یومِ آزادی ۔۔۔اور ہمارے رویے

یومِ آزادی ۔۔۔اور ہمارے رویے

ایک شخص نے خواب میں دیکھا ۔حضرتِ قائداعظم ،قومی پرچم کے سامنے نہایت مغموم بیٹھے ہیں۔ان کی آنکھوں میں گہری اداسی کے سائے ہیں۔اس شخص نے پوچھا۔’’آپ اتنے اداس کیوں ہیں؟ہم نے تو پڑھا اور سنا ہے آپ بڑے ہی چٹانی حوصلوں کے مالک تھے۔انگریزوں کی طاقت اور ہندؤوں کی...

Read more
پروفیسر عثمان علی(مرحوم)۔۔۔ایک ہمہ جہت شخصیت

پروفیسر عثمان علی(مرحوم)۔۔۔ایک ہمہ جہت شخصیت

کسی دانشور کا قول ہے۔’’موٗرّخ خود مرتا نہیں ،تاریخ کے پنّوں میں زندہ رہتا ہے۔مگر تاریخ کو مار دیتا ہے ،‘‘ اس قول کے تناظر میں بات کریں تو ابتدا سے ہی ،جب سے دنیا کی تاریخ لکھی گئی ہے ،ہر قوم کی ،ہر مذہب کی اور ہر خطے کی...

Read more
گلگت کے مشہور اور خوبصورت سیاحتی مقام، نلتر کا سفر نامہ (آخری حصہ )

گلگت کے مشہور اور خوبصورت سیاحتی مقام، نلتر کا سفر نامہ (آخری حصہ )

صبح ساڑھے نو بجے کے قریب میری آنکھ کھل گئی ۔کانوں میں برچہ صاحب اور دکھی صاحب کی آوازیں پڑیں ۔وہ باہر برآمدے میں کرسیوں پر بیٹھے تھے۔میں باہر آیا تو بولے۔’’سلیمی!آپ جلدی کریں۔دھوپ تیز ہونے سے پہلے آگے جھیلوں کی طرف جانا ہے۔‘‘ ہاتھ منہ ہی تو دھونا تھا۔ذرا...

Read more
نلتر نامہ: حصہ دوم

نلتر نامہ: حصہ دوم

برچہ صاحب تین دہائیوں سے زیادہ عرصہ پبلک لائبریری گلگت کے کتاب دار رہے ہیں ۔اس طویل عرصے میں انہوں نے قارئین کے کئی رُوپ دیکھے ہیں ۔مطالعے کے گھٹتے بڑھتے رجحانات دیکھے ہیں۔حکامِ بالا کی طرف سے کتب سے دلچسپی اور بے زاری کے رویے دیکھے ہیں ۔ ان...

Read more
گلگت کی ایک نہایت مشہور اور خوبصورت وادی، نلتر کا سفر نامہ – حصہ اول

گلگت کی ایک نہایت مشہور اور خوبصورت وادی، نلتر کا سفر نامہ – حصہ اول

نومل سے گزرتے ہوئے تقریباََ آخر میں راستہ ایک دم بائیں طرف مڑا۔یہ نلتر کی طرف جاتا روڈ تھا۔ سورج بالکل ہمارے سر کے اوپر تھا۔دھوپ مچل رہی تھی اور گاڑی کی کھڑکیوں سے اندر لپک رہی تھی۔ساتھ ہی اوپر بلندیوں سے اترتی دبی دبی ہوا تھی۔جس میں ٹھنڈک ابھی...

Read more
ہوپر(غذر) میں’’ شئیلی پُھنَٗر‘‘

ہوپر(غذر) میں’’ شئیلی پُھنَٗر‘‘

پھر وہی زیرو پوائنٹ امپھری تھا۔پھر وہی سڑک کے ساتھ بیدِ مجنوں(مَچُھور)کی ٹھنڈک بھری چھاؤں تھی۔ساتھ ہی دریائے گلگت کا وہی دلفریب منظر تھا۔اور پھر میرا وہی انتظار تھا۔اس بار بھی موبائل رابطے میں جمشید دکھی صاحب تھے۔بالآخر ان کی کال موصول ہوئی۔ ’’سلیمی !ہم امپھری میں داخل ہوئے ہیں...

Read more
مجھے جینے دو – حصہ دوئم

مجھے جینے دو – حصہ دوئم

گزشتہ سے پیوست ’’یہ حالت کسی ایک فرد کی ہو یا چند کی ،اتنی سنگین نہیں ہوتی۔مگر مجموعی طور پر ایک وسیع خطے پر اس کی نحوست چھا جائے تو یقینی طور پر اس کی سنگینی محسوس کی جاتی ہے۔ضلع غذر میں خودکشیوں کی جتنی بھی وجوہات گِنوائی جاتی ہیں...

Read more
مجھے جینے دو – حصہ اول

مجھے جینے دو – حصہ اول

تحریر: احمد سلیم سلیمی وہ بڑی قاتل شب تھی۔دل کی بے کلی پہلے، ایسی کب تھی؟چاروں اور اندھیراتھا۔ایک سکوت چھایا ہوا تھا۔ابتدائی دنوں کا چاند ،ہلکے بادلوں کی اوٹ سے چَھب دکھلا کر چُھپ رہا تھا۔ میرا ہم زاد بسمل فکری مدتوں بعد میر ے ساتھ تھا۔شہتوت اور خوبانی کی...

Read more
نظامِ تعلیم اور ہمارے تعلیمی رویے

نظامِ تعلیم اور ہمارے تعلیمی رویے

احمد سلیم سلیمی اسلامی تاریخ کا ایک عظیم سلطان ملک شاہ سلجوق، گیارہویں صدی کا ترک بادشاہ گزرا ہے۔بغداد کا مدرسہ نظامیہ انہی کے دور میں، ان کے نہایت عالم فاضل وزیر نظام الملک طوسی نے تعمیر کروایا تھا۔یہ مدرسہ اسلامی تہذیب و تمدن اور علوم و فنون کا گہوارہ...

Read more
جدید شنا شاعری( موسیقی) اور شنا کی مفلسی

جدید شنا شاعری( موسیقی) اور شنا کی مفلسی

احمد سلیم سلیمی موسیقی کی بات ہو تو ایک غضب کی بات بھی ساتھ شامل ہوتی ہے۔آواز خوبصورت ہو،دُھن میں تاثیر ہو اور سازوں کا متوازن استعمال ہو تو ،بے شک اس گیت ،غزل (گانے )کی شاعری جتنی بھی اچھی ہو،بے چارہ شاعر باکمال ہونے کے باوجود ساز اور آواز...

Read more