سانحہ راولپنڈی کے اثرات

1 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

عدم برداشت، بر بریت، ظلم و زیادتی ،قتل و غارت گری ،ہمارے معاشرے میں ان تمام برائیوں کا ذکر آئے روز ہوتا ہے،لیکن جس بر بریت کا مظاہرہ سانحہ راولپنڈی میں دیکھنے کو ملا وہ نہ صرف نا قابل بیان ہے بلکہ انسانیت سوز بھی ہے۔ ١٠ محرم الحرام عاشورہ کے دن جب تمام مسلمان حضرت امام حسین (رض) کی کربلاکے میدان میں اسلام کی سربلندی اور حق کی فتح کے لیے دی گئی عظیم قربانی کی یاد تازہ کر رہے تھے، ایسے میں راولپنڈی کے انتہائی مصروف علاقے راجہ بازار میں انسانیت سوز مناظر دیکھنے کو ملے ،اور اس سانحے کے نتیجے میں غیر سرکاری اطلاعات کے مطابق 10 سے ذائد افراد کی زندگیاں چھین لی گئیں اور 50 سے ذائد افراد زخمی ہوگئے جبکہ مسجد و مدرسے سمیت کئی دکانوں کو نذر آتش کیا گیا.

سانحہ راولپنڈی میں قتل و غارت گری کا وہ بازار گرم کیا گیا جس کی مثال کہیں نہیں ملتی، انسا نیت کا اس بے دردی سے قتل عام پاکستان میں پہلی بار نہیں ہوا. اس سے پہلے بھی بیسوں ایسے سانحات رونما ہوتے رہے ہیں لیکن اس سانحے نے جیسے پاکستان کی سر زمین کو ہلا کر رکھ دیااس آگ میں مذید کتنے گھر جلیں گے اس کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا۔کپڑے کالے ہوں یا سفید ،داڑھیاں لمبی ہوں یا چھوٹی انسانیت کا اس طرح قتل عام کرنے والے نہ صرف دہشت گرد ہیں بلکہ حیوانوں سے بھی بد تر ہیں.

سوشل میڈیا پر اس سانحے کی ویڈیوز بھی جاری کی گئی جنھیں دیکھ کر رونگھٹے کھڑے ہوتے ہیں ، اس واقعے کے پیچھے کیا محرکات تھے اور یہ سانحہ کیوں پیش آیا یہ عدالتی کمیشن کی رپورٹ کے بعد پتا چلے گا ،تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اور سیاسی شخصیات نے اس واقعے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور اس میں ملوث افراد کو سخت سزا دینے کا مطالبہ بھی کیا ہے. لیکن اس سانحے کے بعد سوشل میڈیا کے ذریعے اس کے حوالے سے جو بحث چھڑگئی ہے وہ علاقے میں عدم استحکام اور بد امنی پھیلانے کا موجب بن سکتی ہے،وفاقی حکومت نے دل آزار اور فرقہ وارانہ جذبات کو ہوا دینے والے پوسٹس کو روکنے کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی لگانے کا اعلان کر کے احسن اقدام کیا ہے.

راولپنڈی سانحے کے بعد سوشل میڈیا پر کچھ دوست اس واقعے میں ملوث شر پسندوں کادفاع کرتے ہوئے نظر آرہے ہیں جو ہمارے ذہنوں میں چھپی ہوئی گندگی کا منہ بولتا ثبوت ہے ، آج ہم سچ کو سچ ماننے کیلئے بھی تیار نہیں ہیں ، ماضی میں ایسے سانحات میں معاشرے کے تما م افراد نے نہ صرف مذمت کی بلکہ ظالموں کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ،اگر ہم آج بھی مصلحتوں کا شکار رہے اور ملک بھر میں آگ لگانے والے درندہ صفت انسانوں کا دفاع کرتے رہے تو مستقبل میں اس کے منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں۔سانحہ راولپنڈی میں ملوث افراد کے خلاف حکومتی سطح پر احسن اقدامات اٹھائے گئے ہیں ، واقعے میں ملوث افراد کی تصاویر نہ صرف سی سی ٹی وی کیمروں میں محفوظ ہے بلکہ اخبارات اور ٹی وی چینلز سمیت سوشل میڈیا پر ان مجرموں کو باقاعدہ ایکشن میں آسانی سے دیکھا جا سکتا ہے اس لئے حکومت کو مجرموں تک پہنچنا مشکل نہیں ہے، جس واقعے نے پورے ملک میں افرا تفریح پیدا کی ،نفرتوں کو ہوا دی ،فرقہ وارانہ فسادات پیدا ہوئے، اتحاد بین المسلمین کی دھجیاں بکھیر دیں ،اور یوم عاشور کے تقدس کو پامال کیا ایسے واقعے میں ملوث افراد چاہے وہ جس مسلک سے بھی تعلق رکھتے ہوں ،ان کو سخت سے سخت سزا دی جانی چاہیے ،ایسے افراد کی حمایت کرنا سمجھ سے بالا تر ہے۔

گلگت بلتستان میں اس سال محرم الحرام کے دوران بین المسالک باہمی ہم آہنگی کا مظاہرہ کیا گیا جس کی جتنی تعریف کی جائے کم ہے، لیکن ایسے بیانات اورسوشل میڈیا کے ذریعے نفرتیں پھیلانے سے اجتناب کرنا چاہیے جو اس پرامن ماحول کو خراب کرنے کا موجب بن سکیں۔ضرورت اس امر کی ہے کہ لوگ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور اس واقعے کی حکومتی سطح پر انکوائری کا انتظار کریں ،فرقہ وارانہ نفرتیں پھیلانے والوں کے عزائم کو ناکام بنائیں،یہ ریاست کی ذمہ داری ہیکہ وہ اپنے شہریوں کو انصاف مہیا کرے اور مجرموں کو سزا دے۔ 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

pamir.times@gmail.com

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔