کیا اشرافیہ کی روش سے چھٹکارا ممکن ہے؟

کیا اشرافیہ کی روش سے چھٹکارا ممکن ہے؟

43 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: سبطِ حسن

شہناز اپنی چھ بہنوں میں سب سے بڑی ہے۔ سب سے چھوٹا ایک بھائی ہے۔ باپ نے ایک بیٹا پانے کے لئے چھ لڑکیاں پیدا کر لیں۔ شہناز کی چھ ماہ قبل ایک نکھٹو سے شادی کردی گئی۔ اس وقت شہناز کی عمر سترہ برس تھی۔ شادی کے پہلے مہینے میں شہناز امید سے ہوگئی اور اس کا خاوند اسے اس کے میکے چھوڑ گیا۔ پانچ مہینوں کے بعد اب وہ پھر نمودار ہوا ہے اور شہناز کو ساتھ لے جانے کے لئے اصرار کررہا ہے۔ باپ کا خیال ہے کہ شہناز کا خاوند نکھٹو ہی رہے گا۔ پہلے اس کی ماں محنت مزدوری کرکے اس کھلاتی تھی کیونکہ وہ مہنگا پتر ہے۔ اب اس کی بیوی گھروں میں کام کرکے اسے کھلائے پلائے۔ شہناز بخوبی سمجھتی ہے کہ اس کی زندگی اپنے خاوند کے ساتھ اسی ڈھنگ سے گزرے گی جو گذشتہ چھ مہینوں میں طے ہوچکا ہے۔ اسے اپنی دیگر پانچ بہنوں کا فکر ہے اور ان کی راہ میں رکاوٹ نہیں بننا چاہتی۔

شہناز، اس کی بہنیں، گھر والے اور سسرال جِس ٹھوس صورتحال میں زندہ ہیں، اس کو بنانے میں مجرد اقدار نے تحریک پیدا کی۔ شہناز کے باپ نے اسے اپنا نصب العین مانا اور اس سے جو راہنمائی ملی، اس کے مطابق ایک لڑکے کے لئے چھ لڑکیاں پیدا کرلیں۔ چونکہ کام نہ کرنے میں بڑائی ہے، جو کام نہیں کرتا وہی سردار اور رئیس ہوتا ہے۔ اس لئے شہناز کا خاوند، اپنی ماں کا لاڈلا ، کام نہیں کرسکتا۔ انہی اقدار نے لڑکی کو سمجھایا کہ تم، مردوں کی دنیا میں، مردوں کی خدمت کے لئے بنی ہو۔ تمہاری عافیت اور نجات اسی میں ہے کہ تم مردوں کو خوش رکھو۔ یہی اقدار ایک سیدھے سادے انسان کو ’’مرد‘‘ اور بھولی بھالی لڑکی کو’’عورت‘‘ بنا دیتی ہیں۔ مرد ظالم کی جگہ پر آ بیٹھتا ہے اور عورت مظلوم ہوجاتی ہے۔ دونوں، اقدار کے اسیر، اپنی زندگیاں، ان اقدار کی سرخروئی کے لئے بطور خام مال صرف کردیتے ہیں۔ دونوں ان اقدار کے شکار (Victim)ہیں۔

II

اقدار(Values) دراصل یقین کا درجہ رکھتی ہیں۔ انہی کی طے کردہ حدود میں رہتے ہوئے سیکھنے سکھانے کا سلسلہ طے ہوتا ہے۔ چونکہ یقین کا تعلق عقل سلیم یا سوال سے پیدا شدہ علم کے ساتھ نہیں ہوتا، اس لئے اس ضمن میں اقدار کو فروغ دینے والے افراد کے ساتھ وابستگی اہم ہوجاتی ہے۔ بڑی خاموشی اور تسلسل کے ساتھ اقدار گھر، معاشرے اور تاریخی ورثے کے ذریعے افراد میں جذب ہوجاتی ہیں۔ افراد کی ان اقدار کے ساتھ جذباتی وابستگی ہوتی تھی۔ چونکہ انہی اقداری حسیات سے کسی بھی انسان کے شعور ذات کی تعمیر ہوتی ہے، اس لئے کہا جاسکتا ہے کہ اس شخص کی ذات جن اقداری اینٹوں سے بنی، دراصل وہی اقدار پر سوال اٹھایا جائے تو وہ شخص انہیں اجتماعی سے زیادہ ذاتی تنقیص کے مترادف سمجھے گا۔ مثال کے طور انہی استبدادی اقداری اینٹوں سے کسی بھی عورت کی شخصیت کی تعمیر کی جاتی ہے۔ اگر آپ ان اقداری اینٹوں کو منفی اور غیر انسانی سمجھتے ہوئے، انہیں ختم کرنے کی صلاح دیں گے تو عورت ہیجان کا شکار ہو جائے گی۔ وہ بڑے وثوق سے سمجھتی ہے کہ اگر ان استبدادی اقدار سے بنی اینٹوں کو گرادیا گیا تو اس کی شخصیت ہی ختم ہوجائے گی۔ حالانکہ یہ اقداری اینٹیں اسے غیر انسانی کردار نبھانے کے لئے تیار کرتی ہیں او ریہی غیر انسانیت ہی اس کی شخصیت اور رویوں کا جوہر(Essence)ہے۔ پھر بھی وہ ان اینٹوں کو گرانے سے کتراتی ہے کیونکہ اگر وہ ایسا کردے تو اس کی ذات ہی ختم ہوجائے گی۔ وہ خالی رہ جائے گی۔ مگر سوال یہ ہے کہ استبدادی اقدار کے تحت بننے والی شخصیت کچھ بھی ہو، عورت کو اس کے انسانی درجے سے گرا کر غیر انسانی سطح پر لے آتی ہے۔ اگرچہ اس کے لئے تجویز کردہ یہ کردار، اس کی نجات وعافیت کا ذریعہ سمجھاجاتا اور وہ اسے نبھانا اپنا مقدر سمجھتی ہے، مگر وہ اپنی مجبوری کے باوجود ایک غیر انسانی سطح پر زندگی گذارتی ہے۔ جب اسے اپنی ذات کے غیر انسانی ہونے کا شعور ہوجائے گا تو ایک دفعہ تو ضرور وہ گھبرائے گی مگر یہیں سے اس کی نئیزندگی کی ابتداء ممکن ہے۔ اسی لئے ایک سیانے نے کہا ہے کہ آزادی کا شعور، پیدائش نو (Re-Birth) جیسا عمل ہے اور یہ بہت تکلیف دہ ہوتا ہے۔ صرف نوزائیدگی کافی نہیں، نوزائیدگی کے بعد کی زندگی کے لئے نئی آزادی کو فروغ دینے والی اقدار کی بھی ضرورت ہے۔ انہی نئی اقدار کی اینٹوں سے، ذات نو کی تشکیل ہوگی ۔ جس معاشرے میں نئے خیالات، نئے رویوں اور مختلف انسانوں کو برداشت کرنے کی اقدار نہ ہوں، وہاں ذات نو کی پیدائش ممکن نہیں ہوتی۔ ایسے معاشروں میں ایسے لوگ بدعتی، منحرفین اور انوکھے تصور کئے جاتے ہیں اور ان کا یا تو مضحکہ اڑایا جاتا ہے یا پھر انہیں زندگی عمومی روش (Main Strearm) میں داخل ہی نہیں ہونے دیتے۔

III

اقدار کا سرچشمہ عام طور پر روایتی نظام یا مذہب ہوتا ہے۔ چونکہ ان کے ساتھ تعلق کی نوعیت جذباتیت پر مبنی ہوتی ہے، اس لئے ان پر سوال کرنے سے گریز کیا جاتا ہے۔ اسی لئے ایسے معاشروں میں اساسی تبدیلی نہیں آتی۔ مثال کے طور پر ہمارے اجتماعی شعور میں خود اپنی محنت سے کمانے کی اقدار موجود نہیں۔ ہمارے اجتماعی ہیرو وہ لوگ ہیں جو دوسروں کی کمائیوں کو لوٹتے تھے اور اس کے لئے خونریزی سے ہرگز نہ کتراتے تھے۔ یہ سب ایسے بادشاہ ہیں جنہوں نے دوسرے پرُ امن علاقوں کو لوٹا، ان پر قبضہ کیا یا پھر مال غنیمت سمیٹ کر چلتے بنے۔ آج نہیں، سینکڑوں سال پہلے بھی اشرافیہ کی تعریف یہ تھی کہ پشتوں سے انہوں نے ہاتھ سے محنت نہ کی ہو۔ ہاتھ سے کام کرنا کمیں کاکام ہے۔

اسی قدر کا ہی اثر ہے کہ لوگ معمولی سی خوشحالی آجانے کے بعد اپنا بیگ، دستی سامان اور معمولی سے معمولی کام بھی اردگرد’’ماڑے‘‘ لوگوں سے کروانا پسند کرتے ہیں یعنی یہ کہ ایسا نودولتیہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتا ہے کہ وہ اپنے ہاتھ سے کوئی کام نہیں کرتا اور اسے فراغت ہی فراغت ہے۔ یہی فراغت ہی فراغت، اشرافیہ کی جان ہے اور کام یعنی ذلت ہی ذلت، کمیوں کی زندگی ہے۔

اگر اقدار زندگی اور انسانوں کے لئے آزاربن جائیں یا زندگی میں تبدیلی کے پہیے کو نہ گھومنے دیں تو انہیں بدلنا ہی ہوگا۔ آج انفرادی، خانگی، ریاستی اور سماجی ادارے کام چوری کی قدر کی وجہ سے تمام انسانوں کے لئے آزار بن چکے ہیں۔ ہر شخص ایسی دولت چاہتا ہے، جو حقیقت میں اس کی کمائی ہوئی نہیں ہوتی۔ بدعنوانی، رشوت خوری، دھوکہ دہی اور مکاری عمومی سماجی اقدار ہیں۔ سب انہی اقدار کو اپنی بریت کا ذریعہ سمجھتے ہیں جبکہ یہی اقدار سب کو کھارہی ہیں۔ یہ اقدار دراصل ہماری سرکاری اشرافیہ کی اقدار ہیں۔

اٹھارہویں صدی عیسوی میں یورپی معاشرے نے کام کرنے کو سب سے اعلیٰ وصف اور اعلیٰ قدر کے طور پر پہچانا۔ بھیک مانگنے اور دوسروں کی خیرات پر پلنے کو سب سے قابل نفرت رویہ اور قدر سمجھا۔ اس کی تجدید نوِ کرنے والے مذاہب نے توثیق وترویج کی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ذات کو بنانے والی اقداری اینٹوں کی شکل تبدیل کردی گئی۔ لوگ دوسروں کی کمائی دولت پر زندہ رہنے کو ذلت سمجھنے لگے۔ جب خود کام کرکے کمانا مقصود ٹھہرا تو جدت اور تعمیر نو کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ پرانی اقدار کی گرفت ڈھیلی پڑنے لگی۔ نئے سوالات جنم لینے لگے۔ جب ان سوالات کے جوابات حاصل کرنے کی تگ ودو شروع ہوگئی تو انسان کا اپنی تاریخ، اپنے معاشرے، خود اپنے آپ سے اور مستقبل کے ساتھ رشتہ تبدیل ہونے لگا۔ فطرت کو دیکھنے کے نظریات تبدیل ہو گئے۔ ایک نئے انسان کی پیدائش ہونے لگی۔ چونکہ اجتماعی طور پر سب نے نئی اقدار کی روش کو قبول کرلیا تھا، اس لئے نئے انسان کی پیدائش کا عمل آگے بڑھتا گیا۔ جس نے مزاحمت کی، اسے آخر کار پیچھے ہٹنا پڑا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔