وادی نگر، معروف معلم استاد امان علی شاہ انتقال کر گئے

ہنزہ نگر(بیورو رپورٹ) بیالیس سال سے زائد عرصے تک قوم کے بچوں کو علم کی روشنی سے منور کرنے والے قوم کے محسن استاد امان علی شاہ حرکت قلب بند ہونے سے گزشتہ دنوں اپنے خالق حققی سے جاملے۔ آج انہیں ہزاروں افرادکی آہوں اور سسکیوں میں ان کے آبائی گاؤں غوٹس نگر خاص میں سپرد خاک کردیا گیا۔ مرحوم نے اپنی پوری زندگی قوم کی خدمت میں سرف کی آج ان کے ہزاروں شاگرد ملک و بیرون ملک خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ مرحوم نہ صرف ایک استاد تھے بلکہ علاقے کے ایک مدبر اور سماجی رہنما بھی تھے آپ کی سیاسی وسماجی بصارت کے علاقے میں چھوٹے سے بڑے تک سب ہی قائل تھے۔ آپ کے وفات کو سیاسی وسماجی رہنماوں نے علاقے کا بہت بڑا نقصان قرار دیتے ہوئے کہا کہ استاد کے گزرنے سے علم و دانش کا ایک باب ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے بند ہو گیاہے۔ مرحوم کے نماز جنازہ میں ان کے کئی سو شاگردوں عمائدین علاقہ، سیاسی و سماجی شخصیات ،اساتذہ،اور عوام کی ایک بہت بڑی تعداد نے شرکت کی۔

استاد امان علی شاہ کی ناگہانی اور المناک رحلت پر ممبر قانون ساز اسمبلی اور صدر ق لیگ گلگت بلتستان مرزاحسین، سابق چیرمین ضلع کونسل گلگت عبدلکریم، صدر ڈسٹرکٹ پریس کلب ہنزہ نگر غلام مرتضٰی شامیری، سکریٹری جنرل حسینہ سپریم کونسل نگرعباس علی نگری، سابق چیرمین یو سی غلام حیدر، چیرمین مرکزی امام حسین کونسل حاجی صابر حسین،ایکس ممبر ضلع کونسل موسیٰ علی،سکریٹری جنرل ایم ڈبلیو ایم نگر اسلام الدین،وائس پرنسپل ایس آر پی ایس فدا حسین فدا، پرنسپل اسوہ پبلک سکول غلام حسین نے گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کو علاقے کی تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ یاد رکھا جائے گا انہوں نے کہا کہ آپ کے وفات سے علاقے میں ایک خلا پیدا ہوگئی ہے جس کو پرہونے میں بہت وقت لگے گا کیوں کہ ایسے شخصیات کو پیدا ہونے میں صدیوں لگتے ہیں۔انہوں نے مرحوم کے پسماندگان سے ھمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ان کے بلند درجات کے لیئے دعا کی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments