بلاول کا وعدہ اورخطے کی ضرورت

views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+
اخباری اطلاعات کے مطابق چیرمین پاکستان پیپلزپارٹی جناب بلاول بھٹو ذرادری نے گلگت بلتستان اسمبلی کی ارکین کابنیہ سے ملاقات کے دوران وعدہ کیا ہے کہ پانچ سال بعد دوبارہ حکومت میں آکر گلگت بلتستان کو پاکستان کا آئینی صوبہ بنا کر رہیں گے۔ یعنی پاکستان کی سیاست میں عوام کو بیوقوف بنا کر واری واری یقینی ہے کیونکہ اس سے پہلے ذرداری صاحب بھی کہ چکے ہیں کہ ہم میاں صاحب کو پانچ سال تک تنگ نہیں کریں گے اور میاں نواز شریف نے بھی اس طرح اُنہیں پانچ سال کا مدت پورا کرنے کیلئے بھرپور ساتھ دیایہ تو تھا پاکستانی عوام کو مامو بنانے کے طریقہ کار ۔لیکن گلگت بلتستان کے حوالے یہ اعلان کرنا کس بات کی نشاندہی کرتاہے عوام کو کیا پیغام دینا چاہتا ہے؟ میرے خیال سے اب عوام جان چُکی ہے کہ گلگت بلتستان میں پیپلزپارٹی کی حکومت ناکام رہی عوام سے کئے ہوئے وعدے پورے نہیں ہوئے ایسے میں چیرمین کا بیاں ایک بار پھر عوام کو جھوٹے وعدوں کے ذریعے بیداری سے روکنے کی سازش کاحصہ ہے جسکا تیر زرداری صاحب نے ہمیشہ کی طرح بلاول کی کاندھے پر رکھ کر چلایا تاکہ آنے والے الیکشن میں ایک دفعہ پھر انہیں عوام کی ہمدردی حاصل ہو۔اس بات میں کوئی شک نہیں کہ گلگت بلتستان پیکج کے حوالے سے ذرداری صاحب کی ذا تی کوشش شامل تھی انہوں نے بھی اس پیکج کے حوالے سے کئی امور پر غور کیا جس میں کشمیر کی طرز پر حکومت قائم کرنا،آئین میں ترمیم کرکیمستقل طور پر پاکستان میں شامل کرنا اور فاٹا کی طرز پر سینٹ اورقومی اسمبلی میں نشست دینا وغیرہ وغیرہ لیکن بین الاقوامی قوانین اور مسلہ کشمیر کے حوالے سے ممکنہ مشکلات کے سبب موجودہ نظام سے بڑھ کر پاکستان گلگت بلتستان نہیں دے سکتا تھا یوں انہوں نے ایک غیرآئینی صوبے کا نام دیکر اس دفاعی اور جعرافیائی اہمیت والے خطے میں پاکستان کی رٹ مزید مستحکم کیا۔ہمیں یاد ہے اس اعلان کے بعد انڈیا نے باقاعدہ احتجاج کیا تھا لیکن نہیں معلوم دفتر خارجہ نے انہیں کیا یقین دلایا کہ بھارت خاموش ہوگئے۔ان تمام حقائق کا علم رکھتے ہوئے بھی بلاول کا یہ وعدہ پارٹی کارکنان کی دل جوئی کیلئے تو بہتر ہوسکتا ہے لیکن عوام اب اسطرح کے جھوٹے وعدوں کوسمجھچکے ہیں اس خطے کی عوام کے ساتھ پہلے ہی بہت سے جھوٹے وعدے کئے لیکن عمل نہیں ہوسکا لہذا جب پانچ سال بعد آپ کی حکومت آئے گی اُس وقت کے مسائل اُسی وقت کیلئے رکھیں تو بہتر ہے فلحال اس خطے کو امن کی ضرورت ہے یہاں کی امن خراب کرنے میں ہمیشہ سے پاکستان کے ذمہ دار ادارے ملوث رہے ہیں اگر آپ گلگت بلتستان سے اتنی الفت رکھتے ہیں تو اس سازش کو بے نقاب کریں۔یہاں کے عوام کو ایک بار پھر راشن کارڈ تھما کر پھر سے راجاوں کے دور میں دھکیلنے کی تیاری ہورہی ہے گندم کی جس سبسڈی کو یہاں کے عوام آئینی حقوق سمجھ کر خوش رہتے تھے آج اُسے ختم کیا جارہا ہے یعنی وفاق نے ایک سازش کے تحت سستا گندم سپلائی کرکے عوام کو زراعت سے غافل کردیا اب گندم کی سبسڈی ختم کرکے غریب عوام کو تین وقت کی روٹی کیلئے ترسانے کی تیاری ہورہی ہے لہذا اس اہم ایشو پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ اسکے علاوہ اس متنازعہ خطیمیں ملکی اور غیر ملکی مداخلت حد سے بڑھ رہی ہے اسکو کنٹرول کرنے کیلئے اقدمات کرنا باقیہے ۔پانچ سال کی حکمرانی نے گلگت بلتستان کے سرکاری افیسر زکو رشوت اور کرپشن کے جو نت نئے طریقے سکھائے ہیں اس کو اگلی حکومت تک منتقلی سے روکنے کیلئے آواز اُٹھائیں کیونکہ آپ کے ناتجربہ کار وزاراء نے پانچ سال میں اس خطیسے سب کچھ چھین کر کسی نے محل بنایا تو کسی نے کاروبار میں وسعت کی تو کسی کو اچھی نوکری ملی لیکن عوام کو نہ روٹی ملی سکی نہ کپڑا اور نہ مکان ۔اگر آپ کو پانچ سال بعد دوبارہ گلگت بلتستان میں حکومت بنانے کا شوق ہے توان پانچ سالوں اپنے جیالوں کو ایمانداری اور معاشرتی اصول سکھائیں کیونکہ کسی وزیر یا مشیر میں تعلیم تو پہلے سے ہی نہیں تھے مگر صوبے کی اس جعلی نام نے ان سے ایمان اور معاشرتی اصول بھی ختم کرادئے اس لئے بہتر ہے کہ پہلے اپنے کارکنان کو تیار کریں پھر صوبے کو آئینی بنانے کے جو ناممکن خو اب جو آپ سندھ میں بیٹھ کر دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں اس پر ممکنہ کوشش کریں۔آپ سے یہ بھی گزارش ہے کہ اگر اگلے پانچ سال بعد آپ کی حکومت نے آنا ہے تو ایک پڑھے لکھے چیف منسٹر کی تربیت ابھی سے شروع کریں کیونکہ ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ شخص ہی خطے کی ترقی کیلئے کردار ادا کرسکتا ہے۔ اورعرض ہے کہ آپ کے وزراء نے جس طرح میرٹ کو پامال کر کے یہاں کی محکمہ تعلیم کو جو نقصان پونچایا ہے پارٹی کی سطح پر ان حضرات سے جواب طلب کریں کیونکہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی تربیت کا بنیادی ضرورت ہے لیکن بدقسمتی سے آپ کے وزراء نے تعلیم کو کاروبار سمجھ کر استعمال کیا یہی وجہ ہے کہ آج بھی اس خطے کی اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگ مزدوری کرنے پر مجبور ہے لیکن جعلی ڈگری والے عناصر آپ کے وزراء پشت پناہی سے گلگت بلتستان کی محکمہ تعلیم اور دوسرے اہم سرکاری عہدوں پر قابض ہے اورجس خطے کوآپ کے نانا نے سکول نیٹ ورک کے ذریعے جدید دنیا میں متعارف کرانے کی کوشش کی تھی آج آپ ہی کے وزراء کی بدولت گلگت بلتستان کا نظام تعلیم رشوت کرپشن اقرباپروری کا گڑھ بن چکا ہے۔لہذا براہ کرم ہمیں صوبے کا جانسا دیکر لوریاں سُنانے کے بجائے پانچ سال کا حساب دیں کیونکہ تاریخ میں پہلی بار ایک سسٹم کے ذریعے حکومت قائم ہوئی لیکن اس نظام نے یہاں کی تمام تر نظام کو مفلوج کر کے چند لوگوں کی جیب تک محدود کردیا۔اگر آپ گلگت بلتستان سے اتنا لگاو رکھتے ہیں تو جو و عدے
نئے اضلاع کے حوالے سے کئے تھے اس پر فوری عمل کیلئے حکم نامہ جاری کریں کارگل سکردو روڈ کو خطے کی بہتر معشیت اور بکھرے خاندانوں کی خاطر کھولنے کیلئے جو جدوجہد جاری ہے انکی حمایت کریں۔
گلگت بلتستان میں بڑھتی ہوئی مذہبی منافرت کو ختم کرنے کیلئے عملی جدوجہد کی ضرورت ہے کیونکہ آپ ہی کی حکومت میں یہاں سب سے ذیادہ ایک خاص مکتب فکر سے تعلق رکھنے والوں کاقتل ہوا اور آپ ہی کے دور میں گرفتار ملزمان چاہئے اسد زیدی شہید کا ہو یا سانحہ چلاس اور کوہستان کا ہو باعزت بری ہوکر ایک بار پھر للکار رہے ہیں اور آپ ہی کے حا کمیت میں گلگت میں کھڑا ہوکر یہاں کی اکثرتی آبادی پر کفر کا فتوی لگا کریہاں کی امن خراب کرنے کی مذموم کوشش کی لیکن محکمہ داخلہ محو تماشا رہے۔لہذا گزارش ہے کہ لوری کے بجائے کرپشن اور مذہبی منافرت سے پاک حکومت کی قیام کیلئے کوشش کریں تاکہ عوام کو امن میسر ہو اہلیت رکھنے والوں کو نوکریوں کا حصول ہو اور سب سے بڑھ کر یہاں پر غیروں کی مداخلت کی وجہ سے پیدا ہونے والی مذہبی منافرت کا خاتمہ ہو ۔
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

pamir.times@gmail.com

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔