درکوت کا تعارف اور بروغل کی سیر

درکوت کا تعارف اور بروغل کی سیر

106 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

بچپن کی کہانیاں سہانی ہوتی ہیں رات کے کھانے کے بعد میرے والد اپنی آپ بیتیاں، جگ بیتییاں سنایا کرتے تھے۔ بیشتر ان کے سفرنامے ہوتے تھے۔ گلگت، پنیال، اشکومن، چترال اور وادی بروغل کے سفرنامے ہم انہماک سے سنا کرتے تھے۔ گلیشئیرکا سفراور واخان کےخونخوار بیڑیے کی کہانی دماغ میں نقش ہوچکی تھی، دل بروغل جانے کو مچلتا تھا۔

تحریر: شکورخان ایڈووکیٹ

ان دنوں ایک ضعیف العمر دادی اماں ہمارے گھر آیا کرتی تھی۔ وہ بروغل کی رہنے والی تھی، آبائی وطن کی یادیں امی سے شیر کرتی، لہجہ وخی تھا اور زبان بروشسکی وخی کا ملغوبہ۔ باتوں کے بیچ سسکیاں لیتی اورٹھنڈی آہیں بھرتی، ایک دن امی سے پوچھا: یہ اماں کیوں روتی ہے، امی بولی: بیٹا، یہ اپنوں کو یاد کرکے روتی ہے۔ بچپن اور جوانی میں اپنے پیاروں کے ساتھ بیتےلمحات ستاتے ہیں اسے۔ میں بولا: دادی اپنےگھرکیوں نہیں جاتی؟ امی بولی، بیٹا اس کا کوئی نہیں جو اسےلےجائے۔ میں بولا، امی ہم اسےلےجائیں گے، میں اور آپ۔ وہ بولی،بیٹا، وہاں مرد جا نے سے گھبراتےہیں، تم ابھی منے سےہو۔  عورتیں اوربچے بغیر مردوں کےگلییشئیرپار نہیں کرسکتے۔ یہ جان  کر میں خاموش ہوگیا۔ اس کی بے بسی نےمجھےافسردہ کر دیا تھا۔ ایک دن وہ رو رہی تھی، میں نے اس سے وعدہ کیا کہ میں بڑا ہو کر اسے لے کےجاوں گا، وہ نہ روئے۔ وہ میرے چہرے کی طرف تکنے لگی، آہ  بھری، اور امی سے کچھ کہنے لگی۔

وہ  ضعیف العمر تھی اور میں منا سا بچہ ! اسی لئےتقدیرکو شاید منظور نہ تھا۔ اس کی طبعی عمرکےانجام میں اب اتنا وقت نہیں بچا تھا جتنےسال مجھے جوان ہونےکےلئے چاہیےتھے۔ اس دوران کئ  سال بیت گئے، میں اب   بارا سال کا ہوچکا تھا اورمقامی سکول میں پانچویں جماعت کا طالب علم تھا۔ اٹھتی خبر آئی کہ برو‏غل والی آماں اب مزید دنیا میں نہیں رہی۔ اماں حسرتیں دل میں بسائےمٹی تلےسو چکی تھی۔ ارمانوں کو سینےپہ سجائے، دیس میں نکلا ہوگا چاند کے مصداق گھر وہ  تو روزجاتی تھی لیکن خیالوں میں۔ غریب الوطنی میں اسے پرائےوطن کی زمین ہی نصیب ہو سکی۔  مجھے آخری مغل تاجدار بہادر شاہ ظفرکا وہ حسرتوں بھرا شعرشدت سے یاد آنےلگا، ہائےبےچارا! ہندوستان میں دفن ہونےکا ارماں دل میں سجائےمیانمر کے شہر رنگون میں مدفون ہوا !     کتنا بدنصیب تھا ظفر دفن کےلئے    دو گز زمین بھی نہ ملی کوئےیارمیں۔

ایک عرصےبعد میں نےبچپن کےدوست علی مددبائی سے بروغل جانےکی خواہش کا اظہار کیا۔ وہ شریف آدمی بروغل جانے کے لئےراضی ہو گیا۔ دن مقرر ہوا۔ زاد راہ اکھٹا کرنا شروع کردیا۔ کسی سے بیگ کسی سےبوٹ اٹھا لایا، علاقےمیں دستیاب پرانےماڈل کا اکلوتا کیمرا نصرت استاد سےمانگ تانگ کےلےآیا۔ بازار سے ٹافی کےتھیلے، گڑ اور کھوپرا خریدے، کوئی اور چیز ان دنوں مقامی بازار میں دستیاب نہ تھی۔ دیسی بریڈ (مش ٹیکی) پکوایا،  خشک میوہ جات سمیت تمام گھریلو دستیاب اشیاء خوردنی اور کمبل وغیرہ  بیگ میں ٹھونس کر تیاری مکمل کر لی۔ مقررہ دن صبح سویرے علی مدد بائی آتا دکھائی دیا، لیکن یہ کیا ! بڑا سا بیگ اٹھائے ایک مسٹنڈا  بائی  کے پیچھے پیچھے چلا  آ رہا تھا۔ اس گبرو کا تعارف بائی نے بطور پورٹر کیا۔ لیکن باہمی مشور ے کے بعد پروگرام میں تبدیلی کر کے اپنے اپنے بیگ خود آٹھا نےکا فیصلہ ہوا ، جوان کو رخصت کیا۔

دونوں صبح سویرے پا پیادہ  بروغل جانےکےلئے درکوت روانہ ہوگئے۔ دوپہر کوتھکن سے چور درکوت پہنچے،بائی کےرشتہ دارکے  ہاں کھانا  اور استراحت کے بعد سہ پہرگرم چشمہ میں پہلا پڑاو ڈالنے کے ارادے سے روانہ ہونے کے لئے میزبان کو الوداع کہنے لگےتو اس نے چائے آفر کی۔ چائےکی پیش کش ٹھکرا کر سفر پر روانہ ہوے۔

تین گھنٹےکی مسافت پر واقع گرم چشمہ پہلا پڑاؤ تھا، ہمیں بتایا گیا تھا کہ رات گرم چشمہ میں گزار کرپو پھٹنے سے قبل سفرشروع کرکےسہ پہرتک درکوت گلیشئیرپار کرنا ہے کیونکہ سہ پہرکےبعد برفانی ہوائےچلتی ہیں اورگلیشئیرپرکچھ نظرنہیں آتا یوں آدمی برفانی طوفان میں دب جاتا ہے۔ چند سال قبل  باراتی  درکوت سے بروغل جاتےہوے برفانی طوفان میں گھر کر زندہ درگور ہوے تھے جن کی لاشیں اگلےسال دریافت ہوئی تھیں۔ مشہورتاریخی مقام دربن کی چڑھائی چڑھنےکےبعد تھکاوٹ  سی محسوس ہوئی ، بھوجل قدموں کےساتھ  گئےکوشی  سے ہوتے ہوئے راوت پہنچے۔ یہ دونوں مقامات قدرتی حسن سے مالامال ہیں۔ یہاں پر اچھلتی کودتی شفاف ندیاں بھی ہیں، چشمےاورجھرنے بھی، شاداب چراگاہیں بھی ہیں، چیلی اوربرچ کے جنگل بھی، نگاہوں کو خیرہ کرنے والے گلیشئیربھی ہیں اور جو کے لہلہاتے کھیت بھی۔ تھوڑی دیر کےلئے مناظر سےخاصے محظوظ ہوے۔

راوت کےاختتام پر گرم چشمہ کی جانب چڑھائی چڑتے ہوے ٹانگےکمزور پڑنےلگیں، مجھ سے چلا نہیں جارہا تھا، بائی کی طرف دیکھا اس کی حالت بھی کچھ بہتر نہیں لگ رہی تھی۔ میں نے اپنی کیفیت اسےبتا دی تو وہ بولا کہ میری ٹانگیں اتنی بھاری ہوچکی ہیں کہ مجھ سے اٹھائی نہیں جا رہیں۔ چند قدم چلنےکےبعد دو چار منٹ سستانےبیٹھ جاتے، اس کے قریب ہو کر میں نےکہا: ہم آ ہی کیوں گئے پہلےدن حالت غیر ہوگئ، آگےآگے کیا ہوگا ! میری بات سےاتفاق کوتے ہوے بولا: مال مویشی کےسوداگر، بھیڑ بکری کےخریدار یاسن سےبروغل جاتےہیں، بروغل کےباشندے محنت مزدوری کی خاطرگلیشئیر چڑھ  کر ادھر آجاتےہیں، ہم نہ تین نہ تیرا میں، نہ اس پار کام کاج  نہ رستےسےواقف، جان بوجھ کراعزاب اپنے سر لےلیا ہے۔ان کے ان ریمارکس سے میں نےبھی اتفاق کیا، خود کو برا بلا کہتےہوے زیادہ سستاتے کم چلتے، بالاخر یہ چیونٹی کی چال شام کےدھندلکے میں اپنےاختتام کو پہنچی۔ ہم بلندی پرواقع گرم چشمہ پہنچ چکےتھے۔

 مختلف بیماریوں میں مبتلہ مریض شفا کےلئےگرم چشمےکا رخ کرتےہیں، رات ٹھیر کرگھنٹےگھنٹےکےوقفےسے پانچ منٹ تک چشمےمیں ڈبکی لگاتےہیں، باہرنکلتےہی خود کو گرم کمبلوں میں لپیٹ لیتےہیں ۔ چوبیس گھنٹے پانی کےاستعمال سے پرہیز کرکے صرف اسی چشمےکا پانی پیتےہیں۔ بہت سارےمریض شفایاب بھی ہوتے ہیں۔

ارے ! چشمے پر کوئی فیملی آکے ٹھری  ہوئی ہے۔ تین عورتیں ایک مرد  دورسے ہی نظر آئے سلام اورعلیک سلیک کےبعد مرد نےہماری خستہ حالت بھانپ کرعورتوں کوحکم دیاکہ کتلی میں بھر کے چائےبنائے۔ پھرہماری طرف متوجہ ہوکر پوچھا کہ چائےکہاں پی کر آئےہو؟ ہم نے یک زبان ہوکر کہا کہ دوپہرکا کھانا درکوت میں کھایا تھا  لیکن  چائےوائی نہیں پی۔  بولا: ہوں! میں پہلےہی سمجھ گیا تھا کہ تمہاری تھکاوٹ محض چائےنہ پینےکی وجہ سے ہیں۔

اتنےمیں چائےبھی آگئ، ہم نے متعدد روٹیوں کےہمراہ پورے چار چارکپ چائےانڈیلیں۔ کیا خوش ذائقہ  نمکین چائے تھی! آدھا گھنٹےبعد درد  تھکاوٹ سب اڈنچھو! کمبل اوڑھ کرلیٹتےہی یوں بےخبر سوئے کہ رات  کب کی گزر گئ، اللہ بھلا کرے اس مرد کا، نام بھی نہیں پوچھا، ہم اسے للا،للا  کہتےرہیں، یاسن کےکلچر میں چھوٹے بڑوں کا نام نہیں لیتےبلکہ اس نام سےپکارتےہیں جو بڑےپن کےلئے مستعمل ہے۔

اس مرد مومن نے تین بجےرات ہمیں جگایا، ناشتہ ہمارے لئےتیارتھا۔ ہم نےانڈوں اور پراٹھوں کےساتھ بھرپور ناشتہ کیا، ان کا شکریہ ادا کرکے چڑھائی چڑھنے لگے۔ اب کی بار جسموں میں اتنی پھرتی آگئ تھی کہ چڑھائی کچھ معلوم نہ ہوا، ہم بلندیوں کی جانب دوڑ رہےتھے۔

اس سےپہے کہ آپ کو وادی بروغل کی سیر کراوں، درکوت کا مختصرتعارف کراتا ہوں، ایک فیس بک دوست نےدرکوت پرلکھنےکوکہا تھا لیکن بشارت کی اچانک فوتگی نےذہن اپ سیٹ کرکےرکھ دیا تھا۔ آج  قلم اٹھا رہا ہوں۔

درکوت گلگت بلتستان کےضلع غذر، تحصیل یاسن کا آخری شمالی گاؤں ہے۔ سطح سمندر سے اٹھائیس سو میٹربلندی پر واقع ہےجو کہ پھنڈر کے برابر ہے۔ درکوت میں ساڑھے تین سو گھرانے آباد ہیں۔ درکوت  کسی زمانےمیں سرسبز وشاداب، آباد میدانی گاؤں ہوا کرتا تھا۔ 1980 کی دھائی میں قیامت ٹوٹ پڑی۔ مشرق کی جانب سےبہنےوالی شفاف مگر تند و تیز ندی جس کا مقامی نام ڈاڈنگ بلچرہےجس کےکنارے بمقام “فرنگ بر”1870 میں مشہور انگریز جارج ھیواڈ کا قتل ہوا تھا۔ ندی گرمیوں کے موسم میں اپنےزوروں پرتھی کہ اچانک شرقی تنگ نالہ سےکالی مٹی کا  تودھ  ٹوٹ ٹوٹ کر ندی کے بہاؤ میں شامل ہونے لگا اور دیکھتےہی دیکھتےسیلاب دونوں کناروں سےبہنا شروع ہوا۔ سیلاب ناپرسان  نے گھر،باغات، کھیت کھلیان،جنگل سب نگل لیا۔ آدھا  درکوت صفحہ ہستی سےمٹ چکا تھا۔ سیلاب نےاسی پر بس نہ کیا بلکہ باقی ماندہ آباد  اراضیات بھی ہڑپ کرتا گیا۔ حکومت نے نہ بےگھر ہونےوالوں کی مدد کی اور نہ ہی سیلاب کی روک تھام کےلئےقدم  اٹھایا۔ یوں صدیوں سےآباد قصبہ بنجر ہوا، اب  وہاں سبزہ نہیں اگتا دھول اڑتی ہے۔

 

درکوت میں غسوم یا غسوینگ نام کی  نئ  آبادی  درکوت  خاص سے جانب غرب دریا پار واقع ہے۔ شرقی جانب خاصی بلندی پر گملتی، گہرتنج اور سوارے  نام کی چھوٹی چھوٹی ڈھلوانی آبادیاں ہیں جہاں سہولیات زندگی نہ ہونے کے برابر ہیں۔ لوگ خوش اخلاق، ملنسار لیکن معمولات زندگی دگرگوں ہیں۔ گاؤں کی بدقسمتی یہ ہےکہ نہ یہاں قدرتی جنگل موجود ہےاور نہ مصنوعی جنگل اگ سکی۔ ہائی الٹیٹیوٹ کی وجہ سےپھلدار درخت اگتا نہیں اگر اگ آئےتو نہ بڑھتا ہےاور نہ پھل دیتا ہے۔ کہتےہیں کہ زمانہ قدیم میں پہاڑیوں پر خال خال چیلی کےدرخت ہوا کرتےتھےجو اب قصہ پارینہ بن چکےہیں۔

درکوت کے مشرق میں مشہور وادی نیوبر واقع ہے۔  یہ یاسن کےبڑےنالوں میں سےایک ہےاورسرسبزبھی ہے لیکن بدقسمتی سےایک آدھ  درخت بھی نہ پہاڑوں پرہیں نہ نشیب میں اورنہ دریا کنارے۔ نیوبر کےجنوب مشرق میں ندی پار “انیسرپر ” نامی وادی ہےجس کے بارڈر پرواقع گلیشئیرپار کرکےاشکومن کےنالہ تالیس(بڑوگاہ) کے قدیم تاریخی مقام “ہولوجت”میں پڑا‏ؤ ڈال سکتے ہیں۔ درکوت نیوبر کی دو دیگر وادیاں  (نالے) جت بر اور اٹربر ہیں۔ ان دونوں وادیوں کےپاسز سے گزر کر اٹر نالہ  اشکومن میں داخل ہوجائیں گے۔ رستے میں گلیشئیرسےگزرنا ہوگا۔ پہاڑی چراگاہوں پر مارخور بھاگتے دوڑتے نظر آئیں گے۔ اٹر کی وادی میں گنگناتی ندیاں بھی ہیں، جھیلیں بھی۔ یہاں پر پرشکوہ آبشار بھی ہے جس سے شفاف دودھیاں پانی  بڑے زور و شور سےبہتا ہے۔ اس وادی میں خاصیں جنگلات ہیں۔ برچ، بید، جونیپر، چیڑ سمیت دیگر کئ اقسام کےدرخت بہ کثرت پائےجاتےہیں۔ اٹرکی وادی میں مشہور اٹر جھیل واقع ہے۔ یہ جی بی کی چند معروف جھیلوں میں سے ایک ہے۔ ان تینوں بارڈر پاسز میں سے جس کا بھی انتخاب کریں یکطرفہ ٹریکنگ  تین دنوں پرمشتمل ہوگی۔ چراگاہوں میں مقیم زمیندار اور گجربڑے ملنسار اورمہمان نواز ہیں۔ زمیندار دودھ سےبنی مقامی خوراک (مئیی، مولدیہ) اور گجر ‘بگوڈھ ‘ سے خاطر تواضع کریں گے، چائےلسی اس کےعلاوہ ہوگی۔

درکوت سےغربی جانب وادی غاموبر ہے اس وادی میں جھیل بھی ہے اور گلیشئیربھی۔ یہاں سےبارڈر پار کرکے دسپر نالہ تھوئی پہنچا جاسکتا ہے۔ ایڈونچر کےمناسب اتظامات ہوں تو راہ میں رات  کےلئے پڑاؤ ڈال سکتے ہیں بصورت دیگرپندرہ گھنٹہ چل کردسپر تھوئی کےآخری گرمائی چراگاہ “گوہیچو کوٹو” نامی سبزہ زار میں قیام کریں گے۔

درکوت غسوم کی آبادی سے شمال مغرب کی جانب محض ایک میل کےفاصلے پر یاسن کی ایک اورمعروف وادی  دولونگ نالہ  ہے۔ دولونگ اورپھنڈرمیں بڑی مماصلت ہےگویا یہ پھنڈر دوئم ہے۔ وہی سرسبز و شاداب مرغ زار، جھیل نما بل کھاتی نیلگوں ندی، چراگاہ میں مستیاں کرتے ڈھورڈنگر، چوڈائی میں یاسن کا کوئی نالہ اس کا ہمصر نہیں۔ خوبصورتی میں اپنی مثال آپ ہے۔ وادی کےمرکز میں درکوت کے زمینداروں کی جھونپڑیاں تھیں جوکافی حد تک معدوم ہوچکی ہیں، لوگوں کی ترجیحات بدل گئ ہیں، مویشی اوربھیڑبکری کا ریوڑ پالنے کی بجائےلوگ کاروبار، تعلیم اورملازمت کو ترجیح دےرہےہیں، وادی دولونگ کے تین مقامات پرگجرمال مویشی کےہمراہ قیام پزیرہیں۔ دولونگ وادی کےآخری جنوب مغربی پہاڑ کی بلندیاں پار کر کےدسپرتھوئی پہنچا جاسکتا ہے۔  اس بلندی پر ایک چوٹی ہےجو قدرت کا عظیم شاہکار ہے۔ یہ گویا تراشا ہوا  بت ہے لیکن اسےکسی انسان نےنہیں  قدرت نےخود تراشا ہے، اس کی بلندی سینکڑوں فٹ ہے۔ اسے تھوئی اور درکوت کی  ہردو  وادیوں سے دیکھا جاسکتا ہے۔ بدھ مت کےپیروکاروں کو اس کا علم ہوجائےتو شاید یاترا کےلئےبدھ راہبوں کی لائین لگ جائے۔ ہم یاسن والوں نےاسےدوسروں سے کیا خود سے بھی چھپا رکھا ہے۔

درکوت مقام انٹری (ڈاڈنگ بلچر پل) سےقبل دائیں شرقی جانب نیم سرسبزڈھلوان وادی ہے، یہاں جابجا جھونپھڑیاں بھی ہیں، گندم اورجو کےلہلہاتے کھیت بھی۔ دو گھنٹے کی چڑھائی چڑھ  کر پہاڑی عبور کر سکتےہیں۔ اس چوٹی سےپوری یاسن ویلی قدموں کےنیچےآجاتی ہے ،نظارے سے بھرپور لطف اندوز ہوا جا سکتا ہے۔ اس چوٹی سےمحض دس منٹ کی مسافت پر وادی خلتراورا س کی پرکشش جھیل ہے۔ چھملنگ نامی خوشنما پودے( زہریلی جڑی بوٹی) جھیل کےگرداگرد لہلہاتے ہیں۔ یہ جڑی بوٹی بالوں کی نشونما کےلئےاکسیر ہیں۔ جھیل کے سامنے باریک لیکن بےحد بلند برف پوش چوٹی ہے، کہتے ہیں کہ ساٹھ کی دھائی میں یورپی کوہ پیماؤں نے اسےسر کیا۔ خلتر نالہ کے شمال مشرقی بارڈر پر دو پاس ہیں، مشرقی گلیشئیرعبور کرکے بوئموشنی نالہ گرمش پہنچ جائیں گےجبکہ شمالی گلیشئیر عبور کرنے کے بعد خود کو”ہولوجت” اشکومن میں پائیں گے۔ یہ دشوارگزار ہےگائیڈ کےبغیرمہم جوئی نہ کریں۔

نیوبر کا ایک اور شمالی تنگ نالہ جس کےگلیشئیرعبور کرنے میں اگر کامیابی ہوئی تو وادی بروغل کےچئینترگلیشئیر سے نیچےاتر کر گلگت بلتستان بشمول چترال کے سب سےمشہور تاریخی “قرمبرجھیل” کے قریب خود کو پائیں گے۔ یہ جھیل آٹھ مہینے منجمند رہتی ہے، اس کا نصف پانی چترال کی طرف جاتا ہے اورآدھا پانی سوخترآباد گلیشئیر سے ہوتا ہوا اشکومن کی جانب بہتا ہے۔ چترال اور گلگت کےمابین جھیل کا مرکز حدبندی ہے یعنی جھیل سمیت جھیل کےپانی کی ملکیت آدھی آدھی۔

غموبر کےجنوب اور درکوت گاؤں کےمغرب میں “دھولی چھش” نامی مشہور و معروف چوٹیاں استادہ ہیں۔ جن کی بلندی چھ ہزار فٹ سے زائد ہے۔ ہم بروشسکی میں دھولی چھش کےمعنی روٹا ہوا پہاڑ یا ناراض چوٹی لے سکتے ہیں۔ یہ وہ پہاڑ ہےجس کی چوٹیاں درکوت کے باسیوں سےچھپتی رہتی ہیں۔ یہ شرمیلی چوٹیاں چاندی جیسے بادلوں کی آنچل کےچلمن سےکم ہی جانکتی ہے اکثردبیز گھونگٹ نکالتی  رہتی ہیں۔ درکوت کے باسی خاصے شرارتی واقع ہوے ہیں۔ طنز و مزاح ان کا معمول ہے۔ یہ اجنبیوں کے چہرے مہرے، خدوخال، اٹھک بیٹھک، انداز گفتگو کا بغور جائزہ لینے کےبعد طنز سے بھرپورمگر دلچسپ نام رکھ لیتے ہیں،  یہ نیا نام  حیرت انگیز طور پر فٹ بیٹھتا ہےاور اصل نام وقت گزرنے کے ساتھ تحلیل ہو جاتا ہے۔ شاید دھولی چھش کو بھی  یہی خدشہ دامنگیر ہوکہ اس کا بھی کوئی نرالا نام نہ رکھ دیا جائےجو پکارنے پر جگ ہنسائی کا باعث بنے۔ لیکن منڈلانے والی بدلیوں کےبارے میں کیا کہیں جو ان نوکیلے برف پوش چوٹیوں پہ واری نیاری ہوجاتی ہیں۔ ان فلک بوس چوٹیوں کو ہمیشہ اپنے حصار میں رکھتی ہیں، یہ روادار نہیں کہ  ایک جھلک ہی صحیح مگر رقیب کی نظر پڑے ۔

قیامت  ہے  کہ   ہوے    مدعی   کا  ہمسفر  غالب
وہ کافر توخدا کو بھی نہ سونپاجائےہے مجھ سے۔

نیوبر کی دو ندیوں کےمقام اتصال کےساتھ ندی کے آرپارمتعدد جھونپڑیاں آباد ہیں اس مقام کا نام بہوریک ہے۔ قریب ہی دوبلند چوٹیاں ہیں، ایک کو مقامی طور پر تھم بوئی کہا جاتا ہے۔جن میں سے ایک چوٹی کی بلندی 6240 فٹ ہے۔ ان کی تسخیر کےلئےبھی متعدد ٹیمیں آئیں لیکن کامیاب نہیں ہوئیں، یوں ابھی تک ناقابل تسخیر ہیں۔

درکوت کو اپنی خصوصیات کی وجہ سےیاسن میں نمایاں مقام حاصل ہے۔ اس کے سبزہ زار، گلیشئیرز، ندیاں، چشمے، جھرنے، جھیلیں، برف پوش پہاڑوں کا لامتناہی سلسلہ اور سب سے بڑھ کر ایک نہیں دونہیں، چاروں طرف پورے نو  گلیشئیرز سے مزین بارڈر پاسز، ہےنا  دلچسپ بات ! یعنی مہم جو اور سیاح کےانتخاب کےلئےلامحدود مواقعے!!!!  یہ تھا مختصر تعارف، پسند آیا ہو تو اپنی رائےسے  آگاہ کیجیے۔اب چلتےہیں سفرنامہ کی جانب، جہاں کہانی ٹوٹی تھی وہی سے جوڑ لیتے ہیں۔  گرم چشمےسے جہاں تک بلندی پرنظرجاتی تھی ادھر تک کےفاصلےکو تیزی سےچڑھتےہوے صرف پندرہ منٹ میں طے کیا۔ پہاڑ کےاوپرجو جگہ  نیچےسےنظر نہ آتی تھی وہ اب نظر آنےلگی تھی، یہاں سےآگےچڑھائی کم تھی لیکن پتھر ہی پتھر تھے، وہ سفید پتھر جودریاؤں کے کناروں پر ہوتےہیں۔  انہی پتھروں پہ چل کے اگر آسکو تو آؤ   میرےگھرکےراستےمیں کوئی کہکشاں نہیں ہے والی صورتحال تھی۔

گھنٹا مسلسل چلنےکےبعد خدا خدا کرکےپاؤں گلیشئیر پر پڑھ گئے، اب ہم بےحد خوش تھے،  پرجوش تھے، تجسس کےساتھ ساتھ  سہمے ہوے بھی تھے۔ عجیب ملی جلی کیفیت تھی۔  گلیشئیرڈھلوان تھا گویا برف کا پہاڑ کھڑا تھا، آگے بڑھتے تو پاؤں پھسل کر واپس آجاتے،بید کی لاٹھیاں آگےبڑھنےمیں مدد دےرہی تھیں،  جہاں تک نظرآنےوالی حد عبورکیا تو ایک اورڈھلوان استقبال کررہا تھا۔ منیرنیازی نےکیا خوب کہا تھا۔

ایک اوردریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو۔

ایک دریا کےپاراترا جو میں نےدیکھا۔

 دونوں نوجوان اور ناتجربہ کارتھے، انجانی راہ اورنامعلوم منزل، گلیشئیربھی پہلی باردیکھ رہے تھے، نہ گائیڈ نہ نقشہ، اسے جو بھی نام دیں یہ بھرپور ایڈوینچر تھا۔ ایک برفانی پہاڑ کے بعد ایک ، کوئی پانچ ڈھلوانیں عبور کرنے کے بعد  وسعی برفانی میدان میں پہنچ گئے۔  یہ کیا ! اچانک بادل سروں پہ منڈلانے لگے، دھوپ بادلوں کی اوٹ میں چلی گئ، تیز ہوائےبرف اڑ انےلگیں، ٹھنڈی یخ       برف چہروں سے ٹکرائی ، دل ڈوبنےلگا، مجھے وہ باراتی یاد آئے جواسی طرح کی برفانی طوفان میں گھر کر زندہ  درگور ہوے تھے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔