پتھر پر اسمِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم‘ شہادتِ حق

2 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

تحریر: امیرجان حقانیؔ 

یہ ایک حقیقت ہے کہ حقیقت چُھپتا نہیں۔ حق و صداقت کو منوایا نہیں جاتا بلکہ وہ اپنے آپ خود منواتا ہے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم‘ وہ عظیم الشان انسان ہیں جس کی نظیرانسانوں میں ڈھونڈنا عبث بلکہ گناہ ہے۔یہ وہ نبی ؑ ہے جس نے مظلوموں کی داد رسی کی اورمحروموں کو ان کا حق دلایا،قیام امن و نگرانی حقوق کے لیے انجمنیں قائم کی۔نزول وحی نبوت کے مقام سے سرفراز ہونے سے قبل ہی آپ ’’ الصادق والامین‘‘ سے ملقب تھے۔آپ ؑ وہ انسان ہیں جو جملہ قبائل کی طرف سے حَکَم مقرر ہوئے ‘ حجرِ اسود کا واقعہ برہان ہے۔میرے نبی ؑ نے غیروں کو عزت سے نوازا‘ کافروں کی تکریم کا حکم دیا،سیرت کا مطالعہ بتاتا ہے کہ طائف میں جن لوگوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتِ حق اور تبلیغِ اسلام کو سننے سے انکار کیا تھا اوراوباشوں کو آپ صلم کی تحقیرو تضحیک پر مامور کردیا تھااورآپ پر پتھر پھینکوائے تھے اوربعد میں حضرت عروہؓ جو کہ ان کے سردار بھی تھے کوتبلیغِ اسلام کی وجہ سے شہیدکیاتھا‘یہی لوگ جب دربارِنبی ؑ میں حاضرہوئے تو حضرت مغیرہ بن شعبہؓ کی درخواست پر آپ صلم نے ایک تاریخ ساز جملہ ارشاد فرمایا کہ’’لا امنعک ان تکرم قومک‘‘ یعنی میں منع نہیں کرتا کہ تم اپنی قوم کی عزت کرو۔کاش !تعلیمات نبوی صلم کا یہی چیپٹر(Chapter) ٹیری جونز ‘سام بیسائل ؑ جیسے دوسرے گستاخانِ رسول اور غلیظ باطن رکھنے والے بدبودار انسانوں کو سمجھ آجاتا۔کتنادرد اور دکھ کی بات ہے کہ مغرب حیوانات ‘ جمادات و نباتات تک کے حقوق کا علمبردار نظرآتا ہے مگر عالم اسلام کے نیک جذبات و حقوق اور نبی رحمت کے حقوق کو علی الاعلان پامال کرتا نظرآتا ہے جس سے آج کی گلوبل ویلیج میں بجائے محبت و مودت کے ‘نفرت و کدورت کے جذبات پروان چڑھ رہے ہیں۔

haqqani logo and pictureیہ ایک ناقابل تردید اور اٹل حقیقت ہے کہ نبی ملحم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اقدس کے احسانات اُمتِ محمدیہ تک محصور و محدود نہیں بلکہ عالم انسانیت‘ حجر و شجر اور حیوانات تک کو محیط و مبسوط ہیں۔آپ کی رسالت کی گواہی صرف انسانوں نے نہیں حیوانات اور حجرو شجر ‘ چرندو پرند اور اللہ تعالٰی کی دوسری تما م مخلوقات نے بھی دی ہے۔اور یہ گواہی دینے والی مخلوقات کا کسی خاص علاقے کے ساتھ خاص ہونا بھی لازم نہیں‘گلگت بلتستان کے مسلمانوں کی طرح یہاں کے پتھر بھی آپ صلم کی ذات اقدس کی بلندی‘ اوصاف حمیدہ‘شان جلالی‘ رحمت کاملہ‘نبی برحق اور رسالت حق کی گواہی دے چکے ہیں۔

ہم آج کی محفل میں ایک ایسے پتھر کا ذکرِخیر چھیڑنا چاہتے ہیں جس نے یہ گواہی بدرجہ اتم دی ہے۔جامعہ نصرۃ لاسلام گلگت بلتستان کا قدیم دینی درسگاہ ہے۔جامعہ کے بانی مبانی حضرت مولانا قاضی عبدالرزاق صاحبؒ ہیں جو دارالعلوم دیوبند کے فاضل ہیں اور حضرت مدنیؒ قدس سرہ کے تلمیذ خاص ہیں۔جامعہ کی آبیاری قاضی صاحبؒ کے ہونہار تلامذہ بالخصو ص مولانا گل شیرخانؒ ‘ مولانا نذیراللہ خان ؒ اور دوسرے کبار علماء نے کی ہے۔جامعہ نصرۃ الاسلام کی ایک بہترین لائیبریری ہے جہاں نایاب و نادر کتب ہیں۔ جناب منصورالزمان صدیقی صاحب مدظلہ نے اپنی ذاتی لائیبریری ‘جامعہ کی لائبیریری کو ہدیۃً دی ہے۔ جامعہ کی لائبریری میں ایک خوبصورت پتھر ہے ۔ جس پر واضح طور پر ’’ محمد‘‘ لکھا ہوا ہے۔ اس پتھر کا وزن کم و بیش چھ( 6) من ہوگا۔دراصل یہ پتھر ضلع دیامر کے معروف علاقے گوہرآباد گیس کے پل کے سامنے سے دریافت کیا گیا ہے۔1976ء کوجناب محمدعالم صاحب (ممبر چیف کورٹ)نے گیس پل کے بالمقابل کے ۔کے ۔ایچ میں دیکھا ہے۔K.K.Hکی تعمیر کے وقت بلاسٹنگ کے بعد یہ مقدس پتھر روڈ میں پڑا ہوا تھا۔ محمد عالم صاحب نے کچھ جوانوں کی مدد سے اس پتھر کو ایک اونچی جگہ میں احترام سے رکھوا دیا۔بعد میں کسی نے نیچے گرا دایاتو دوبارہ بڑی مشکل سے اوپر روڈ پر لاکر احترام سے رکھوا دیا۔ان کے بقول و قتاََ فوقتاََوہ اس پتھر کو دیکھتے رہتے۔تب تک اس کی شہرت ہوچکی تھی۔محمد عالم صاحب کو ابھی تک قلق ہے کہ انہوں نے اس حجر متبرک کو اپنے گھر محفوظ کیوں نہیں رکھا۔ وہاں سے حجرمقدس کو چلاس کے مشہور بسم اللہ ہوٹل (المعروف لالو ہوٹل) کے مالک الحاج داد علی المعروف لالو چچا نے اپنی جیپ میں ڈال کر گونرفارم اپنے گھرلے آئے۔ بقول الحاج داد علی صاحب کے ’’چلاس کے مولانا عبدالباقی جواس وقت صوبہ سرحد کے وزیر تھے۔ ان کے پا س آئے اور کہا کہ وہ اس پتھر کو صوبہ سرحد کے گورنر جناب فضل الحق صاحب کو تحفہ دینا چاہتے ہیں ۔ تو میں نے کہا کہ اپنے والد صاحب سے مشاورت کرونگا۔ ان کے والد صاحب ان دنوں دعوت تبلیغ میں ملک کے مختلف علاقوں میں وقت لگاچکے تھے نے کہا کہ اگر یہ اس طرف گیا تو وہاں شرک و بدعت عام ہے ‘ لوگ اس کی پوجا پاٹ شروع کریں گے جس سے فائدے کے بجائے نقصان ہوگا۔ تو میں نے مولانا عبدالباقی صاحب سے معذرت کی۔ بعد میں گلگت کی جامع مسجد کے خطیب مولانا قاضی عبدالرزاق صاحب نے بھی پیغام کہلوا بھیجا کہ وہ مقدس پتھر مجھ تک پہنجائے۔ڈی سی شریف صاحب اور جج غزنوی صاحب ان دنوں چلاس میں ڈیوٹی کررہے تھے‘ دونوں قاضی صاحب کے داماد تھے کو میرے پاس بھیجا ، مگر میں نے والد صاحب سے مشاورت کا کہہ کر ٹال دیا۔پھر ایک دفعہ غالباََ 1981ء کوحضرت قاضی صاحب خود ہمارے گھر میں تشریف لائے۔ اس وقت میں گھر پر موجود نہیں تھا۔ قاضی صاحب کے ساتھ اور علماء کرام بھی تھے۔ انہوں نے میرے گھر والوں کو سلام کیا اور کہا کہ ہم آپ کے مہمان ہیں۔ گلگت سے آئے ہیں۔ تو گھر والوں نے مہمان خانے میں بیٹھا کر ان معزز مہمانوں کو کھانا کھلایا اور خوب خاطر مدارت کی۔ آخر میں قاضی صاحب نے فرمایاکہ میرے آنے کا اصل مقصد اس مقدس پتھر کو لے جانا ہے۔تب میری شریک حیات نے حضرت قاضی مرحوم کو یہ متبرک پتھرلے جانے کی بخوشی اجازت دی ۔یوں قاضی صاحب رحمہ اللہ حکم پر ملک شریف صاحب ٹریکٹر بک کروا کے اس قیمتی اور متبرک پتھر کو گلگت لے گے۔ بعد میں میں نے گلگت جاکر حضرت قاضی مرحوم سے گزارش کی کہ و ہ اس پتھر کو اپنی نگرانی میں ہی کسی متبرک و صاف جگہ پر رکھو ا دیں۔ انہوں نے مجھ سے وعدہ کیا اور مسلمانوں کے مرکزی عیدگاہ کے محراب میں احترام سے رکھوا دیا‘‘۔

ایک دفعہ کشمیر سے جناب سردارمحمد عتیق صاحب(صدر مسلم کانفرنس آل جموں وکشمیر و سابق وزیراعظیم آزاد کشمیر)گلگت تشریف لائے تو حضرت قاضی مرحوم نے اس مبارک پتھر کی زیارت انہیں بھی کرائی۔ انہوں نے کہا کہ یہ تو انتہائی قیمتی شئی ہے۔آپ اس کو کسی محفوظ جگہ منتقل کردیں۔قاضی صاحب نے جامعہ نصرۃ الاسلام کی لائیبریری منتقل کردیا۔ بقول قاضی نثار احمد کے کہ ’’ حضرت والد گرامی کی چاہت تھی کہ مرکزی جامع مسجد گلگت میں کوئی چپوترہ بنایا جائے اور اس مقدس پتھر کو وہاں رکھ دیا جائے‘‘۔ تاہم ایسا نہ ہوسکا۔حضرت مولانا نذیراللہ خان مرحوم نے مدرسے کی ایک جائزہ رپورٹ میں اس کے بارے یوں لکھا ہے کہ’’ قال اللہ تعالیٰ: و مامحمدالا رسول قد خلت من قبلہ الرسل، أخی المشاہد ! انظر فی أحجار جلجت، التی تشہد برسالۃ نبینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم، فیا للأسف علی من ینکر ھذہ الرسالۃ من البشر‘‘۔

یہ ایک اٹل حقیقت ہے کہ تمام انبیاء ومرسلین ہر قسم کے چھوٹے بڑے گناہوں سے معصوم ہوتے ہیں۔ تمام انبیاء علیہم الصلواۃ والتسلیمات کی نبو ت و رسالت و بعثت کا اولین تقاضا ہی یہی ہے کہ وہ عملی زندگی اور اپنے خیال وفکر‘سوچ واحساس اور ارادے میں ہرقسم کے صغیرہ و کبیرہ گناہوں سے پاک وصاف اور طاہر ہوں اورہر قسم کی عصیان سے معصوم ہوں‘ اس لیے کہ بندگان خدا کو خدا وحدہ لاشریک کے پیغام پہنچانے میں کوئی کمی بیشی نہ کریں اورنیابت اللہ کے فرائض و ذمہ داریوں کو درست معنوں میں بلا افراط و تفریط ادا کرسکیں۔ اس پر امت کا اجماع ہے اور یہ ایک طے شدہ معاملہ اورمتفق علیہ عقیدہ و نظریہ ہے۔کاش مغرب اور مغرب کا ہزیانی میڈیا کو یہ تلخ حقیقت سمجھ آجائے۔مغرب اس بات پر تلا ہوا ہے کہ انسانیت کا محسن اور پیغمبر اسلام کی ناموس و عصمت پرکسی نہ کسی انداز میں وار کیا جائے۔ محسن کائنات اور مسلمانوں کی دل آزاری ان کا وطیرہ بن چکاہے۔خدا تعالیٰ نے قرآن کریم میں ان کے خبث باطن کو یوں یبان فرمایا ہے۔’’قد بدت البغضاء من افواھہم و ماتخفی صدورھم اکبر‘‘۔ کہ’’ بغض ان کے منہ سے ظاہر ہوچکا ہے اور جو کچھ(عداوت و دشمنی) ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں وہ کہیں زیادہ ہے۔‘‘۔یہ ہے ان کی حقیقت، لہذا امت مسلمہ اور مسلم ریاستوں پر اجتماعی فرض ہوچکا ہے کہ وہ اس ناپاک اور غلیظ روش کے سدباب کے لیے مؤثر پلان بنائے اور اس پر عملی جامہ بھی پہنائے۔

جس نبی کی رسالت کی گواہی انسان تو انسان پتھر اور اللہ کی دوسری مخلوقات بھی دیں آج اس نبی کی حرمت پر ناہنجار حملے کررہے ہیں۔ کاش آسمانوں کو تسخیر کرنے والے اور چاند پر پہنچنے والے ‘ رسالت مآب صلم کی حق و صداقت اور حرمت کا ان پتھروں سے ہی پوچھ لیتے کہ انہوں نے شہادتِ حق کس انداز میں دی ہیں۔وماعلینا الا البلاغ

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

pamir.times@gmail.com

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔