کرپشن کا بازار

کرپشن کا بازار

views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ہدایت اللہ آختر
ارے بھائی یہ کرپشن کس بلا کا نام ہے۔ اب دیکھیں نا  میرا بھائی  اعلیٰ عہدے کا  آفیسر  ہے  بچوں کو  سکول چھوڑنے  کے لئے میں اس کی سرکاری گاڑی  لے کر  جاتا ہوں اور ان کو واپس لے آتا ہوں۔  اس کو لوگ کرپشن کہتے ہیں ۔۔۔ کتنے بیوقوف لوگ ہیں  ۔ بے روزگار ایک بھتیجا تھا اس کو سفارش پر  ایک محکمہ  میں ملازمت  دلوائی  اس کو بھی لوگ کرپشن  کہتے ہیں اور تو اور اب دیکھیں نا  ایک عزیز کی شادی تھی  سرکاری گاڑی  کو سجا کر بڑے پیار سے  دولہا کو  بیٹھا  کر  کلاشنکوف کی نما ئیش  کے ساتھ
باراتیوں کے سنگ چل پڑا۔۔ حد ہوگئی یار اس کو بھی لوگوں نے کرپشن کے زمرے میں ڈال دیا  لگتا ایسا ہے  کہ ان لوگوں کو کسی کی خوشی  نہیں بھاتی  ایک دوست نے کہا کہ یار  اے جی پی آر میں ایک بل پھنسا ہوا ہے  بندہ تیس ہزار مانگ رہا ہے سفارش کر کے  اس کو بیس ہزار کروا دیں  اب جو اس کا کام ہوگیا تو اس کو بھی انہوں نے کرپشن کا نام دیا  عجیب لوگ ہیں یار   پتہ نہیں ان کو کیا ہوا ہے  مجھے اس بات پہ بھی تعجب ہوا کہ  ایک دور کے رشتہ دار ہیں  جو محکمہ تعلیم میں ملازمت کرتے ہیں  ان کی پوسٹنگ دورافتادہ گائوں کے  ایک سکول میں ہے لیکن  اس نے  بڑی مہارت سے  اپنے  کسی رشتہ دار کو سکول میں ڈیوٹی پر لگا دیا ہے اور  خود آبائی مقام  میں کاروبار میں جتا ہوا ہے  بجائے لوگ اس کو داد دیتے انہوں نے  اس کو بھی کرپشن کہا حالانکہ اس کا رشتہ دار  ڈیوٹی دے رہا ہے  میں نے اس کی  پوزیشن جاننے کے لئے  ایک سکول کا رخ کیا  چند استا تذہ ایک جگہ  بیٹھے خوش گپیوں میں صروف تھے    ان سے دریافت  کیا تو  معلوم ہوا کہ وہاں بھی ایک دوایسےٹیچر موجود  ہیں جو  سرکاری ڈیوٹی کے ساتھ ساتھ سکول ٹائم میں کسی پرائیویٹ سکول میں بھی  معاوضہ لیکر  پڑھاتے ہیں فٹ سے کہا کہ  کوئی ہرج نہیں ہے یار  جب ڈاکٹر پریکٹس کر سکتے ہیں تو ٹیچر  کیوں نہیں  کر سکتے اس بارے   ایک مولوی صاحب سے فتویٰ لیا تو  اس نے بھی کہا  کہ نہیں یہ
کوئی غیر قانونی نہیں  اب لوگوں نے اس کو بھی کرپشن کہا  شرم نہیں آتی ان لوگوں کو  آپ ہی بتائیں کیا یہ کرپشن ہے؟ خواہ مخواہ الٹی سیدھی باتیں کرتے ہیں یہ لوگ لگتا ایسا ہے کہ   ان لوگوں کو کرپشن کے معانی ہی نہیں آتے ۔ کرپشن کی الف بے سے ہی واقف  نہیں  اور کرپشن کرپشن  کہے جا رہے ہیں  ان کو  یہ بھی معلوم نہیں کہ اب کرپشن کی  لغت تبدیل ہوئی ہے اب کرپشن  کے معانی عقل مند کے  ہوئے ہیں   اب کرپشن کے معانی  عزت دار کے  ہوئے ہیں  اب کرپشن کے معانی معتبر کے ہوئے ہیں  کچھ تو پاس رکھو یارو کیوں؟ ان کرپشن کے عزت داروں معتبروں اور عقلندوں کو کرپشن کے اس اچھے کاروبار سے الگ کرنا چاہتے ہو ۔اب  لوگ یہ بھی کہئنگے کہ سرکاری ملازموں  کو این جی اوز نہیں چلانا چاہئے،  سرکاری ملازموں کو  سیاسی بیانات نہیں دینا چاہئے،  سرکاری ملازموں کو  وقت کی  پابندی  کرنی چاہئے۔ بس کرو یارو  اس کو بھی کرپشن کہہ کر اپنی جہالت کا ثبوت مت دو۔

کیا کرپشن کرنے والوں کے  چہروں میں  سنت رسول نہیں؟ کیا ان کے  ہاتھوں میں تسبیح نہیں؟  کیا یہ نمازیں نہیں پڑھتے؟  کیا یہ روزے نہیں رکھتے؟ کیا یہ زکوۃ نہیں نکالتے ؟  کیا یہ مذہبی جولوسوں ،جلسوں میں باقائدگی سے شرکت نہیں کرتے ؟  اور  اس کے سوا  کیا چاہئے آپ لوگوں کو؟ اب تو کرپشن حما م کی لنگی بن گئی ہے  جو چاہئے  وہ باندھ لے!

عریاں ہیں سارے دنیا میں، یہ کیسا حما م ہے
شیطان اب زمانے میں،  سب کا اما م ہے

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

pamir.times@gmail.com

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔