سانحہ ننگا پربت ذمہ دار کون؟

سانحہ ننگا پربت ذمہ دار کون؟

1 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 ڈاکٹر محمد زمان خان

 ننگا پربت دنیا کا نواں اونچا پہاڑ ہے جسکی اونچائی آٹھ ہزار میٹر سے زیادہ ہے ،ننگا پربت کا مطلب سنسکرت زبان میں پہاڑوں کا بادشاہ ہے، اس پہاڑ کو مقامی زبان میں دیامر کہتے ہیں جسکی بدولت اس ضلعے کا نام بھی رکھا گیا ہے۔ یہ پہاڑ سیاحوں کے لیئے خطرناک مانا جاتا ہے اسلئے اس کو قاتل پہاڑ Killer Mountain کہا جاتا ہے۔ اس کو سر کرنے کا خواب لے کر آنے والے بے شمار سیاح اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اس خونی پہاڑ کو سر کرنے کی پہلے کوشش ایک جرمن سیاح نے کی تھی جو اپنی جان تو گنوا بیٹھا مگر فاتح قرار نہیں پایا۔ یہ سلسلہ جاری رہا اور آخر سیاحوں نے یہ مہم کامیابی سے سر کرلی مگر اپنے پیچھے بے شمار یادیں تاریخ میں رقم کردی۔ اس پہاڑ (ننگا پربت) کو فتح کرنے جانے والے تین راستے اپناتے ہیں پہلا راستہ بونر نالہ کے راستے جاتا ہے جسکا بیس کیمپ دیامروئی کہلاتا ہے عمومًا سیاح جو کلائمبنگ کے لئے آتے ہیں وہ یہ راستہ اختیار کرتے ہیں کہا جاتا ہے یہ راستہ باقی دو راستوں کے نسبتًا آسان ہے دوسرا راستہ رائیکوٹ کے راستے فیری میڈو تک جاتا ہے فیری میڈو کا مطلب پریوں کا مسکن ہے یہ خوبصورت مقام جہاں بین الاقوامی سیاحوں کے ساتھ ساتھ مقامی سیاح بھی بڑی تعداد میں آتے ہیں کچی تنگ سڑک جو رائیکوٹ پل سے شروع ہوکر آگے ایک جگہ تک جاتی ہے جہاں سے آگے گھوڑوں پر یا پیدل سفر طے کرنا پڑتا ہے یہ ایک تنگ سڑک ہے جہاں سے گزرتے وقت رگوں میں خون جم جاتا ہے۔ فیری میڈو میں مقامی لوگوں نے چھوٹے چھوٹے لکڑی کے ہٹس بنائے ہوئے ہیں یہاں کے لوگ پڑھے لکھے امن پسند اور مہمان نواز ہیں۔ یہاں کے لوگ اس سیاحتی مقام سے اپنے گھر کا چولھا چلاتے ہیں۔ فیری میڈو ایک دفعہ جانے والا بار بار اس مقام کو دیکھنے کا شوق دل میں رکھتا ہے۔ تیسری راستہ ننگا پربت تک رسائی کا ڈسٹرکٹ استور کے خوبصورت گاؤں ردپل کے راستے جاتے ہیں۔ 23 اور 24 جون 2013 کی درمیانی شب بونر نالہ بیس کیمپ پر ایک خونی کھیل کھیلا گیا جس سے پاکستان اور دیا مر کی دنیا بھر میں بدنامی ہوئی جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے۔ یہ حادثہ دیا مر کے روایات کے خلاف ہوا ہے۔اس حادثے نے سیاحت کے شعبے سے فائدہ اٹھانے والے لوگوں سے ان کی روزی چھینی ہے ہزاروں لوگوں کا کاروبار بند ہوگیا۔

کچھ باتیں غور طلب ہے کوتاہیوں پر غور کرنے سے شاید ایسے حادثوں سے بچا جاسکے۔ اس سانحے کا ذمہ دار کون ہے صوبائی حکومت، وفاقی حکومت یا کوئی اور۔ میں دیا مر کو صد فی صد بری الذمہ نہیں ٹھراتا کیونکہ اتنی بڑی کاروائی مقامی راستوں اوروسائل کو استعمال کئے بغیر ممکن نہیں مگر یہ بھی تو دیکھا جائے کہ بغیر کسی سیکیورٹی کے اتنے سارے سیاحوں کو بھیڑ بکریوں کی طرح بے یارومددگا کیوں آگے جانے دیا گیا۔ جب حادثہ رونما ہواتو ایک بچ جانے والے سیاح نے اسکے فوراً بعد پولیس کو اطلاع کردی تو کیوں حکومتی اہلکار سوتے رہے۔ کیوں نہ جائے حادثہ کو گھیرے میں لے کر کاروائی کی گئی اسکے بعد وفاقی اور صوبائی حکام نے وہی رٹے رٹائے فرسودہ بیانات دے کر اپنے آپ کو بری الذمہ قراردیا۔ یہ بات بھی غور طلب ہے کہ جب بھی ایسے خونی حادثات ہوتے ہیں پولیس کے صوبائی سربراہ اور ضلعی سربراہ علاقے میں موجود نہیں ہوتے۔

دیا مر میں ضلعی انتظامیہ میں کیوں مقامی لوگوں کو ترجیح نہیں دی جاتی ہے۔ جب حادثہ ہوا تو فوری طور پر انتظامی افسران کو معطل یا تبادلہ کرکے کہانی زیرو سے شروع کی جاتی ہے۔ بونر کیمپ کے حادثے کے بعد پولیس سربراہ اور چیف سیکریڑی کو تبدیل کرے وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان کے صوبائی سیٹ اپ اور وزیر اعلی کے با اختیار ہونے کا بھانڈہ بیچ چوراہے پھوڑ دیا اس وقت کے چیف سیکریٹری اور آئی جی کو مجرموں کو پکڑنے کا ٹاسک دیا جاتا ناکام ہونے کی صورت میں ان کا ملازمت میں رہنے کا کوئی حق نہیں بنتا تھا مگر اس ملک کی یہ بدقسمتی رہی ہے کہ حادثے کے بعد انکوائری کمیٹی بٹھا کر معاملے کو سردخانے میں ڈال دیا جاتا ہے ۔ کمیشنوں، انکوائریوں نے کبھی بھی اس ملک کے مسائل کو حل نہیں کیا بلکہ الجھا دیا ہے جس سے روز روز حادثے ہوتے ہیں اور مجرم بچ نکل جاتے ہیں۔

صوبائی حکومت نے اس حادثے کے بعد پھر وہی فرسودہ روایت کو برقرار رکھتے ہوئے سارا بوجھ مقامی جرگے کے کاندھوں پر ڈال دیا۔بقول صوبائی حکومت مجرموں کی شناخت ہوگئی ہے جلد مجرموں کو عدالت کے کٹھرے میں کھڑا کیا جائے گا مگر وہ صرف اخباری بیانات ثابت ہوئے جن کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں تھا جو نام جرگے کے حوالے کئے گئے وہ زیادہ تر سرکاری ملازمین تھے جنھوں نے خود گرفتاری دی مگر اس کو پولیس نے اپنی کارکردگی دکھائی پھر صوبائی حکومتی سربراہ کا یہ بیان کہ سانحہ بونر اور سانحہ کوہستان لالوسر واقع میں بھی یہی ملزمان ملوث تھے اگر یہ بات سچ ہے تو پھر ان علمائے کرام اور دیگر بے گناہ لوگوں کو چھوڑ دیا جائے جو شک کی بنیاد پر جرگے کے تعاون سے گرفتار کئے گئے تھے جو بغیر کسی ثبوت کے جیل میں بے گناہ سڑرہے ہیں۔پھر صوبائی پولیس سربراہ کا یہ کہنا کہ مجرمان دودو، تین تین کے گروپ میں پہاڑوں میں چھپے ہوئے ہیں اگر یہ حقیقت ہے تو کاروائی کرے اصل مجرموں کو کیوں نہیں پکڑا جاتا کیوں محکمہ تعلیم، زراعت اور تعمیرات کے ملازمین کو پکڑا جاتا ہے۔

کہتے ہیں افغانستان بہانہ تھا نشانہ پاکستان ہے۔ جو جنگ عراق میں شروع کی گئی وہ کھسکتے کھسکتے افغانستان سے ہوتے ہوئے پاکستان کی طرف رواں دواں ہے اصل ٹارگٹ چائنا اور پاکستان کی ایٹمی طاقت ہے مگر میدان جنگ گلگت بلتستان بننے جارہا ہے۔ اللہ خیر کرے۔

میاں نواز شریف کو صوبائی حکومت سے تعاون کرکے مستقبل میں ایسے حادثات سے بچنے کا اہتمام کرنا ہوگا جب اونٹ پالا ہے تو دروازے اونچے رکھنے ہونگے جب چائنا سے دوستی کا بندھن جوڑا ہے تو چائنا کے دشمنوں سے بھی ہوشیار رہنا ہوگا۔ اب حکومت وقت کو اپنی آنکھیں ،کان کھول کر رکھنے ہونگے ورنہ ننگا پربت جیسے حادثے مزید ہوسکتے ہیں بین الاقوامی سازشوں کے جال بنے چاچکے ہیں مزید ایسے حادثے افغانستان میں بندھے جانے والے بوری بسترے پاکستان کا رخ کرسکتے ہیں۔

گلگت بلتستان والوں کو بھی قومی سوچ اپنانی ہوگی قومیت اور مذہب کے نام پر لڑنے والوں کو غیروں کا آلہ کار بننے کے بجائے اپنی بقا کی خاطر سوچ کے ناخن لینے ہونگے۔ خدانخواستہ یہ آپس کی لڑائی کل غیروں کو دعوت گناہ نہ دے جب قوم ہی مٹ گئی انسانیت نہ رہی تو قومیت اور مذہب کا نعرہ کس کام کا جب و طن والے ہی نہ رہے تو وطن اور مذہب کا نعرہ بے سود ہوگا۔ مذہب اور علاقوں کے نام پر قوم کو بانٹ کر اغیار اپنے مقاصد حاصل کرکے علاقے کو عراق، شام بنانا چاہتے ہیں غیروں کے ہاتھوں آلہ کار بننے والے عراق اور شام سے سبق حاصل کریں۔ صوبائی حکومت کے حکام سے گزارش ہے کہ وہ دیا مر کے ساتھ سوتیلا سلوک نہ کریں دیا مر والوں کو جان بوجھ کر پتھر کے دور مین نہ دھکیلیں۔

دیا مر گلگت بلتستان کا گیٹ وے ہے قومی منصوبے اس ضلع میں پل رہے ہیں زمینیں دیا مر والوں نے دی مراعات اور معاوضے اسلام آباد اور پشاور والوں کو دی گئیں۔ مقامی طور پر پڑھے لکھے نوجوانوں کو بے روزگار چھوڑ کر غیر مقامی لوگوں کو دیا مر بھاشہ ڈیم میں بھرتی کیا گیا۔ سیکشن فور لگا کر لوگوں کی جائیدادوں پر مدغن لگایا گیا جنگلات جو اس ضلعے کا ذریعہ معاش تھا اس پر پابندی لگا کر لوگوں کو بغاوت کی جانب دھکیلا گیا۔ صوبائی حکومت کے سربراہوں نے روزگار اپنے احباب، حلقے والوں میں تقسیم کرکے مقامی نوجوانوں کو طالبنائزیشن کی جانب مائل کیا جو کہ ایک خطرناک صورت حال ہے ۔میڈیا خاص کر سوشل میڈیا اور مقامی صحافتی برادری کو بھی تعصب کی عینک اتار کر حقیقت پسندی کا مطاہرہ کرنا پڑے گا۔ قلم کی حرمت علاقے کی سالمیت کو مدنظر رکھنا ہوگا دیامر میں امن و امان کا مسئلہ بے روزگاری، جہالت ،پسماندگی پورے گلگت بلتستان کو متاثر کرسکتا ہے۔

دیامر کی خاموش اکثریت کو اب یہ چپ کا روزہ توڑنا ہوگا جس سے علاقے کی روایات امن و امان تباہی کے دہانے تک پہنچی ہیں۔ حکومت وقت کے لئے اطلاع ہے کہ بے گناہ افراد کو پکڑ دھکڑ کرکے خانہ پوری کرنے کے بجائے اصل مجرموں کو پکڑے۔حکمرانوں کا فرض ہے کہ علاقے میں بسنے والے آنے جانے والے سب کی جان کی حفاظت کریں۔ یہ طرز حکمرانی بدلیں اور کرسیوں سے چمٹے رہنے کا کوئی جواز نہیں بنتا۔ ننگا پربت جیسے سانحے مزید ہونے کے قوی امکانات ہیں پھر نہ کہنا خبر نہیں ہوئی خفیہ ایجنسیوں کواور پولیس انتظامیہ کو اب اپنی آنکھیں کھول کر بیٹھنا ہوگا فرائض سے غفلت کی وقت اجازت نہیں دیتا۔ خدا ہم سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے ۔ آمین۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

pamir.times@gmail.com

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔