی نسل کشی اور قتل عام پر گہرے غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ و دیگر عالم اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے اس صورتحال پر سرکاری طور پر احتجاج کرے اور ان کی توجہ اس جانب مبذول کراتے ہوئے برسوں سے جاری اس قتل عام کو رکوانے کی کوشش کرے۔ انہوں نے ان اطلاعات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے کہ میانمار کی سرکاری فوج بدھ بھکشو دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتے ہوئے روہنگیا کے بے گناہ اور نہتے مسلمانوں کا قتل عام کر رہی ہے اور صرف تین دن میں تین ہزار سے زائد مسلمان عورتوں بچوں اور دیگر لوگوں کو سرعام انتہائی بربریت سے قتل کر کے انسانیت کا خون بہایا جا رہا ہے مگر اقوام متحدہ اور یورپی یونین سمیت کوئی بھی ملک جو انسانی حقوق کی علم برداری کا دعویٰ کرتا ہے اس قتل عام کو رکوانے کے لیے میانمار کی حکومت سے باز پرس نہیں کر رہا نہ ہی انسانی حقوق کی تنظیوں نے کوئی آواز بلند کی ہے ۔امبرحسین ایڈوکیٹ نے بنگلہ دیش حکومت کے اس رویے پر بھی افسوس کا اظہار کیا ہے وہ زندہ بچ جانے والے مظلوم مسلمانوں جن میں خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد شامل ہیں ،اپنی سرحد میں داخل ہونے اور انہیں پناہ دینے سے جبراًروکے ہوئے ہے ۔پیپلز پارٹی کی رہنما نے حکومت پاکستان اور خاص طور پر دفتر خارجہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ پاکستان اپنے اسلامی جمہوریہ ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے اس معاملے کو اقوام متحدہ و دیگر عالمی اداروں کے سامنے اٹھانے کے بجائے خاموشی اور بے حسی اختیار کیے ہوئے ہے ۔پاکستان کے عوام اس معاملے میں حکومت کے کردار کو تشویش سے دیکھ رہے ہیں اور پاکستانی عوام کی تمام ہمدردیاں روہنگیا میں قتل و مظالم کا شکار ہونے والے اپنے مسلمان بھائیوں کے ساتھ ہیں انہوں نے توقع ظاپر کی ہے کہ اقوام متحدہ اس صورتحال کو فوری نوٹس لیتے ہوئے نہ صرف اپنے مبصرین کو میانمار بھیجے گا بلکہ سالمتی کونسل میں بھی اٹھائے گا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔