ایک دن کی بندش کے بعد ہنزہ میں تھرمل جنریٹر چل پڑا

ایک دن کی بندش کے بعد ہنزہ میں تھرمل جنریٹر چل پڑا

views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ہنزہ (ذوالفقار بیگ ) محکمہ برقیات کی محنت رنگ لائی ۔ تھر مل جنر یٹر چلانے میں کامیاب ۔ محکمہ برقیات ہنزہ نے بجلی کی لوڈ شیدنگ کا احساس کرتے ہوئے دن رات کام کرکے تھر مل جنر یٹر کوپھر سے چلایا ۔تھر مل جرنیٹر صرف ایک دن بند رہا ۔ محکمہ برقیات نے تھر مل جنریٹر مرمت میں کوئیک ایکشن پر عوامی حلقوں نے محکمہ برقیات کی حکمت عملی کو خوش آئند قرار دیا ہے اور اُمید ظاہر کیا ہے کہ اس وقت ہنزہ میں جتنا بھی بجلی دستیاب ہیں اس کو برابری کی سطح پر تقسیم کرنے مطالبہ کیا ہے ۔ عوامی حلقوں نے عوامی نمائندوں سے بھی مطالبہ کیاہے ۔ہنزہ میں جتنے بھی پاور کے زیر تعمیر منصوبے ہیں ان کو جلد مکمل کرکے سسٹم میں شامل کیا جائے ۔ محکمہ برقیات بجلی کہاں سے لائینگے ۔ عوامی نمائندوں کا کام پاؤر کے منصوبے رکھنا ہیں اور ان منصوبوں کی نگرانی کرکے ٹائم فریم میں منصوبے مکمل کروانا ہیں ۔ لیکن کئی سالوں سے ہنزہ میں ایک بھی پروجیکٹ مکمل ہوکر سسٹم میں شامل نہیں ہوا ہے جس کی وجہ سے آج بحران کا سامنا ہے ۔ حسن آباد پن بجلی گھر کا افتتاح جناب الحاج سید قاسم شاہ وفاقی وزیرامور کشمیر نے 1986میں افتتاح کیا تھا ۔ 30سال گزرنے کے باوجود ہنزہ میں کوئی بھی منصوبہ مکمل نہیں ہوا ہے ۔ اب خود ہی اندازہ کریں کہ محکمہ برقیات کو بجلی کی ترسیل میں مشکلات کا سامنا ہے کہ نہیں ۔ ہنزہ میں بجلی بحران کا زمہ دار محکمہ برقیات نہیں بلکہ منتخب نمائندے ہیں ۔ ضلع ہنزہ میں تیس سالوں میں ایک بھی پاؤر منصوبہ مکمل نہیں ہونا افسوس کا مقام ہے ۔ عوامی حلقوں نے ارباب اختیار سے مطالبہ کیا ہے کہ زیر تعمیر پاؤر منصوبے مسگر ،حسن آباد اور میون پر خصوصی توجہ دینے کی اشد ضرورت ہے ۔ تاکہ ضلع ہنزہ بجلی کی لوڈ شیڈنگ سے آزاد ہو سکیں ۔۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

pamir.times@gmail.com

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔