ہم اور جانور

1 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

شمس الحق قمرؔ 

حضرت ابو ہریرہ  سے روایت ہے کہ نبی صلم نے فرمایا کہ’’ ایک آدمی کو طویل سفر کے دوران سخت پیاس لگی ،ساتھ ایک گہرا کنواں تھا یہ آدمی بمشکل اُس کنواں میں اُترا اور خوب پانی پی کر جب واپس نکلا تو اسے پیاس سے ایک نڈھال کُتا اپنی زبان کنویں کے ساتھ ٹپکے ہوئے پانی کے قطروں کو چاٹتا ہوا نظر آیا ۔ اُس آدمی کو کُتے کی اِس صورت حال پر پہت رحم آیا ۔ وہ فوراً گہرے کنویں میں کود پڑا اور اپنے جوتے میں پانی بھر کے دانتوں سے پکڑا اور گہرے کنویں سے باہر اکر کُتے کو غٹا غٹ پلا دیا کُتے نے اپنی دم ہلاتے ہوئے اُس نیک ادمی کا شکریہ ادا کیا ۔ یہ اللہ کے وہ بندے ہیں جن سے اللہ تبارک وتعالیٰ ہمیشہ خوش رہتا ہے ‘‘ یاد رہے کہ وہ آدمی مسلمان نہیں تھا ۔لیکن نیی پاکﷺ نے اُسے یہ بشارت فرمائی کہ اللہ تبارک وتعالیٰ اپنے اُس بندے سے خوش ہے۔ قران پاک میں ایک اور جگہے پر اللہ تبارک وتعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ( مفہوم ) میں اپنے اُن بندوں سے خوش ہوتا ہوں جو میری مخلوق کا خیال رکھتے ہیں۔ نبی کریم صلم کے حدیث مبارکہ اور ارشاد باری تعالیٰ سے تمہید باندھتے ہوئے میں آپ تمام قارئین کی توجہ اپنے علاقے کی باسیوں کی جنگلی حیات کی طرف وحشیانہ سلوک کی طرف مبذول کروانا چاہتا ہوں ۔

پچھلے دنوں محترم اقبال حیات صاحب کا ایک انتہائی دلچسپ اور سبق آموز مضمون ہمارے علاقے میں پرندوں خاص کر انتہائی بے ضرر اور پُر امن آبی حیات کی زینت یعنی مرغابیوں پر بے جا ظلم و تشدد پر چھپا تھا ۔ اس سے پہلے محترم پروفیسر (ر) سعید اللہ جان صاحب کا ایک مضمون چھپا تھا ۔ قابل عزت و تکریم لکھاریوں نے بے رحم شکاریوں سے اپنے ماحول کو درپیش خطرات سے بچانے کی اپیل کی ہے ۔لیکن میں مذکورہ حدیث مبارکہ کی روشنی میں اپنے ایک چشم دید واقعے کی طرف آپ کی توجہ مرکوز کرنا چاہتا ہوں ۔ یہ غالباً 1997 کا سال تھا جب گرمیوں میں تھوڑی بہت بارش ہوئی ندی نالوں میں سیلابی ریلے آئے اسی رات ریشن سے متصل گاوں زئیت میں آسمانی بجلی گرنے سے کئی ایک گھرانے مکمل طور پر سیلابی تودے کے نیچے دب گئے اور Duck Huntingایک نوجواں بھی ملبے کے نیچے دب گیا ۔ ہمیں جب پتہ چلا تو ہم بھی بونی سے زئیت کی طرف روانہ ہوئے تاکہ لوگوں کی مدد کر سکیں ۔ اُس وقت کوراغ کے نالے میں بھی سیالاب آیا تھا ۔چترال سے آنے والی گاڑیا ں کوراغ میں سواریوں کو اتار کر واپس چترال کی طرف جارہی تھیں اور مستوج سے آنے والی گاڑیاں سواریوں کو اتار کر چترال سے آنے والے مسافروں کو اُٹھا کے لے جاتی تھیں ۔ہمارے لوگ اپنی علاقائی فطرت سے مجبور ایک بھگدڑ برپا کئے پریشانی کے عالم میں اُس نالے کے آر پار ہو رہے تھے ایسا لگتا تھا جیسے وہ اپنی منزلوں تک اگر نہ پہنچ سکے تو کوئی بہت بڑا واقعہ اُن کے ساتھ پیش آئے گا ۔ نالے کے عین اوپری سطح پر کھیت کے ساتھ ایک باریک سے آبی گزر گاہ میں ابھی تھوڑا سا صاف پانی بھی آرہا تھا ۔ تین آدمی دنیا مافیہا سے بے خبر اُس پانی کے آس پاس بیٹھے کچھ کر رہے تھے ۔ میں نے سوچا چل کے دیکھ لیتے ہیں کہ اِس ہو کے عالم میں وہ لوگ وہاں کیوں پُر سکون بیٹھے ہوئے ہیں ۔ قریب جاکے دیکھا تو کوئی غیر ملکی سیاح تھے جو کہ سیلاب کی لہروں کے ساتھ پھنے کیچڑ میں لت پت مینڈکوں کو اُس صاف پانی میں نہلا نہلا کر چھوڑ رہے تھے ۔اُ ں کے کام میں یہ حسن دیکھ کرمیں انگشت بہ دندان رہ گیا ۔اور سوچتا رہا کہ ہم جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور اتنا راسخ العیدہ مسلمان گردانتے ہیں کہ اللہ تعلی سے قربت کی خاطر ہر قسم کی قربانی کے لئے زبان طور پر تیار ہیں ۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے یہ غیر ملکی اور غیر مسلم لوگوں کے حسنِ کارکردگی کے بارے میں آپ کیا کہیں گے ؟ میری نظر میں یہ لوگ عین عبادت کر رہے تھے ۔اور میری نظر میں اُن کی یہ عظیم عبادت قبولیت کے اوجِ کمال کو پہنچی ہوئی تھی ۔

اب ایئے ہم اپنی صورت حال پر ایک نظرڈالتے ہیں۔مجھے وائلڈ لائف کے ایک پرانے کارندے نے ایک فاختے کی دلگداز کہانی سنائی جو کہ میرے گاؤں بونی میں پیش آئی ۔یہ اپریل کا مہینہ تھا ایک بیچارہ فاختہ امن اور آشتی کا پیغام لیکر روس کے کسی علاقے سے ایک لمبی مسافت کے دوران تھک ہار کے ایک پیڑ پر تھوڑی دیر کے لئے پڑاؤ ڈالنا چاہا ہی تھا کہ ایک طویل عرصے سے تاک میں بیٹھا ہوا ایک بے رحم شکاری یہ سب کچھ بھول گیا کہ یہ بھی مخلوق خدا ہے ، یہ بے ضرر ہے ، اِسے دنیا امن کا پیمبر سمجھتی ہے ، مجھے خدا کی مخلوق پر رحم کھانا چاہئے کیوں کہ اللہ تعالی نے مجھے عقل و خرد سے نواز رکھا ہے ،میں مختار ہوں یہ مجبور ہے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ میں اشرف المخلوقات ہوں ، بے چارے فاختے کو اپنے بندوق کا نشانہ بنایا لیکن نشانہ خطا ہوا اور فاختہ اپنے نا کردہ گناہوں کی انوکھی سزا بھانپتے ہوئے پریشانی کے عالم میں اڑان بھر تا اور تھکاؤٹ کی وجہ سے کسی درخت پربیٹھ نہ سکا کیوں کہ کسی بھی درخت کی شاخ ایسی نہیں تھی جس کے نیچے کوئی شکاری نہ بیٹھا ہوا ہو۔ فاختہ اُڑتا رہا آخر میں نڈھال ہوکر ایک کھیت میں جا گرا ۔یہاں بھی بھوکے بھیڑئے پہنچ گئے اور اپنی گولیوں سے اُسے زخمی کرنے کا حق جتاتے رہے اور یوں امن کا یہ پیامبر ہمیشہ کی نیند سو گیا ۔

اللہ تبارک و تعالی ٰ فرماتا ہے ’’ دیکھو اس دنیا میں اور اس دنیا سے پرے جتنی بھی مخلوق ہے وہ اپنے رب کی عبادت کرتی ہے۔اور کیا پرندے اپنے پنکھ پھیلا پھیلا کر اپنے رب کی عبادت نہیں کرتے ہیں؟ہر ایک کو ان کی عبادت کا پتہ ہے ۔اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ کون کیا کرتا ہے ‘‘( القران ۲۲۔۱۸) ۔۔۔ اب آپ بتایئے کہ اس ایت کریمہ میں کیا پیغام ہے ۔؟ کیا یہ کہا گیا ہے کہ جب کوئی پرندہ اپنے پر پھیلا پھیلا کر یا خوش الحانی کرکے اپنے رب کی حمدو ثنا کر رہا ہو اور ہم اُسے جان سے مار ڈالیں اور کہدیں کہ اللہ تعالیٰ نے یہ جانور ہمارے لئے حلال بنایا ہے ۔ اس امر سے کس کو انکار ہے کہ دنیا میں ہر شے انسان کے واسطے پیدا کی گئی ہے ۔ لیکن ان نعمتوں کو اعتدال اور مساوی طورپر تقسیم کے لئے بھی اللہ تعالی نے احکام صادر فرمائے ہیں ۔ سورہ الحجر میں ارشاد ہوتا ہے ( مفہوم ) میں نے یہ دنیا تمہارے لئے بنائی سمندر بنائے اور فلک بوس پہاڑوں کولنگر انداز کیا تاکہ تم ان سے استفادہ کرو اور یاد رکھو کہ اس زمین پر اور اس کے اندر موجود نعمتیں صرف تمہارے لئے نہیں بلکہ یہ ان کے لئے بھی ہیں جنہیں تم رزق نہیں دیتے ۔ کتنی معنی خیز اور غور طلب بات ہے کہ اس زمیں اُن مخلوقات کو بھی زندہ رہنے کا حق ہے جنہیں انسان روزی نہیں دیتا بلکہ اللہ تعالیٰ اِن کی روزی کا اہتمام اسی زمیں سے فرماتا ہے جسزمین کو ہم کھرج کے اِس کے سینے کو نوچ کے اِس کے پرندوں اور جانوروں کو صفحۂ ہستی سے مٹا کر جس سے ظالمانہ سلوک روا رکھے ہوئے ہیں ۔میری نظر میں فطرت میں دخل اندازی کفر ہے ۔ رب کائنات ایک جانور یا ایک بے جان چیز کو ہماری حیات کو رنگین بنانے کے لئے بناتا ہے اور ہم انہیں تہس نہس کر کے گویا قدرت کی منشا کو رد کرنے کی کوشش کرتے ہیں جو کہ کفر کے مترادف نہیں تو کیا ثواب کا کام ہے ۔؟

کیا آپ کو پتہ ہے کہ چترال میں جن مرغابیوں کا شکار کیا جاتا ہے وہ کتنی مسافت طے کر کے ہماری وادی میں آجاتے ہیں ؟یہ ہزاروں میل کی طویل مسافت طے کر کے آتے ہیں اور واپس اپنی جگہے تک پہنچنے میں انہیں دس مہینے کا وقت لگتا ہے ۔یہ مرغابیاں صرف دو مہینے ہمارے پاس مہمان بن کے رہتے ہیں اور یہ موسم ان کے بچے دینے کا ہوتا ہے ۔ مرغابیوں کے بارے میں ایک تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ یہ انسانوں کی طرح سوچتے ہیں اور کمال حد تک معاشرتی زندگی گزارتے ہیں ۔ اگر ان کے خاندان میں کسی کو کچھ ہو جائے تو وہ ماتم کرتے ہیں ۔جوڑی میں سے کسی ایک کو موت کی صورت میں ایک زندہ مرغابی دانہ چگنا بند کرتا ہے اور زندگی بھر اپنے رفیق حیات کے غم میں زندگی بھر دوسری جوڑی نہ بنانے کے اصول پر ہمیشہ کے لئے کار بند رہتے ہیں ۔ ایک دوسرے کی ہمیشہ مدد کرتے ہیں ۔قافلے ایک ایک رکن بیمار ہو تو تمام قافلہ اپنا سفر روک دیتا ہے اور اس کے تندرست ہونے کا انتظار کرتا ہے ۔لیکن سب سے دل کو موم کرنے والی بات یہ ہے ان میں ممتا کی محبت کمال حد کو چوئی ہوئی ہوتی ہے ۔ماں اپنے کسی بچے کی موت پر اتنی دلگیر اور غم رسیدہ رہتی ہے کہ انسان کی طرح رونا شروع کرتی ہے اور اس سے بھی مشکل بات یہ ہے کہ اگر کسی بچے کی ماں کو خدا ناخواستہ کچھ ہو جائے تو وہ بچہ پانی میں تیرتی ہوئی ہر حرکی چیز کو اپنی ماں سمجھتا ہے اور اُس کے پیچھے پیچھے تیرتے ہوئے ماں کے لمس کو محسوس کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ جو باتیں اوپر ہوئیں ان باتوں کوسائنسی تحقیق نے ثابت کیا ہے ۔اور یہ باتیں آپ کو جنگلی حیات کی مختلف کتابوں میں ملیں گیں۔

لیکن ہم ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کسی بھی مجبوری کو خاطر میں نہیں لاتے ۔ان معصوم پرندوں کو اصلی آبی آرام گاہوں کا جھانسا دیکر مصنوعی تالاب بناتے ہیں اور یہ معصوم بے زبان مخلوق جب ان مصنوعی تالابوں میں تھک ہارکے اتر تے ہیں تو ہم عین صبح کی اذان کے وقت اُنہیں اپنی گولیوں کا نشان بنا لیتے ہیں ۔ جبکہ یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ یہ پرندے طویل سفر کے بعد صبح سویرے اُٹھ کر اپنے رب کی حمد ثنا کر رہے ہوتے ہیں ۔میں ایک دو باتیں ضرور گوش گزار کرنا چاہوں گا ۔ مرضی آپ کی اپنی ہے کہ انہی کس کسوٹی پر پرکھتے ہو ۔

*۔ ہمارے علاوہ دوسری تمام مخلوقات کو اس کرۂ ارض پر زندگی گزارنے کا برابر حق ہے

*۔ بحیثیت مسلمان ہمیں قران کریم میں موجود اللہ تعالیٰ کے اُن احکامات پر بھی سختی سے عمل کرنے کی ضرورت ہے جو دوسری مخلوقات کے بارے میں ہیں

*۔ کسی پرندے کو اپنی بے رحم گولیوں کا نشانہ بنانے سے پہلے یہ ضرور سوچئے گا کہ کیا کہیں یہ پرندہ اپنے بھوکے بچوں کے لئے خوراک کی تلاش میں تو نہیں نکلا ہے

*۔ کیا اُس پرندے کے پیٹ میں انڈے تو نہیں ہیں

*۔ آخر اس بے چارے پرندے کی جان لینے سے میرا کونسا مسأہ حل ہوگا

*۔ میں اشرف المخلوقات ہوں میرا کام سب سے محبت کرنا ہے ۔

مجھے امید ہے کہ قارئین کرام میرے ان ناقص خیالات کو ضرور پڑھیں گے ۔ اگرچہ شکاری حضرات کو میری باتیں اچھی نہیں لگیں گیں تاہم کچھ لوگوں کو ضرور فائدہ ہو گا خصوصاً ان بچوں کو جو ابھی سکولوں میں زیر تعلیم ہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

pamir.times@gmail.com

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔