بیروزگاری کا علاج ،اعلیٰ تعلیم

بیروزگاری کا علاج ،اعلیٰ تعلیم

14 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ملک بھر میں جہاں شرح خواندگی میں اضافہ ہورہا ہے وہاں تعلیم یافتوں کی بیروزگاری کی شرح بھی بتدریج بڑھ رہی ہے۔بڑھتی ہوئی مہنگائی اور افراط زر جہاں بیرونی قرضوں کی مرحون منت ہیں ، وہیں دہشت گردی و انتہاپسندی کے شکار ملک میں ناقص حکومتی اقتصادی پالیسیاں اور سیاسی عدم استحکام ان مسائل کے بڑھنے کو مزید شہہ فراہم کر رہی ہیں۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہم ان مسائل کی گرداب سے کب نکلنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔شرح خواندگی میں اضافہ بلاشبہ ایک حوصلہ افزا عمل اور ملکی ترقی کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے،سیاسی و سماجی تبدیلی کیلئے ایک باشعور اور پڑھا لکھا معاشرہ سب سے بہتر زمینہ ثابت ہوسکتا ہے۔لیکن ان مسائل کی انبار میں پڑھے لکھے فارغ لوگ جب مایوسی کی حدود کو پہنچتے ہیں تو ان کی تعمیری سوچ تخریبی سوچ میں بدلنے میں دیر نہیں لگتی، اور یہی کچھ اس وقت بہت سے جوانوں سے سننے میں آرہے ہیں، کالج یونیورسٹیوں سے نوجوان علم کی زیور سے بہرہ مند ہوتے ہیں اور بڑھتی ہوئی ثقافتی یلغار خاص طور پر کمرشل غلامی پر مامور میڈیا نت نئے فیشن اور ماڈرن بے راہ روی کے طریقے،گھر بیٹھے فارغ گریجویٹ جوانوں کو روز افزوں مسائل کے حل کے نام پر بے راہ روی کے طریقے سکھانے میں ایک دوسرے پر سبقت لیتے دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے میں معاشرے کیلئے وہ پڑھا لکھا بیروزگارنوجوان ایک فخر ہونے کی بجائے ناسور ثابت ہوجاتا ہے،مثال کیلئے کسی بھی پرائیویٹ ٹی وی چینل کے سامنے ایک گھنٹہ بیٹھ جائیں سب جرائم اب پڑھے لکھے لوگوں کی ہی نظر آئیں گے، یا خاص طور پر وہ پروگرام دیکھ لیجئے جن میں ماڈرن ٹیکنالوجی سے لیس واردات کی پیروڈی کرکے دکھائے جاتے ہیں۔ خدا کرے کہ ہمیں وہ دن دیکھنا نہ پڑے کہ بقول اکبر الہٰ آبادی؂ خوش تو ہیں ہم بھی جوانوں کی ترقی سے مگر لب خندان سے آجاتی ہے فریاد بھی ساتھ،

ہم سمجھتے تھے کہ لائیگی فراغت تعلیم،۔۔۔ کیا خبر تھی کہ چلا آئیگا الحاد بھی ساتھ۔

از : شریف ولی کھرمنگی

از : شریف ولی کھرمنگی

ایک طرف ان مسائل سے انگنت پڑھے لکھے خراب ہورہے ہیں دوسری طرف کچھ تعداد اپنی تعلیم کے بعد یاد وران تعلیم ہی دوسرے مواقع کی تلا ش شروع کردیتے ہیں، تاکہ نوکری کیلئے دربدری کی بجائے مناسب انتظامات کر سکیں۔اسی سلسلے میں گزشتہ کئی سالوں سے ملک بھر میں پروفیشنل کورسز کرکے ہنر سیکھنے اور اعلیٰ تعلیم کی طرف بڑھنے والوں کی شرح میں جہاں اضافہ ہوا ہے وہاں ایک خاص تعداد ان لوگوں کی بھی ہیں جو اعلیٰ تعلیم کیلئے بیرون ممالک میں موجود اسکالر شپ پر پڑھنے کے مواقع حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ خاص طور پر انجنئیرنگ، ریاضیات، آئی ٹی وغیرہ سے مخصوص شعبہ جات میں ریکارڈ حد تک اضافہ ہوا ہے۔میراذاتی خیال ہے کہ ان مواقع کا حصول پاکستان میں رہ کرکئی کئی سال تک روزگارکیلئے دھکے کھانے سے کہیں بہتر ہے، لیکن جوانوں کی ذھنوں میں اٹھنے والے اس سوال سے بھی بخوبی واقف ہوں کہ کب ، کیسے اور کسطرح اتنی آسانی سے یہ بات کہہ ڈالی؟ یقیناًیہ بات تھوڑا دقت طلب ہے، لیکن اتنا بھی نہیں جتنا لوگ سمجھتے ہیں۔پاکستان ہائیر ایجوکیشن کمیشن اس سلسلے میں بلاشبہ میرٹ پر بہترین مواقع فراہم کر رہی ہیں۔وقتا فوقتا مختلف ممالک میں موجود مواقع کا اعلان اخبارات میں اشتہارات کی صورت میں اور ادارے کی اپنی ویب سائٹ پر بھی مشتہر ہوتا رہتا ہے، ان سے اپڈیٹڈ رہنا کوئی مشکل کام نہیں۔ہاں مطلوبہ اہلیت کا حصول (ڈگری، کورسز،ٹیسٹ مثلا انگریزی زبان، جی آر ای وغیرہ) اور ضروری کاغذات(پاسپورٹ، میڈیکل کلئیرنس،ایچ ای سی سے تصدیق وغیرہ) کی بروقت تیاری سب سے اہم ہے۔ان تیاریوں کیلئے ایچ ای سی کی ویب سائٹ سب سے موثر معلومات کا منبع ہے اور سوشل میڈیا پر بنے گروپس اور پیجز بھی بہت مفید ہیں، جہاں پہلے سے ان مواقع کو حاصل کرنے والے افراد راہنمائی کر رہے ہوتے ہیں۔

ایچ ای سی کی جانب سے مخصوص اسکالر شپس کے علاوہ بھی بیشمار اسکالر شپس ایسی ہیں جن سے ہزاروں کی تعداد میں طلباء مستفید ہورہے ہیں۔ ان اسکالرشپس کیلئے بھی سوشل میڈیا ، کالجز اور کالجزو یونیورسٹیز کے سینئیر طلباء راہنمائی کے سب سے کارگر ذرائع ہیں۔اگر انگریزی اچھی ہو اور ویب سرچنگ میں مہارت ہوتو گوگل ہی آپ کو تمام تر معلومات د ے سکتا ہے۔صرف متعلقہ ملک کے نام کیساتھ اسکالرشپ لکھ کر سرچ کریں تو بیشمار لنکس کھل جاتا ہے اور انہی میں سے آپ اپنے متعلقہ فیلڈ کیلئے موجود مواقع، ضروریات، ٹائم فریم، وغیرہ کی معلومات لے سکتے ہیں۔اس کے علاوہ طلبا تنظیمیں، سماجی تنظیمیں، کالجزو یونیورسٹی المنائی گروپس اپنے اپنے متعلقہ علاقوں یا اداروں میں کانفرنسز،سیمینارز، لیکچرز، پروگرامز وغیرہ بھی وقتا فوقتا کرتے ہیں، طالبعلم ایسے پروگرامز میں شرکت کر کے بھی اپنی پوری زندگی کیلئے نئے راستے تلاش کر سکتے ہیں۔یقین کیجئے پاکستان جیسے درندوں کی رحم و کرم پر موجود ملک میں رہ کر بھی زندگی بدلنا جتنامشکل ہے اتنا ہی آسان ہے، مثال کیلئے عرض کر ہی دوں کہ، نوجوان کسی پارک ، ریسٹورنٹ یا کالج کیفے میں کسی نوجوان لڑکی کو ایک نظر دیکھ کر ہی اپنی دنیا بدل سکتا ہے ،یا سوشل میڈیا پر ہزاروں لٹا کر تیار ہونیوالی کی ایک تصویر دیکھ کر فریفتہ ہوسکتا ہے تو کالج ،یونیورسٹی کی کسی پروگرام میں کچھ دیر کیلئے شرکت کرکے، یا دن میں کئی کئی گھنٹہ سمارٹ فون اور لیپ ٹاپ پرچیٹنگ وغیرہ کیلئے فیس بک استعمال کرنیوالا اسی فیس بک پر اسکالر شپ سے متعلق کسی پوسٹ پر غور کرکے اپنے لئے مواقع کیوں نہیں حاصل کرسکتے ؟ اور مزے کی بات یہ ہے کہ اسکالر شپ پر پڑھتے ہوئے نہ صرف کوئی خرچہ نہیں آتا بلکہ بعض ممالک میں خاص طور پر پی ایچ ڈی کرتے ہوئے طالبعلم اتنے پیسے بچابھی لیتے ہیں جتنا ایک عام گریجویٹ جاب کر کے بھی نہیں کماپاتے۔

اس وقت جن ممالک میں اسکالرشپ کے سب سے زیادہ مواقع ہیں وہ ہمسایہ ممالک چائینہ ہے،جہاں اسکالر شپ کی کوئی مخصوص تعداد معین نہیں، ہر سال ڈھائی سوسے زیادہ لسٹڈ یونیورسٹیز میں سینکڑوں پاکستانی طلباء کا داخلہ ہوتا ہے، اسکالر شپ کے بھی اقسام ہیں جن میں ایک مرکزی سکالرشپ کونسل کی طرفسے تمام مخصوص یونیورسٹیز کیلئے ہیں اور دوسرا بعض بڑی یونیورسٹیز کی اپنی سکالرشپ آفرز ہیں۔اسکے علاوہ جنوبی کوریا،جرمنی،امریکہ، کینیڈا،سنگاپور، ملائشیا، آسٹریلیا،سعودی عرب،سویڈن، برطانیہ اور بعض دیگر یورپی ممالک میں اسکالرشپ کے مواقع سے ہر سال بہت سے طلباء مستفید ہوتے ہیں۔ان ممالک میں ڈائریکٹ پروفیسرز سے رابطہ کرکے یا یونیورسٹیز کے اعلان کردہ طریقہ کار کے مطابق داخلہ کیلئے کوشش کر سکتے ہیں۔ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے خواہشمند طلباء انگریزی پر خصوصی توجہ کیساتھ مخصوص انگریزی زبان پر عبور رکھنے کی سند IELTSیا TOEFLکی سرٹیفیکیٹ لے لیں تو کسی بھی وقت کام آسکتا ہے ۔اکثر مغربی ممالک میں داخلہ کیلئے انگریزی سرٹیفیکیٹس کیساتھ مخصوص ٹیسٹ GRE,GMAT,GATوغیرہ کی بھی ضرورت ہوتی ہے،اسلئے انڈرگریجویٹ کلاسز میں تعلیم کے دوران ان ٹیسٹس کے پیٹرن،تیاری اور طریقہ کار وغیرہ کیلئے کوشش کریں تو بہت بہتر نتائج لے سکتا ہے، یوں تو گریجویشن کے بعد بھی کرسکتا ہے لیکن اکثر دیکھا گیا ہے کہ گریجویشن کے بعد طالبعلم کے ذھن میں سو قسم کے اور وسوسے ابھرتے ہیں،خاص طور پر جاب کی فکر اور ڈگری ملنے کے بعد پھر پڑھنے اور تیاری کرنے سے اکتا جاتے ہیں اور اچھا اسکور کرنا مشکل ہوجاتا ہے۔۔ چونکہ ان سرٹیفیکیٹ کی میعاد مخصوص ہوتی ہے اسلئے اپنا ٹیسٹ دینے سے پہلے غور و فکرکرنا مت بھولئے۔سینئیر طلباء ، دوست احباب کی مفید رائے اورراہنمائی ان امور میں اکسیر کی حیثیت رکھتی ہے اسلئے ان سے رابطہ رکھنے میں ہچکچانا مت، کیونکہ جس طریقہ کارپر ایک فریش طالبعلم سوچ رہا ہوتا ہے اسی طریقہ کار سے اسکا سینئیر گزر چکا ہوتا ہے۔

اور اس مضمون کے توسط سے میں ان اداروں، اسکول، کالج اور یونیورسٹیز کے ذمہ داروں ، اساتذہ و آفیشلز سے بھی عرض کر دوں کہ اپنی المنائی میں سے جو طلباء بیرون ممالک اسکالرشپس پر پڑھ رہے ہیں، انکو اپنے اداروں میں بلائیے، ان سے ان مواقع، ان کے تجربات، طریقہ کار، فوائد، ضروریات، وغیرہ پر لیکچر و پریزینٹیشن دلوائیے تاکہ طلباء ذھنی طور پرمستقبل کے مواقع کیلئے اپنے آپ کو تیار کر سکیں،یا کم از کم ان سے رابطہ رکھ کر ان سے معلومات لیکر طلباء تک پہونچائیں، یہ کام دیکھنے میں عام اور بہت چھوٹا لگتا ہے ، لیکن دراصل ایک ایسی کلک ہے جو سو میں سے کم از کم دس کے ذھن میں لگ سکتا ہے۔ ایک کالج سے اگر دس طالبعلم بیرون ملک جاتا ہے اور کوئی ایک بھی طالبعلم اچھا پڑھ لکھ کر کوئی مفید کام کر پاتا ہے تو نہ صرف اس کالج و اساتذہ اور علاقے کی نیک نامی ہوگی بلکہ ملک و قوم بلکہ انسانیت کیلئے بھی بہت کچھ کرسکتا ہے۔ اور یقیناًآئیسولیشن ، نا امیدی،نوکری کیلئے رشوت ،سفارش اور دربدری،سے بہتر ہے کہ نئی دنیا میں نت نئے مواقع سے آشنائی پیدا کریں اور ان سے کسب فیض کرلیں،اسی طرح ہم اپنی ، اپنے خاندان،علاقہ ، قوم و ملک اور انسانیت کی فلاح کیلئے قدم بڑھا سکتے ہیں،اوراپنے ٹوٹے پھوٹے الفاظ کی تائید میں، اکبر الہٰ آبادی کے اشعارلکھ دوں کہ ؂

وہ باتیں جن سے قومیں ہو رہی ہیں نامور سیکھو
اٹھو تہذیب سیکھو، صنعتیں سیکھو ، ہنر سیکھو
بڑھا و ٗ تجربے ، اطرافِ دنیا میں سفر سیکھو
خواصِ خشک و تر سیکھو ، علومِ بحر وبر سیکھو

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔