یونیورسٹی حالات ٹھیک ہو سکتے ہیں اگر۔۔۔۔۔

views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی جسے گلگت بلتستان میں طلبہ کو اعلی تعلیمی سہولیات مہیا کرنے کیلئے بنایا گیا تھا ،تاکہ یہاں کے طلبہ دیگر صوبوں کی یونیورسٹیوں میں دھکے کھانے سے بچ سکیں ، لیکن گزشتہ 2 سالوں سے اس یونیورسٹی میں جس تیزی سے نفرتیں پروان چڑھ رہی ہیں وہ ایک لمحہ فکریہ ہے،غیر متعلقہ افراد کا یونیورسٹی کے معا ملات پر دخل اندازہونا اور کمزور انتظامیہ کے انتہائی کمزور فیصلے بھی یونیورسٹی کو زوال کی طرف دھکیل رہے ہیں ،مادر علمی جس کے قیام پر گلگت بلتستان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی اب گلگت شہر کے امن اور بھائی چارے کو سبوتاز کرنے کا سبب بن رہی ہے۔ طویل امن کے بعد ایک بار پھر نفرتوں کا آغاز اسی مادر علمی سے ہوا، اس تمام حالات کے پیچھے کہیں انتظامیہ کی بے بسی نظر آتی ہے تو کہیں یونیورسٹی انتظامیہ کی ناقص حکمت عملی .

آج طلبہ ایک چھت کے نیچے تعلیم حاصل کرنے کے باوجود ایک دوسرے سے دست و گریبان ہیں ، یونیورسٹی کے اند ر پیدا ہونے والے ان تمام نا خوشگوار حالات کے پیچھے غیر متعلقہ افراد کی دخل اندازی بھی شامل ہے، یونیورسٹی کے اندرطلبہ کی ڈور باہر بیٹھ کر کچھ لوگ ہلاتے ہیں جس کی وجہ سے یونیورسٹی اندر حالات خراب سے خراب تر ہوتے چلے جا رہے ہیں ، جس مقصد کیلئے اس مادر علمی کا وجو د عمل میں لایا گیا تھا وہ مقصد فوت ہو چکا ہے، اب یونیورسٹی میں طلبہ تعلیمی سرگرمیوں میں ایک دوسرے سے بر تری حاصل کرنے کے بجائے من مانی میں برتری حاصل کرنے کی مشق میں مصروف ہیں ، اگر بر وقت یونیورسٹی کے معاملات پر کوئی مضبوط فیصلہ نہیں کیا گیا تو مستقبل میں شہر میں امن کا قیام ایک خواب بن جائیگا ،یونیورسٹی کے اندر تمام مکاتب فکر کے طلبہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں ہونا تو یہ چاہیے کہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم طلبہ گلگت میں امن کیلئے اپنا کردار ادا کریں مگر یہاں ایسا نہیں ہو رہا چند بیمار ذہن لوگوں کی وجہ سے صرف تعلیم حاصل کرنے کیلئے یونیورسٹی میں داخلہ لینے والے طلبہ کا مستقبل داو پر لگ گیا ہے۔جس یونیورسٹی سے تحقیق و تدریس کی مثالیں ملنی چاہئے وہاں سے نفرتیں جنم لینے لگیں ہیں ۔ 

پاکستان کے بہترین یونیورسٹیوں میں ایڈمنسٹریشن کا اگر جائزہ لیا جائے تو وہاں نظم و ضبط کی کئی مثالیں نظر آتی ہیں ،زیادہ تر یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر ریٹائرڈ آرمی جرنیل ہوتے ہیں جبکہ یونیورسٹی کے اندر آرمی کی چیک پوسٹ قائم کی جاتی ہے تاکہ غیر متعلقہ افراد یونیورسٹی میں داخل نہ ہو سکیں ، یونیورسٹی کے اندر سب کیلئے یکساں اصول وضع کئے جاتے ہیں اور یونیورسٹی کے ڈسپلن کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ سختی سے نمٹا جاتا ہے، اس میں کوئی شک نہیں کہ قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی کے اند ر پیدا ہونے والی موجودہ صورتحال یونیورسٹی انتظامیہ کی نا اہلی اور اپنے فیصلوں پر عملدر آمد کرانے کی صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے ہے۔اگر یونیورسٹی کے حالات ٹھیک کرنے کیلئے گلگت بلتستان کی حکومت،انتظامیہ، مقتدر حلقے ، یونیورسٹی انتظامیہ ، سیاسی نمائندے سنجیدہ ہیں تو ضرورت اس امر کی ہے کہ وقت ضائع کئے بغیر دو اہم فیصلے کرنے ہونگے،یونیورسٹی کی وائس چانسلر کو ہٹا کر کسی ریٹائرڈ فوجی سربراہ کو یونیورسٹی کا ہیڈ بنایا جائے ، یا پھر یونیورسٹی کے اندر پاک آرمی کے چیک پوسٹ کا قیام عمل میں لایا جائے تاکہ یونیورسٹی کے اندر ہر کوئی منہ اٹھا کر داخل نہ ہو سکے ،اور کسی کو بھی یونیورسٹی کے بنائے گئے اصولوں کی خلاف ورزی کرنے کی جرات نہ ہوسکے، کہتے ہیں کہ لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے اسی طرح اب وقت آچکا ہے کہ خوشی سے یا مجبوری سے ان دو فیصلوں میں سے ایک فیصلہ کرنا پڑیگا ، بصورت دیگر موجودہ بگڑتے حالات گلگت بلتستان کو فرقہ وارانہ آگ میں دھکیلنے کیلئے کافی ہیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

pamir.times@gmail.com

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔