چلغوزے

چلغوزے

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

شب گئے  جب   گھر والوں نے  میرے سامنے چلغوزے پیش کئے تو انہیں چھیلتے ہوئے ان کی افادیت اور ان چلغوزوں کو درختوں سے اتارنے اور اسے صاف کر کے مارکیٹ تک پہنچانے اور زینت  بنانے کا    عمل  اورمنظر میرے  ذہن میں اترا   اور آنکھوں کے سامنے  گھومنے لگا  چلغوزہ موسم سرما  کا ہر دلعزیز  میوہ  ۔لذیذ ہونے کے ساتھ ساتھ  گوناگوں  اکسیری افادیت کا  بھی  حامل ہے۔طب کے حوالے سے   بات تو کوئی ماہر طبیب ہی کر سکتا ہے  میں اس میوے کی تیاری اور  اس کو اتارنے  کے عمل پر تھوڑا سا اظہار کرونگا سردیوں کے موسم میں  جب رات کو سب گھر والے اکھٹے بیٹھ جاتے ہیں اور چلغوزے  سامنے ہوں  اور  ان کو چھیلتے ہوئے گپ شپ کا جو مزہ ہے اس کو الفا ظ میں بیان کرنا مشکل ہے  بس یوں سمجھیں  کہ  سب گھر والوں کو اکھٹا  رکھنے اور   ایک دوسرے کی باتوں کو شیئر کرنے  اور  خاندان کی محبتوں  اور چاہتوں کو  بڑھانے میں چلغوزے اور  خشک  پھل ایک پُل کا کردار ادا کرتے ہیں   ۔گلگت بلتستان میں موسم سرما میں  اکثر گھروں میں ایسا سماں دیکھا  جا سکتا ہے۔گلگت بلتستان  کے جنگلوں میں چلغوزے کا درخت بھی پایا جاتا ہے    ۔۔ضلع دیامر اور ضلع استور کے جنگلات    اس کی پیداوار کے لئے مشہور ہیں   عموماً اس کی فصل   ستمبر سے اکتوبر  تک تیار ہو جاتی ہے اس موسم میں  یہاں کے لوگ  چلغوزے  کے سٹے درختوں سے اتارتے ہیں چلغوزے کے درخت اور  اس کے سٹوں کو    ہر کوئی نہیں پہچان سکتا  کیونکہ سٹے  ہر درخت میں  ہوتے ہیں   اور ہر کسی کو یہ معلو م نہیں ہوتا کہ  کونسا سٹہ چلغوزے کا ہے۔ صرف وہی لوگ ہی اسے پہچان سکتے ہیں جو اس کام کے ماہر اور  اتارنے کے عمل سے سے جتے ہوئے ہوتے ہیں ۔علاقے کے رواج کے مطابق      کوئی  فرد وقت سے پہلے درختوں سے سٹے   نہیں اتار سکتا اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اس پر بھاری جرمانہ عائد کیا جاتا ہے ۔  ہر گاوٗں کے رواج کے مطابق  گاوٗں کے لوگ  جو معتبر کہلاتے ہیں وہ    ایک خاص وقت میں  ایک دن پہلے منادی کرتے ہیں  یوں گاوٗں کے مکین    جنگل  سے  چلغوزے  اتارنے    دوسرے دن   گروپ کی شکل میں جنگل پہنچ جاتے ہیں  اور درختوں پر چڑھ جاتے ہیں   مردوں کے ساتھ ساتھ  عورتیں بھی اس کا م میں بڑھ چڑھ کر  حصہ لیتی ہیں   سٹوں کی چنائی اور اتارنے کا طریقہ یہ ہے کہ ایک دفعہ کوئی  فرد درخت پر چڑھ جاتا ہے اور ایک دو سٹے اتار کر نیچے  گرا دیتا  ہے تو  پھر دوسرا  شخص اس درخت پر  چڑھنے کا حق دار نہیں ہوتا اور جس نے سٹے اتار کر گرا دیا ہے یہ درخت اس کی ملکیت تصور ہوتا ہے جس نے  اس کے سٹے اتارے ہیں اسی طرح لوگ زیادہ سے زیادہ  درختوں کو  اپنے قبضے میں کر لیتے ہیں     اس کے بعد  تمام خاندان والے   مل کر سٹے اتارنے کے   کام    میں مصروف ہوجاتے ہیں  پہلے وقتوں میں  اس کے لئے لکڑی کے ہک بناکر استعال میں لائے جاتے تھے لیکن آج کل  ان کی جگہ  لوہے کے ہک نے لے لی ہے  ۔سٹوں کو اتارنے کے بعد ان کو بوریوں میں بھر کر دس سے پندرہ دن تک  گودا  م جسے مقامی زبان یں ڈنگو کہا جاتا ہے رکھا جاتا ہے تاکہ ان پر دھوپ نہ پڑے کیونکہ دھوپ پڑھنے سے   چلغوزے کے سٹے خراب ہوجاتے ہیں  پندرہ روز گزرنے کے بعد ان بوریوں کے سٹوں سے چلغوزے نکالنے کا عمل شروع ہوجاتا ہے  ایک سٹے سے ایک چھٹانک سے دو چھٹانک تک چلغوزے  حاصل کئے جاتے ہیں  یوں ایک بوری سے  دو سے تین کلو  تک چلغوزے  حاصل ہو جاتے ہیں   ۔  سیزن میں  فی خاندان پچیس کلو سے  لیکر چالیس  کے جی تک چلغوزے حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں    اسی طرح یہ چلغوزے پہلے مارکیٹ  اور پھر میرے اور آپ کے گھروں تک پہنچ جاتے ہیں جوہمارے لئے توانائی فرحت  اور   چاہتیں   بڑھانے کا سبب بنتے ہیں

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

pamir.times@gmail.com

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔