زونوٹک بیمارں – چترال میں قصائیوں، مرغی فروشوں اور قصاب خانوں کے معائنے کا پر زور مطالبہ۔

1 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
چترال: ورکشاپ میں شریک افراد کا گروپ فوٹو

چترال: ورکشاپ میں شریک افراد کا گروپ فوٹو

چترال(گل حماد فاروقی) جانوروں سے انسانی زندگی اور انسانوں سے حیوانات کو لگنے والی بیماریوں سے آگاہی اور ان سے بچاؤ اور تدارک کے سلسلے میں ریلیف انٹر نیشنل نے ضلعی زونوٹک کمیٹی کے اراکین کیلئے د و روزہ ورکشاپ کا اہتمام کیا۔ ریلیف انٹر نیشنل کے ڈسٹرکٹ پروگرام منیجر ڈاکٹر ریاض الرحمان داؤڑ نے اپنے ادارے اور اس ورکشاپ کے اعراض و مقاصد بیان کرتے ہوئے کہا کہ ریلیف انٹرنیشنل کا بنیادی مقصد لوگوں میں شعور کی بیداری پیدا کرنا ہے اور ان میں ان بیماریوں کے بارے میں آگاہی پیدا کرنا ہے جو جانوروں سے انسانوں اور انسانوں سے جانوروں کو لگتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آگاہی کے اس سلسلے میں ہم نے پانچ یونین کونسلوں میں کام کا آغاز کیا تھا جو نہایت کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے چترال کے قصائیوں، صحافیوں اور محتلف سکولوں میں طلباء و طالبات کیلئے ان زونوٹک بیماریوں سے بچاؤ کے بارے میں تربیتی ورکشاپ کا اہتمام کیا اور طلباء کیلئے سکولوں میں لائبریری اور اس موضوع پر کتابیں فراہم کئے۔ اسی طرح آیون کے مقام پر باؤلے کتے کے کاٹے ہوئے مریض کو Anti Rabbis vaccineلگوائی اور لشمینیا کے مریض کا بھی مفت علاج کروایا۔ انہوں نے کہا کہ ہم کتے کے کاٹے ہوئے مریضوں کو لگانے کیلئے 160 ڈوز ویکسین پر مبنی محکمہ صحت چترال کو مفت فراہم کئے جو کتے کے کاٹے ہوئے افراد کو مفت لگادی جائے گی۔ شرکاء نے اس بات کا اقرار کیا کہ اس سے پہلے ان کو ان زونوٹک بیماریوں کے بارے میں اتنی معلومات نہیں تھی جو جانوروں سے انسانوں اور انسانوں سے جانوروں کو لگتی ہیں اور لائیو سٹاک فار لائف پروگرام کے تحت ہم مقامی لوگوں کو محتلف طریقوں سے معلومات فراہم کرتے ہیں تاکہ ان بیماریوں سے بچنے کی حفاظتی تدابیر اپنائے۔

شرکاء نے مطالبہ کیاکہ لواری سرنگ کے اس پار ایک وٹرنری ڈاکٹر کو تعینات کیا جائے تاکہ نیچے سے آنے والے جانوروں کی پوری جانچ پڑتال کرکے اسکے معائنہ کے بعد ان کو فٹنس سرٹیفیکیٹ جاری کرے اور ساتھ ہی مرغیوں کو بھی چیک کرے اس کے بعد ان کو ذبح کرسکے اور جو جانوریا مرغی بیمار ہو ان کو ذبح نہ کیا جائے۔ اس سلسلے میں شرکاء نے ڈپٹی کمشنر سے مطالبہ کیا ہ اس سلسلے میں ضروری اقدامات اٹھائے۔ شرکاء نے مقامی مارکیٹ کا بھی دورہ کرکے مرغی اور قصائیو ں کے دکانوں کا معائنہ کیا اور ان کو نہایت مضر صحت قراردیا کیونکہ ان میں کوئی بھی حفظان صحت کے طریقے نہیں اپناتے ۔ انہوں نے مذبح خانہ کا بھی معائنہ کیا انہوں نے نہایت مایوسی کا اظہار کیا کہ مذبح حانہ میں صفائی کا کوئی انتظام نہیں تھا اور بدقسمتی سے جانوروں کو ذبح کرنے ، ان کو صحیح طریقے سے کاٹنے اور بازار تک پہنچانے کی نگرانی کرنے کا کوئی بھی ادارہ ذمہ داری نہیں لے رہی تھی۔ تحصیل میونسپل آفیسر کریم اللہ کا کہنا تھا کہ ان کے پاس عملہ کی نہایت کمی ہے۔ شرکاء نے متفقہ قرارداد کے ذریعے صوبائی حکومت سے مطالبہ کیا کہ چترال میں وٹرنری ڈاکٹروں کی آسامیوں میں اضافہ کرے اور حالی آسامیوں کو فوری طور پر پُر کرکے ان کو مذبح حانہ اور دیگر جگہوں میں تعینات کرے تاکہ ان جانوروں کی ذبح کرنے اور گوشت بازار تک پہنچانے کی عمل کی نگرانی کرے۔ بازار کے معائنہ کے دوران اس بات کا بھی انکشاف ہوا کہ چند قصائی جانوروں کو مذبح حانے کے بغیر گندے اور کھلے میدان میں ذبح کرتے ہیں جو نہایت مضر صحت ہے۔ ورکشاپ میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر نذیر احمد، میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نور الاسلام، پبلک ہیلتھ سپیشلسٹ ڈاکٹر اسرار اللہ خان، ای پی آئی کو آرڈینٹر ڈاکٹر نذیر خان، ڈسٹرکٹ سپورٹ منیجر پی پی ایچ آئی صلا ح الدین، ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر لائیو سٹاک ڈاکٹر نظام الدین، ڈاکٹر وقار، ماہرین تعلیم، صحافی، اساتذہ، ڈاکٹرز، سماجی کارکنان اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی شرکت کی جنہوں نے ریلیف انٹرنیشنل کے ان کوششوں کو نہایت سراہا جو پہلی بار لوگوں کو زونوٹک بیماریوں سے بچاؤ کے طریقوں اور اقدامات کے بارے میں آگاہی دے رہے ہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

pamir.times@gmail.com

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔