سب سے بڑا حج

سب سے بڑا حج

27 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: سبطِ حسن

انیس درمیانے درجے کا سرکاری ملازم تھا۔ اس کے ہاں شادی کے پندرہ برس بعدبیٹے کی ولادت ہوئی۔ دونوں، میاں بیوی خوش تو بہت ہوئے مگر پیدائش کے بعد انیس کی بیوی، رخسانہ شدید بیمار ہو گئی۔ کم آمدنی کے باوجود، بچے کی دیکھ بھال کے لیے دایہ رکھنا پڑی۔دایہ کا نام جیواں تھا۔ اس کی عمر ساٹھ سال کے لگ بھگ تھی اور پورا محلہ اسے’’اماں جیواں‘‘ کہہ کر بلاتا تھا۔ جیواں جوانی میں ہی بیوہ ہوگئی تھی اور اس نے اپنی ساری زندگی لوگوں کے گھروں میں کام کرنے میں گزار دی۔

گلی میں سڑک کی طرف آخری مکان کے ایک کمرے میں جیواں رہتی تھی۔ اس گھر کے مالک جیواں سے کرایہ تو نہ لیتے تھے البتہ وہ کرایے کے بدلے ان کے برتن وغیرہ دھو دیتی تھی۔ محلے میں کوئی بھی تقریب خواہ خوشی کی ہو یا غم کی، اماں جیواں کے بغیر ممکن نہ تھی۔ وہ بغیر کسی لالچ کے کسی کی بھی خدمت کرنے کے لیے تیار رہتی تھی۔ بیمار کو دبانا، زچہ کا خیال رکھنا، فوتید گی صورت میں کفن دفن کی تیاری سے لے کر سوگوار کنبے کے لیے کھانے کا بندوبست کرنا۔ شادی کے موقع پر ناچ گانے سے لے کر تمام رسوم کی ادائیگی کا ذمہ اماں جیواں اپنے سر لے لیتی تھی۔ اماں پرانے طرز کا لبا س پہنتی تھی۔۔۔ گیارہ میٹر کا گھاگھرا اور اوپر کُرتی۔ وہ اپنا لباس اپنے ہاتھ سے سوئی سے سیتی تھی۔ اس عمر میں بھی اس کی نظر ٹھیک تھی البتہ سوئی میں دھاگہ نہیں ڈال سکتی تھی۔ جب بھی سوئی میں دھاگہ ڈلوانا ہوتا تو وہ اپنے کمرے کے باہر کھڑی ہو جاتی اور کسی بھی آتے جاتے بچے سے سوئی میں دھاگہ ڈلوا لیتی۔ وہ ہر عمر والے سے پیار کرتی تھی۔ کھردرے ہاتھوں سے سر پر پیار دیتی اور رخساروں کے اوپر دونوں ہاتھ پھسلتے ہوئے گردن تک آجاتے۔ ماتھے کو چومتی اور ڈھیر ساری دعائیں دیتی۔ اماں جیواں بزرگ تھی مگر اس کا دل بچوں جیسا تھا۔۔۔ چلبلا اور بالکل شفاف۔ بچوں کو اس کے ساتھ کھیلنے میں بڑا مزا آتا تھا۔ گڈے گڈی کے بیاہ میں گڈے اور گڈی کے لیے کناری والے خوبصورت شادی کے جوڑے بنانا، ’’بارات‘‘ کے لیے گڑ والے چاول پکانا، ’’بارات‘‘ کو بٹھانے کے لیے چارپائیوں کو جوڑ کر ان کے اوپر چادریں ڈال کر ’’شامیانوں‘‘ کا بندوبست کرنا، سب اماں کی رہنمائی میں ہوتا تھا۔ محلے میں لڑکیوں کی شادی پر اماں اپنی طرف سے کوئی نہ کوئی تحفہ ضرور دیتی۔ جب رخصتی ہوتی تو دُور ایک کونے میں کھڑی آنسو بہاتی رہتی۔

جب رخسانہ کے ہاں بچے کی ولادت ہوئی تو اماں جیواں کی خوشی کا ٹھکانہ نہ تھا۔ اس نے انیس کے لائے ہوئے لڈو پورے محلے میں بانٹے۔ محلے کے ہر گھر میں بچے کی پیدائش کی خبر پہنچائی۔ اور جب رخسانہ بیمار پڑ گئی تو کسی کے کہے بغیر، بچے کی نگہداشتشروع کر دی۔ وہ چوبیس گھنٹے انیس کے ہاں ہی رہتی۔ مہینہ گزرا تو انیس نے پانچ سو روپے اماں کے ہاتھ میں تھما دیے۔ اماں نے طوفان کھڑا کردیا۔ اس نے نہ صرف پیسے لینے سے انکار کر دیا بلکہ واویلا مچا دیا کہ انیس اسے پرایا سمجھتا ہے۔ انیس کے سمجھانے بجھانے سے اماں نے پیسے تو رکھ لیے مگر اس نے دل میں تہیہ کر لیا کہ وہ یہ پیسے انیس کے گھر اور اس کے بیٹے ناصر کی ضروریات پر ہی صرف کر دے گی۔

سات آٹھ مہینے گزر گئے۔ رخسانہ کی طبیعت خاصی بہتر ہونے لگی۔ اب وہ ناصر کو کسی کی مدد کے بغیر سنبھال سکتی تھی۔ دونوں میاں بیوی نے سوچنا شروع کر دیا کہ کسی طرح اماں جیواں کو فارغ کر دیا جائے۔ اس میں اصل معاملہ پانچ سو روپے کا تھا، جو انہیں اماں جیواں کو ادا کرنا پڑتے تھے۔ ناصر کے بڑا ہونے کے ساتھ ساتھ اخراجات بڑھنے لگے اور بندھی ٹکی تنخواہ سے پانچ سو روپے نکالنا مشکل ہو گیا۔ اماں جیواں کو فارغ کرنا ایک وجہ سے مشکل تھا اور یہ تھا ناصر کا اماں سے پیار۔ وہ ہر وقت اماں کی گود سے چپکا رہتا۔ اماں بھی ہر وقت اسے کچھ نہ کچھ کھلاتی پلاتی رہتی۔ اس سے پیار دلار کرتی رہتی۔ انیس میں تو جرأت نہ تھی کہ وہ اماں سے اس سلسلے میں بات کر پاتا۔ وہ اماں کے ناصر کے لیے بے غرض پیار کی خوشبو کو سمجھتا تھا۔ اس نے اماں کو فارغ کرنے کے بارے میں سوچنا سرے سے ہی ترک کر دیا۔ اس نے ایک دوبار اپنی بیوی کو بھی سمجھایا کہ وہ اماں کو نکالنے پر اصرار نہ کرے۔

اماں جیواں کو بچہ سنبھالتے ایک سال سے اوپر ہو گیا۔ ناصر اب چلنے لگا اور توتلی زبان میں کچھ الفاظ بھی بولنے لگا تھا۔ وہ اماں جیواں کو ’’اَنّاں‘‘ کہہ کر بلاتا اور رخسانہ کو ’’جی جی‘‘ کہنے لگا۔ رخسانہ اسے اٹھانے کے لیے ترستی رہتی، طرح طرح سے بہلاتی مگر ناصر اماں جیواں کی گود سے ہی نہ اترتا۔ اماں جیواں اس کو لوریاں سناتی، اسے گدگداتی اور طرح طرح کی چیزیں کھلاتی۔ گھر سے باہر لے جاتی۔ سڑک پر گھوڑا دکھاتی۔ اگر کسی کے گھر مرغی کے چوزے نکلے ہوتے، تو وہاں لے جاتی۔ چوزوں کو ناصر کے ہاتھ پر بٹھاتی۔ ناصر ’’چو چو‘‘ کہتا رہتا اور اماں اس کے صدقے واری ہوتی رہتی۔

(2)

ناصر کے رخسانہ کے پاس نہ آنے کے باعث، رخسانہ کے دل میں وسوسے آنے لگے کہ کہیں اماں جیواں اس سے اس کا بچہ نہ چھین لے۔ اس نے اماں جیواں کو گھر سے نکالنے کا پکا ارادہ کر لیا۔ وہ طرح طرح کے بہانے بنا کر اماں کو زچ کرنے لگی۔ کبھی شوہر کو کہتی کہ اماں جیواں بازار سے خریداری میں روپے بٹور لیتی ہے۔ کبھی سوچتی، وہ آٹا اور دال وغیرہ چھپا لیتی ہے۔ وہ اماں جیواں سے بار بار چیزوں کا بھاؤ پوچھتی، مہنگے داموں خریداری پر تکرار کرتی۔ اماں چپ رہنے میں ہی بہتری سمجھتی۔ جب رخسانہ زیادہ تکرار کرتی تو اماں صفائیاں دیتی، اس کی آنکھوں میں آنسو بھر آتے۔ آخر یہ ہر روز کا وطیرہ بن گیا کہ رخسانہ، اماں کے گھر میں داخل ہوتے ہی ، چوری چوری ڈیوڑھی میں دیکھتی کہ کہیں اماں کوئی چیز چھپا تو نہیں رہی۔ اماں، رخسانہ کی ان تمام حرکتوں کو بہت اچھی طرح سمجھتی تھی مگروہ ناصر کے پیار سے ہاتھوں مجبور تھی۔ اسی لیے وہ سب ذلتیں برداشت کرتی گئی۔

ایک روز اماں جیواں ناصر کو اٹھائے، دوپہر کے کھانے کے لیے سبزی وغیرہ لینے بازار گئی۔ اسے واپس لوٹنے میں کافی دیر ہوگئی۔ ہوا یہ کہ گلی کی نکڑ پر دو عورتیں، بڑے جوش وخروش سے آپس میں تکرار کررہی تھیں۔ آہستہ آہستہ تکرار ، تو تکار اور پھر گالی گلوچ تک جا پہنچی۔ اماں جیواں دونوں کو چپ کروا کر واپس گھروں میں بھیجنا چاہتی تھی مگر اس گرما گرمی میں اس کی کوئی پیش نہ چلی۔ آخر تھک ہار کر جب دونوں عورتیں گھروں میں داخل ہوگئیں تو اماں نے دونوں کو الگ الگ ، ان کے گھر جا کر سمجھایا۔ اس طرح اماں کو یہاں ایک گھنٹے سے بھی زیادہ رکنا پڑا۔

جب اماں، بچے کو کندھے پر اٹھائے، ہاتھ میں سبزی کا تھیلا لیے گھر میں داخل ہوئی تو رخسانہ بھری بیٹھی تھی۔ اماں کو دیکھتے ہی اس کی آنکھیں نکل آئیں، چہرہ بھیانک ہو گیا اور کہنے لگی:

’’کیا بازار میں گم ہو گئی تھی۔۔۔؟ اتنی دیر۔۔۔!‘‘

’’بیٹی، وہ۔۔۔ عورت مل گئی تھی۔۔۔ بہت سال پہلے میں اس کے گھر کام کرتی تھی۔۔۔ بس حال چال پوچھنے میں وقت کا پتہ نہ چلا۔۔۔ تم مسالہ بنا لو، میں جلدی سے سبزی کاٹ لیتی ہوں۔۔۔‘‘

’’ادھر دفتر کھانا بھجوانے میں دیر ہوگئی ہے اور تم دوستیاں نبھاتی پھر رہی ہو۔۔۔ ‘‘ ناصر سبزی کے تھیلے سے سبزی باہر نکال رہا تھا۔ اماں بات ٹالنے کے لیے ناصر کی طرف بڑھی۔ رخسانہ نے آنکھیں نکال کر اماں سے کہا:

’’بچے کو اٹھانے کی کوئی ضرورت نہیں۔۔۔ یہ تمہارے بغیر بھی رہ سکتا ہے۔۔۔!‘‘

اماں جیواں کو رخسانہ کی بات پر سخت تکلیف ہوئی۔ وہ گھبراہٹ میں اپنی جگہ پر ہی کھڑی رہی۔ ناصر ’’انّاں انّاں۔۔۔‘‘ کہتا ہوا، اماں کی طرف بڑھا۔ اماں نے جھٹ سے اسے گود میں اٹھا لیا۔

رخسانہ اس پر باز کی طرح جھپٹی اور بچے کو چھین کر اپنے کندھے سے لگا لیا۔ ناصر رونے لگا۔ رخسانہ ناصر کو چپ کرانے کے لیے اسے مسلسل ہلا رہی تھی اور ساتھ ہی ساتھ اماں کو ڈانٹتی جا رہی تھی:

’’میں تمہارا سارا مکّر بہت اچھی طرح سمجھتی ہوں۔۔۔ خبردار، جو آئندہ اس کو ہاتھ لگایا۔۔۔‘‘

اماں جیواں ایسی ترش بات سن کر بے عزتی محسوس کرر ہی تھی۔ اس کی طبیعت لڑائی یا تکرار سے بہت گھبراتی تھی۔ اس کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی لڑیاں بے اختیار ابل پڑیں۔ مگر اس کے باوجود وہ اپنے دل کو سمجھا رہی تھی:

’’رخسانہ تو شاید بیماری کی وجہ سے ایسی ہوگئی ہے۔۔۔ اس میں بچے کا کیا قصور۔۔۔ انیس تو اس کی اس قدر عزت کرتا ہے۔۔۔ کیا وہ مجھے گھر سے نکال پائے گا۔۔۔؟‘‘

دوسری طرف رخسانہ تُلی بیٹھی تھی۔ اس نے غصے سے تو نہیں البتہ بڑا سخت منہ بناکر، بڑی بدلحاظی سے کہا:

’’دیکھو، تمہارے جیسی سینکڑوں عورتیں گلی میں ٹھوکریں کھاتی پھرتی ہیں۔۔۔ مجھے تمہاری کوئی پرواہ نہیں۔۔۔ رہا یہ بچہ، یہ دو دن رو دھو کر چپ ہو رہے گا۔۔۔ آخر تو میں ہی اس کی ماں ہوں۔۔۔تم، اب چلتی بنو۔۔۔!‘‘

یہ سنتے ہی، پہلے سے پریشان اماں کے جسم سے جیسے خون کا آخری قطرہ بھی خشک ہو گیا ہو۔ اس کی آنکھوں کے سامنے سائے سے بھاگنے لگے۔ اسے لگا جیسے وہ گر پڑے گی۔ ایسے میں اس کے کانوں نے سنا:

’’شام کو انیس آئیں گے تو تمہیں تنخواہ بھجوادوں گی۔۔۔‘‘

اماں جیواں نے بچے کی طرف دیکھا۔ اس کا دل چاہا کہ وہ جاتے ہوئے، اس کا ماتھا چوم لے۔ مگر رخسانہ کے خوف سے دروازے کی طرف مڑی اور گھر سے باہر چلی گئی۔ اپنے کمرے میں چلی آئی۔ دروازہ بند کرکے خوب جی بھر کے روئی۔۔۔

(3)

اماں جیواں کو گھر سے باہر جاتے دیکھ کر، ناصر ، انّاں انّاں ، کہتا ہوا، اس کی طرف لپکا۔ وہ ماں کی گو د سے نکل کر ایک طرف جھکتا چلا جا رہا تھا۔ ماں نے اسے سختی سے پکڑے رکھا۔ جب اماں دروازہ بند کر کے، ناصر کی نظروں سے اوجھل ہوگئی تو وہ رونے لگا۔ ماں نے اسے چمکارا، مٹھائی کا لالچ دیا، اسے تھپتھپایا مگر سب بے کار ثابت ہوا ۔ رخسانہ کو سمجھ نہیں آرہا تھا کہ وہ اپنے بچے کو کیسے بہلائے۔ وہ زچ ہو چکی تھی۔ آخر تنگ آکر اس نے ناصر کو زمین پر بچھی ایک دری پر پٹخ دیا اور خود کام میں لگ گئی۔ ناصر روتا رہا، بلکتا رہا، اس کی ہچکی بندھ گئی۔ آخر سسکتے سسکتے وہیں دری پر لیٹا اورسو گیا۔

انیس کے گھر لوٹنے تک ناصر سویا رہا۔ رخسانہ نے اماں جیواں کو گھر سے فارغ کرنے کا معاملہ سنایا۔ اس قصے کو سناتے وقت رخسانہ نے اپنی طرف سے کی گئی بدتمیزیاں اول تو سرے سے گول ہی کر دیں اور جو کچھ بتایا اسے خاصا نرم کر کے بیان کیا۔ انیس ساری بات سمجھ گیا۔ اس نے غصے والی نظروں سے رخسانہ کو دیکھا اور ناصر کو گود میں اٹھا لیا۔ انیس کے اٹھاتے ہی ناصر جاگ اٹھا اور پھر سے انّاں انّاں ، کی تکرار شروع کر دی۔ انیس نے ناصر کو چپ کرانے کے لیے سمجھایا کہ اماں’’چیجی‘‘ لینے بازار گئی ہے۔ ابھی آتی ہوگی۔ یہ سن کر بچہ کچھ دیر کے لیے بہل گیا مگر شام ڈھلتے ہی پھر سے مچلنے لگا ۔ رات گئے تک روتا رہا اور آخر کھائے پیئے بغیر تھک ہار کر سوگیا۔ سوتے ناصر کو دودھ پلانے کے لیے فیڈر اس کے منہ میں ڈالا تو وہ پھر جاگ اٹھا۔

اسی طرح روتے روتے تین دن گزر گئے۔ ناصر اکثر اوقات روتا رہتا۔ ’’اناں اناں‘‘ کی رٹ لگائے رکھتا۔ کبھی دروازے پر جا کھڑا ہوتا اور ہاتھ کا اشارہ کر کے دروازے سے باہر جانے کی ضد کرتا۔ ا ن تین دنوں میں ناصر کا جسم جیسے گھل سا گیا۔ گلاب سے رخسار، جیسے مرجھا گئے۔ اس کی مسکراہٹیں اور کلکاریاں جیسے ختم ہی ہوگئیں۔ ماں باپ، ناصر کی دل میں خوشبو پھیلانے والی مسکراہٹ کو ترس گئے۔ وہ ہر طرح سے اسے خوش رکھنے کی کوشش کرتے مگر ناصر، پہلے سا بچہ ہی نہ رہا۔ کہاں پہلے سارا دن کچھ نہ کچھ کھاتا رہتا تھا۔ اب نہ اسے دودھ میں دلچسپی تھی اور نہ ہی کوئی اور چیز کھانے میں رغبت۔ وہ دن بدن کمزور ہوتا جا رہا تھا۔ رخسانہ اندر ہی اندر پچھتا رہی تھی۔ انیس، اپنی بیوی پر سخت ناراض تھا مگر وہ ماحول مزید خراب نہ کرنے کی خاطر چپ رہا۔

کچھ دنوں میں سردی آگئی۔ نا صر پہلے ہی کمزور تھا، اسے سردی لگ گئی۔ پہلے ناک بہنے لگا او رپھر بخار ہونے لگا۔ وہ بے سدھ سا، آنکھیں بند کیے چارپائی پر لیٹا رہتا۔ شہر کے سب سے مہنگے ڈاکٹر سے علاج کروایا، مگر کچھ افاقہ نہ ہوا۔ ناصر، ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گیا تھا۔ چہرے پر صرف بجھی بجھی سی آنکھیں اور ان کے اردگرد سیاہی ہی نظر آتی۔ سانس اکھڑا کھڑ کر چلنے لگا۔ رخسانہ کو جس کسی ٹوٹکے کا پتہ چلتا، وہ فوراً اسے آزماتی۔ سہاگہ پُھل کر کے دیا۔ سہاگے میں املتاس کی پھلیوں کا گودا ملا کر دیا۔ چھاتی پر زیتون کے تیل کی مالش کی۔۔۔ سب بے کار اور بے اثر ثابت ہورہا تھا۔ (4)
ایک دن ، صبح سویرے رخسانہ، ناصر کو گود میں لیے پریشان حال بیٹھی تھی۔ انیس اس وقت دفتر جانے کی تیاری کر رہا تھا۔ رخسانہ ، انیس سے کہنے لگی:
’’میں تو کہتی ہوں ، حکیم انعام اﷲ کو دکھاتے ہیں۔۔۔!‘‘
’’اتنے اچھے ڈاکٹر سے کچھ نہیں ہوا ، تو حکیم کیا کرے گا۔۔۔؟‘‘
’’حکیموں کے پاس بہتیرے نسخے ہوتے ہیں۔۔۔کوشش کرنے میں کیا حرج ہے۔۔۔‘‘
’’یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا۔۔۔ تو نے اماں جیواں کے خلوص اور پیار کی بے قدری کی۔۔۔ اس کے ساتھ بدتمیزی کی جو فرشتوں جیسی ہے۔۔۔ اب اپنا کیا دھرا بھگتو۔۔۔‘‘
’’کئی دفعہ معافی تو مانگ چکی ہوں۔۔۔ پچھتا رہی ہوں۔۔۔ اب میں کیا کروں۔۔۔‘‘ یہ کہہ کر رخسانہ رونے لگی۔ وہ اپنے بچے کی زندگی کو لے خود بھی نڈھال ہو چکی تھی۔ پھر کہنے لگی۔
’’میں نے اماں کا پتہ کروایا ہے، وہ کسی دور کے رشتے دار کے پاس گاؤں جا چکی ہے۔۔۔‘‘
’’کچھ بھی سوچو، ہمارے بچے کی زندگی، صرف اور صرف اماں جیواں کے ہاتھ میں ہے۔۔۔‘‘
’’میں اس کے پاؤں پر اپنا سر رکھ کے معافی مانگنے کے لیے تیار ہوں۔۔۔ مگر کہیں اس کا اتا پتہ تو معلوم ہو۔۔۔!‘‘
’’تم جاؤ گی تو، معاملہ اور بھی بگڑ جائے گا۔۔۔ تم نے اس کے ساتھ جو کیا ہے، وہ کبھی نہیں بھولے گی۔۔۔ وہ تمہاری جلی کٹی باتیں، ہمارے بچے سے پیار کے لیے سہتی رہی۔۔۔ اب وہ تمہارے ہاں کبھی نہیں آئے گی۔۔۔‘‘
(5)
اماں جیواں جب سے انیس کے گھر سے نکلی تھی، اس کو تو جیسے جینا ہی بھول گیا۔ وہ کچھ روز اپنے کمرے میں بند رہی۔ محلے والوں کو پتہ چلا تو انہوں نے اماں کو بہت سمجھایا کہ آخر تو بچہ رخسانہ کا ہی ہے۔۔۔وہ خواہ مخواہ اس سے ناطہ جوڑ رہی ہے۔ ان باتوں کا اماں پر کوئی اثر نہ ہوا۔ وہ بچے کے پیار کے سامنے اپنے آپ کو بہت کمزور محسوس کرتی تھی۔ بچے کو بھلادینا، اس کے بس میں نہ تھا۔ ہر وقت ناصر کی چھوٹی چھوٹی باتیں، اس کی مسکراہٹ اور معصوم اداؤں کو یاد کرتی رہتی۔ اگرچہ وہ ناصر سے اپنی محبت کو چھپاتی تھی مگر دل و جان سے اسے اپنا بچہ ہی سمجھتی تھی۔ وہ رخسانہ سے چھپا کر اسے ڈھیروں مٹھائیاں کھلاتی، اس کی مالش کرتی۔ بُری نظر سے بچانے کے لیے اس کے گلے میں چاروں قل کا تعویز ڈال دیا۔ اماں جیواں، بھلے ہی محلے والوں کے لیے ایک ’’رونقی اماں‘‘ تھی، مگر دراصل وہ ایک ماں تھی۔ اس ماں کو اپنے بچے پالنے کا موقع نہ ملا، مگر اس نے اس پیار کو سب کے لیے برابر نچھاور کر دیا۔۔۔مگر ناصر کے لیے یہ پیار کچھ زیادہ تھا۔
انیس کے گھر سے نکلنے کے بعد، اماں کو ہر وقت ناصر کا ہی دھیان رہتا تھا۔۔۔ اب ناصر سورہا ہو گا، اب کھیل رہا ہوگا، انیس اس کو مٹھائی لا کر کھلاتا ہوگا، ناصر کو برفی بڑی پسند تھی۔ وہ اکثر خواب میں ناصر کو اپنی کمر پر سوار کیے گلی کی سیر کرواتی۔ ایک دن اس نے خواب میں دیکھا کہ وہ ناصر کو اپنی کمر پر بٹھائے، ایک خوبصورت باغ میں سیر کروارہی ہے کہ اچانک چاروں طرف سے بہت سی کالی بھینسیں اسے گھیر لیتی ہیں۔ اماں گھبرا کر اٹھ بیٹھی ہے۔ اس کا خیال تھا کہ اگر خواب میں کالی بھینسیں دیکھیں تو بیماری آتی ہے۔ وہ ناصر کی صحت کو لے کر بڑی پریشان ہوگئی۔ اس نے اپنی پوری زندگی میں کبھی نماز نہ پڑھی تھی۔ اب اس نے پانچوں نمازیں پڑھنا شروع کر دیں۔ وہ ہر نماز میں گڑگڑا کردعائیں مانگتی۔ کالی مرغی کو ذبح کر کے ناصر کی جان کا صدقہ دیا۔ بچوں میں بُوندی اور پھلیاں بانٹیں۔ ہر روز سوچتی کہ وہ شہر جائے اور ناصر کو ایک نظر دیکھ آئے تاکہ اس کے دل پر بوجھ کم ہو جائے۔۔۔ مگر رخسانہ کی ترش نظریں اور زہریلی گفتگو سے وہ بہت ڈرنے لگی تھی۔ اس نے ساری زندگی ہر کسی کے ساتھ پیار سے ہی بات کی تھی اور سب لوگ اسے پیار کی نظر اور میٹھی زبان سے ہی ملتے تھے۔۔۔ چونکہ اسے رخسانہ جیسی گفتگو کی عادت نہ تھی، اس لیے وہ اندر سے سہم سی گئی تھی۔
انہی دنوں گاؤں کے کچھ بزرگ حج پر جانے کی تیاریاں کرنے لگے۔ انہوں نے اماں جیواں کو بھی ساتھ چلنے کا کہا۔ شروع میں اماں انکار کرتی رہی۔ وہ اپنے دل میں ہمیشہ سوچتی تھی کہ اس گاؤں، اس شہر سے کہیں دور چلی جائے۔۔۔ تاکہ اسے رخسانہ کی باتیں بھول جائیں، ناصر کا پیار اس کے دل سے نکل جائے۔۔۔ اماں حج پر جانے کے لیے تیار ہوگئی۔ اس کے پاس کچھ روپے تھے ، کچھ اس کے دُور کے بھتیجے نے ڈالے اور اماں حج کے لیے تیار ہوگئی۔
(6)
اماں جیواں، ساتھی حاجیوں کے ساتھ شہر آئی۔ باقی حاجی اور ان کے ساتھ آئے رشتے دار تو سیدھے ریلوے سٹیشن پر پہنچ گئے۔ اماں نے اپنے کمرے سے کچھ چیزیں لینا تھی، اس لیے وہ اپنے پرانے محلے میں چلی آئی۔ اماں نے اپنے کمرے کا تالا کھولا ہی تھا کہ پورے محلے کو اس کے آنے کی خبر مل گئی۔ جب محلے والوں کو اماں کے حج پر جانے کا معلوم ہوا تو سب اس کو مبارک دینے کے لیے دوڑے۔ مگر اماں کے پاس وقت بہت کم تھا۔ وہ چند منٹ ہی ٹھہری اور سامان لے کر ریلوے سٹیشن چلی گئی۔
ایک پلیٹ فارم پر حاجیوں کو لے جانے والی ٹرین کھڑی تھی۔ اس ٹرین نے دو دن کے سفر کے بعد حاجیوں کو لے کر ایک بڑے شہر تک پہنچا دینا تھا۔ وہ شہر سمندر کے کنارے تھا او روہاں سے سمندری جہاز پرسوار ہو کر حاجیوں نے سعودی عرب پہنچنا تھا۔
آسمان پر کالے بادل چھائے ہوئے تھے اور ہلکی ہلکی پھوار بھی پڑ رہی تھی۔ پلیٹ فارم کے اوپر ایک بلند چھت تھی۔ اس کے نیچے بارش تو نہیں گر رہی تھی، البتہ لوگوں کے جوتوں کے ساتھ آئے ہوئے کیچڑ سے پلیٹ فارم کا فرش گندا ہوچکا تھا۔ حاجیوں میں زیادہ تر لوگ پچاس سے اوپر کے ہی تھے۔ وہ اپنے رشتے داروں کے ساتھ چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں کھڑے تھے۔ ان کے پاس ان کا سامان بھی پڑا تھا۔ اکثر حاجی، اپنے عزیزوں کو ان کی غیر موجودگی میں کرنے والے کاموں پر ہدایات دے رہی تھے۔
’’دھان کٹ جائے تو ٹاہلی والے کھیت میں مٹر اور باقی سب میں گندم کاشت کرنا۔۔۔ مٹر لگانے سے پہلے گوبر ڈال لینا۔۔۔‘‘
’’ماں کو دوا، باقاعدگی سے دیتے رہنا۔۔۔ اگلے مہینے ڈاکٹر کو ضرور دکھا لینا۔۔۔‘‘
’’سنو، کالج میں داخلہ فارم وقت پر بھیج دینا، اگر پیسوں کی ضرورت پڑ جائے تو ماسٹر عبداﷲ سے پیسے لے لینا۔۔۔‘‘
حاجی تاکیدیں کر رہے تھے۔ تاکیدیں کرتے اور خاموش ہو جاتے۔ پھر کوئی بات یاد آجاتی تو پھر ہدایات دینا شروع کر دیتے۔ اس دن حاجی ہی تمام لوگوں کی توجہ کا مرکز تھے۔ حاجیوں کو بھی اس بات کا بخوبی احساس تھا۔ شاید اسی لیے وہ سب سے کچھ زیادہ ہی بول رہے تھے۔ کچھ جو زیادہ بزرگ تھے اور پہلے ہی اپنی کھیتیاں ، اپنی اولادوں کو سونپ چلے تھے، زیادہ مطمئن اور پر سکون نظر آرہے تھے۔ وہ تسبیح کے دانوں پر ورد کر رہے تھے اور دل میں بہت خوش تھے کہ جیتے جی اﷲ کے گھر جا رہے ہیں۔ ان کے چہروں پر خاص طرح کا نور تھا۔
اماں جیواں زندگی میں پہلی بار ٹرین کا سفر کر رہی تھی۔ وہ بچوں کی طرح خوش تھی اور ٹرین کی ہر ایک چیز کو حیرت اور تجسس سے دیکھ رہی تھی۔ سیٹوں کو ہاتھ لگا کر ان کی نرمی کو محسوس کر رہی تھی۔ اس کی توجہ بار بار سرخ رنگ کے خانے میں لگے، ہینڈل پر جا رہی تھی۔ پوچھنے پر اسے معلوم ہوا کہ اگر ضرورت پڑ جائے اور ٹرین کو رکوانا ضروری ہو تو اس زنجیر کو کھینچتے ہیں۔ وہ یہ سن کر حیران ہوگئی کہ اتنی چھوٹی سی زنجیر کو کھینچ کر ، اتنی لمبی ٹرین بھلا کیسے روکی جا سکتی ہے۔ جب اسے معلوم ہوا کہ واقعی یہ سچ ہے تو اس کا دل مچلنے لگا کہگاڑی فوراً چل پڑے اور وہ زنجیر کھینچ کر گاڑی کو رکوا کر تو دیکھے۔ پلیٹ فارم کا ماحول اس کے لیے بالکل نیا تھا۔ چھوٹی چھوٹی، بازار کی دکانوں سے مختلف دکانیں، کھانا بیچنے والوں کی عجیب و غریب نہ سمجھ آنے والی آوازیں۔۔۔ اماں جیواں کو یہ سب کچھ خوا ب سامحسوس ہو رہا تھا۔ اس کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ باری باری سب چیزیں، خاص طور پر پکوڑے روٹی ضرور کھائے۔ کھانے کی چیزوں کی طرف دھیان گیا تو اماں کو ناصر کا خیال آیا۔ سوچنے لگی:
’’زندگی کا کیا بھروسہ ، اتنے لمبے سفر پر جارہی ہوں، پتہ نہیں زندہ لوٹتی بھی ہوں یا نہیں۔۔۔ ایک نظر بچے کو دیکھ لیتی۔۔۔!‘‘
اسی خیال کو لیے، اماں افسردہ سی ہوگئی۔ وہ کھڑکی سے باہر خلا میں گھوررہی تھی کہ اسے لگا کہ کوئی کھڑکی کے ایک طرف ہٹ کر کھڑا، اسے دیکھ رہا ہے۔ یہ انیس تھا۔ اماں فوراً اٹھ کھڑی ہوئی۔ انیس کو بلایا۔
’’بیٹا، انیس، سنو۔۔۔ کیا تم بھی کسی حاجی کو چھوڑنے آئے ہو۔۔۔ ؟‘‘ اماں نے اپنی اکھڑتی سانس کو سمیٹا اور پھر کہنے لگی:
’’سناؤ، بچہ کیسا ہے؟ ٹھیک تو ہے، میں نے سوچا تھا اسے ایک نظر دیکھ لیتی۔۔۔ مگر جلدی میں ادھر چلی آئی۔۔۔ اچھا ہوا تم مل گئے۔۔۔اسے میرا پیار دینا۔۔۔!!‘‘
’’وہ تو ، بس چند دن کا مہمان ہے۔۔۔ تم جب سے۔۔۔‘‘
انیس اپنی بات مکمل بھی نہ کر پایا تھا کہ اماں فوراً ٹرین سے اتری اور اس کے پاس آکھڑی ہوئی۔ اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر پوچھنے لگی:
’’کیاہوا۔۔۔؟‘‘
’’تم جب سے گئی، دن بدن کمزور ہوتا گیا۔ پھر سردی نے آلیا۔ شروع میں سوتے جاگتے، بس تمہار انام لیتا تھا، اب نام تو نہیں لیتا مگر سُونی سُونی نظروں سے دروازے کو تکتا رہتا ہے۔۔۔‘‘
اماں کا کلیجہ پھٹ رہا تھا۔۔۔ اس کی آنکھوں سے آنسوؤ ں کا سیلاب امڈ آیا۔ اس کے لیے اپنی ٹانگوں پر کھڑا رہنا مشکل ہو رہا تھا۔ وہ پلیٹ فارم پر رکھے ایک بینچ پر بیٹھ گئی:
’’مجھے کیا پتہ تھا کہ بچے کو اتنا انس تھا۔۔۔ میں نے تو سوچا تھا کہ اب تک وہ سب کچھ بھول چکا ہوگا۔۔۔‘‘
’’اب تم حج پر جارہی ہو۔۔۔ بس، بچے کے لیے دعا کرنا۔۔۔‘‘
’’تمہاری بیوی۔۔۔؟‘‘
’’اس نے تمہارا پتہ کروایا تھا۔۔۔ تم گاؤں جا چکی تھی۔۔۔ وہ سخت شرمندہ ہے۔۔۔تم اسے معاف کر دو۔۔۔‘‘
’’مجھے کیا معلوم تھا ، بچے کے ساتھ یہ سب ہو گا۔۔۔میں ساری زندگی رخسانہ کی جوتیاں بھی سہہ لیتی مگر بچے کو کبھی اکیلا نہ چھوڑتی۔۔۔ تم میرا سامان نیچے اتارو۔۔۔ وہ صندوق اور کالے کپڑے والی گٹھڑی۔۔۔‘‘
اماں جیواں اور انیس جلدی جلدی سٹیشن سے باہر نکلے۔ تانگے پر بیٹھے اور گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔ سارا راستہ اماں بے قرار بیٹھی رہی۔ اس کی آنکھوں سے آنسو رستے رہے اور وہ بار بار تانگے والے کو گھوڑا تیز دوڑانے کا کہتی رہی۔
انیس کا گھر آگیا۔ اماں، سامان اتروانے کی پرواہ کیے بغیر ، گھر میں داخل ہوئی۔ اس وقت رخسانہ، ناصر کو گود میں لیے، اس کے سر پر ٹھنڈے پانی کی پٹیاں رکھ رہی تھی۔ اماں نے سلام کیا اور نہ ہی رخسانہ سے کچھ کہا۔ جھٹ سے ناصر کو گود میں اٹھا لیا۔ کہنے لگی:
’’دیکھو، میں آگئی۔۔۔تمہاری انّاں آگئی۔۔۔‘‘
اماں نے ناصر کے تپتے ماتھے پر بوسہ دیا۔ بازوؤں میں سمیٹ کر اپنے سینے سے لگایا۔ ناصر نے دھیرے سے آنکھیں کھولی۔ اماں کو دیکھ کر آنکھیں پھیلنے لگی۔۔۔ اس کے چہرے پر، ہونٹوں کے ارد گرد پھیکی سی مسکراہٹ نے پانی کی لہر کی طرح جنبش لی۔۔۔تھوڑا سااوپر اٹھا اور اماں کے سینے سے چمٹ گیا۔۔۔ اس نے بہت ہی کمزور آوا ز میں کہا:
’’انّاں۔۔۔‘‘
رخسانہ ایک طرف کھڑی مسلسل آنکھوں سے امڈتے آنسو پونچھ رہی تھی۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔