مشکل سوالات

مشکل سوالات

3 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ایک بار، ایک بادشاہ کے پاس تین سوداگر آئے۔ وہ بادشاہ کے لیے بہت دور دراز کے علاقوں سے قیمتی سامان لائے تھے۔ وہ بادشاہ کے پاس کچھ روز رہے۔ بادشاہ نے ان کی خوب خاطریں کیں۔ چند دنوں کے بعد وہ شاہی دربار میں بادشاہ کے پاس بیٹھے تھے اور کہنے لگے:

’’حضور، ہم تینوں ایک ایک سوال کا جواب چاہتے ہیں۔‘‘

بادشاہ نے ان کے سوالات سنے مگر دربار میں موجود کوئی شخص بھی ان سوالات کا جواب نہ دے سکا۔ بادشاہ نے اپنے دیگر عقلمندوں کو بھی بلوا بھیجا مگر کوئی بھی مناسب جواب نہ دے سکا۔ آخر بادشاہ نے ملا نصر الدین کو سوالات کے جواب دینے کے لیے بلوا بھیجا۔ ملا دربار میں پہنچا۔ ایک سوداگر نے سوال کیا:

’’زمین کا مرکز کہاں ہے؟‘‘

ملا نے جواب دیا: ’’یہاں، میرے گدھے کی اگلی دائیں ٹانگ کے نیچے ۔۔۔‘‘

’’تم یہ بات اتنے یقین سے کیسے کہہ سکتے ہو؟‘‘ سوداگر نے پوچھا: ’’اگر آپ کو میری بات کا یقین نہیں تو آپ زمین کوناپنا شروع کر دیں۔ اگر ذرا برابر بھی فرق نکلا تو میری گردن حاضر ہے۔‘‘ ملا نے جواب دیا۔

ملا کا جواب سن کر وہ سوداگر چپ رہ گیا۔ اب دوسرے سوداگر کی باری تھی۔ اس نے سوال کیا: ’’ملا یہ بتاؤ کہ آسمان پر کل کتنے ستارے ہیں؟‘‘

’’میرے گدھے کی پیٹھ پر موجود بالوں کے برابر۔۔۔‘‘ ملا نے جواب دیا۔

’’اس کا کیا ثبوت ہے؟‘‘ دوسرے سوداگر نے ملا کو تنگ کرنے کے لیے کہا۔

’’اگر آپ کو میری بات کا یقین نہیں تو آپ میرے گدھے کے بال گننا شروع کر دیں۔ ایک بال کا بھی فرق نکل آئے تو میری گردن پکڑ لینا۔‘‘

’’لیکن، کیا کوئی گدھے کے بال گن سکتا ہے؟ دوسرے سوداگر نے کہا اور چپ ہو گیا۔

اب تیسرے سوداگر کی باری تھی۔ اس نے سوال کیا:

’’یہ بتاؤ کہ میرے سر میں کتنے بال ہیں؟‘‘

’’اگر آپ یہ بتا دیں کہ میرے گدھے کی دم پر کتنے بال ہیں تو میں آپ کو یہ بتادوں گا کہ آپ کے سر میں کتنے بال ہیں!‘‘

ملا کا جواب سن کر تیسرا سوداگر بھی چپ ہو گیا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

pamir.times@gmail.com

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔