۲۱مارچ – جشنِ نوروز

۲۱مارچ – جشنِ نوروز

22 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

الواعظ نزار فرمان علی
آپ سب کو نوروز کی دلی مبارکباد قبول ہو آمین!نوروز فارسی کے دو الفاظ نو \”نیا\” اور روز\” دن\” یعنی نیا دن کے ہیں۔سالِ نو کی آمد یا موسم بہار کے آنے سے روئے زمین پر رونما ہونے والی ہریالی، تازگی و فرحت پر خوشیاں منانا روایات کا حصہ رہا ہے۔ دور قدیم کے ماہرین فلکیات نے آسمان کو بارہ برجوں میں تقسیم کیا ہے اور ہر برج کا مخصوص نام رکھا ہے۔ ۲۱ مارچ کو سورج اپنی سالانہ گردش مکمل کر کے برجِ حمل میں داخل ہوتا ہے ۔ شمسی کیلنڈر کے اعتبار سے یہی دن نوروز کہلاتا ہے۔ماضی بعید کے تناظر میں اہلِ یونان و روم، اہلِ عرب و مصر ، ایران و شام اور ہندوستانی تاریخ میں جشن نوروز کے گوناگوں رنگ نظر آتے ہیں۔ جبکہ آج بھی دنیا کے بیشتر علاقوں میں بسنے والی مختلف اقوام میں اسے ثقافتی گوناگونی اور مذہبی تکثیریت کے ساتھ انجام دیا جارہا ہے ان ممالک میں سنٹرل ایشیا،پاکستان،انڈیا ، مصر،افریقہ، شام، ایران ، عراق اور افغانستان وغیرہ شامل ہیں۔ ایرانی تاریخ و ادب کے مطابق تقریباً پانچ ہزار سال قبل عظیم ایرانی بادشاہ جمشید نوروز کو قومی تہوار کے طور پر منایا کرتا تھا جس میں وہ اپنے وزراء، مشیروں، دانشوروں ، دلیر سپاہیوں اور وفادار شہریوں کو انعام و اکرام سے نوازتا تھا۔ تاریخ اسلام میں ہمیں نوروز کا تہوار دور نبویؐمیں ملتا ہے جب دربار رسالت ؐ میں ایران سے صحابہ کرامؓ کا آنا جانا ہوا۔ جب بھی نوروز کا دن آتا تو عظیم صحابی حضرت سلمان فارسیؓ کھیر پکا کر آنحضرت ؐ کی خدمت میں پیش کرتے آپؐ اسے قبول فرماتے، مبارکباداور دعاوبرکات دیتے ۔ مسلم دنیا میں اس جشن کو تقویت اس وقت ملی جب نواسہء رسولؐ حضرت امام حسینؑ کی شادی شہنشاہِ ایران یزدگر دکی صاحبزادی حضرت بی بی شہر بانوؓ سے ہوئی تھی۔ یوں قدیم بین الاقوامی تہوار اسلامی رنگ میں ڈھلتا ، نشوونما پاتا ایک ملّی وحدت و خوشی کا باعث بن چکا ہے۔ مسلم تاریخ کے طویل سفر میں اموی، عباسی ، فاطمی ،مغل سلطنتوں ، ترک عثمانیہ ، ، صوفی سلسلوں میں جا بجا نوروز کی خوشیاں جگمگاتی نظر آتی ہیں ۔ اہم شیعی روایات کے مطابق زمین و آسمان کی پیدائش، عہدِ الست کا روح پرور واقعہ ، تخلیقِ آدمؑ ، جلیل القدر نبیوں کی باطل قوتوں پر تائید ایزدی سے فتح و ظفر، کعبہ کو بتوں سے پاک کرنے ، نبی آخرین ؐپر پہلی وحی اور شاہِ مردان، شیر یزدان حضرت علی المرتضیٰ ؑ کی ولایت کا اعلان ، عید نوروز کے خصوصی حوالے ہیں۔ حضر ت امام جعفر صادق ؑ فرماتے ہیں ’’ آج کا مبارک دن مومنین کیلئے بہت سکون بخش اور بابرکت دن ہے نہ صرف اتنا بلکہ سُکھ ،ترقی ،آبادی،علم ، محبت ،مسرت اور خوشنودی ایزد ی کا دن ہے ‘‘۔جب ہم اسے آفاقی تناظر میں دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں، مالکِ کُن فیاکُن ربُ العالمین کے حکم سے جب ارض و سماء اور آفتاب و ماہتاب تخلیق ہوئے اور روئے زمین پر سورج کی روشنی پہلی بار نمودار ہوئی اس وقت زمین کا جو حصہ روشن ہوا یہی اس کا نوروز تھا یہ قدرتی سال کا پہلا دن کہلایا۔
\” بیشک آسمان اور زمین کی پیدائش اور رات و دن کے اختلاف میں عقل والوں کے لئے نشانیاں ہیں\” (القرآن۱۸۹:۳)
چنانچہ قدرتی موسم میں خوشگوار تبدیلی یعنی خزاں کے چھٹنے اور بہار کے ابھرنے کی نہ صرف نوعِ انسانی بلکہ دیگر مخلوقات کے لئے بھی شادمانی کا باعث ہوتا ہے۔ اس لحاظ سے نوروز فطرت کی عید کا دن ہے۔ بہارِ نو کے آتے ہی ماحول میں عجیب سی ہلچل ہونے لگتی ہے ہر سو گنگناتے پرندے ، مہکتی ہوائیں ، مینا کی رم جھم، لہلہاتی زمین، کھلکھلاتے درخت، تتلی و بھنورے رقصاں ، منجمد جھیل و چشمے پگھلتے ہی آبی حیات نئی زندگی کا دلربا راگ الاپتے ہیں۔ نباتی زندگی فرسودہ لباس چھوڑ کر نیا لباس زیب تن کر لیتی ہے فطرت میں جدت و تازگی انسانی افکار و اعمال پر عمدہ اثرات مرتب کر تی ہے۔ موسم سرما کی سردو بے کیف زندگی کے بعد بہارِ گُل و گُلزار کا آغاز نیم مردگی سے مکمل زندگی کی جانب، نیند سے بیداری، جمود سے حرکت ، خاموشی سے گویائی، مایوسی سے اُمید، جہل سے علم ، گناہ سے نیکی اور شکوک و شبہات سے نورِ ایقان کی دولت کی طرف لوٹنا یقیناًایک انسان کے لئے سب سے بڑی کامیابی خوشی کا ذریعہ ہے اسی صورت میں فطرت میں واقع ہونے والا بہار ہماری اندرونی دنیامیں روحانی بہار لانے کے لئے مثال ثابت ہو سکتا ہے۔
ایران میں اس تہوار کی تیاری دو ہفتے پہلے شروع ہوجاتی ہے لوگ گھروں کی صفائی اور تزئین و آرائش کرتے ہیں اور ہفت سین یعنی سات چیزیں میز پر سجاتے ہیں جو فار سی زبان میں حرف ’’س‘‘ سے شروع ہوتی ہے۔سیب، لہسن،سرکہ، سکے،سُنبل ،گندم سے بنایا گیا میٹھا اور گندم کی سبز کونپلیں جنہیں پانی میں اُگا یاجاتا ہے۔یہ چیزیں سال بھر خوش نصیبی اور مسرتیں لانے کا باعث سمجھی جاتی ہیں۔
اس پُر رونق تہوار کے موقع پر اکثر ثقافتی وروایتی پس منظروں میں انڈہ ،روزی اور مصری پیش کرنے کی رسم آج بھی پائی جاتی ہیں۔۱۔انڈے کی ساخت سے اس کے نقطہ آغاز و انجام کا پتہ نہیں چلتا اس میں یہ اشارہ پنہاں ہے کہ خدا کی ذات لا انتہا ہے وہ ازل سے ہے اور ابد تک رہے گا۔انڈے میں بحدقوت زندگی پائی جاتی ہے اور اس میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ خاص وقت تک نگہداشت کرنے سے نئی زندگی ظہور میں لاتی ہے۔لہذااس مثال سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ بنی نوع انسان میں جو فطری صلاحیتیں پوشید ہ ہیں اگر ہم دین اسلام کے جوہر کے مطابق اعمال بجا لائیں تو جیتے جی نئی زندگی یعنی اعلیٰ و ارفع حیات کا تجربہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں،۲۔روزی/گیہوں کو کثرت اور فراوانی سے تشبیہ دی جاتی ہے،پاک پروردگار کی طرف سے عنایت کردہ بے پناہ نعمتوں جان،مال، اولاد اور عزت و آبرو وغیرہ میں کشادگی و بڑھوتری کی علامت ہے،۳۔مصری (شکر )مٹھاس اور شیرینی کی علامت ہے۔اس میں مٹھاس مثلاً محبت ،خیرخواہی اور بھائی چارے کا درس بھی شامل ہے۔
اس دن کی اہمیت و فلسفے کو بیان کرتے ہوئے عظیم صوفی بزرگ فرماتے ہیں ظاہری نوروز کا تعلق سال اور مہینوں کے آنے جانے سے ہے مگر باطنی نوروز اندرونی تبدیلی کا نام ہے۔ دینداروں کا نوروز تو بُرے عمل سے اپنے آپ کو بچانے کا نام ہے اور نا سمجھ لوگوں کا نوروز دنیاوی مال و اسباب کی نمائش ہے اور حقیقی نوروز تو ایسانوروز ہے جو ہر قسم کی شکست و زوال سے محفوظ ہو۔ یعنی یہ دن فقط ماہ و سال ، موسمی تغیرات اور مال و اسباب کے ردّو بدل تک محدود نہیں ہے یہ رسمی سے زیادہ عملی نوعیت کی حقیقت ہے جو قول و فعل، علم و عمل، اور اخلاقی بڑائی، روحانی بالیدگی اور عقلی پختگی کی صورت میں جلوہ گر ہوناچاہیئے اسی صورت میں نوروزکے ظاہری و باطنی فیوض و برکات حاصل کر سکیں گے۔ جیسا کہ حضر ت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں ۔ ہر گزرنے والا دن بنی آدم سے یہ کہتا ہے کہ میں نیا دن یعنی نوروز ہوں اور تمہارے اوپر نگران ہوں۔ پس تم نیک باتیں کیا کرو ، نیک اعمال بجا لاؤ اس لئے کہ میں ایک دفعہ گزر گیا تو دوبارہ ہاتھ نہیں آؤں گا۔بلاشبہ زندگی ایک متبرک و انمول نعمت خداوندی ہے۔انسان کو عطا کردہ حواص خمسہ اور عقل واختیار سے نوازا گیا ہے جس کے تحت مختصر و محدود زندگی میں ہر آن تسخیر آفاق و انفس کی جستجو میں لگے رہنا ہے۔اس امانت الٰہی کی کماحقہ ادائیگی کے لئے وقت قیمتی سرمایہ کی حیثیت رکھتا ہے ہر روز رب کریم کی طرف سے ہماری زندگی کے بینک اکاونٹ میں چوبیس گھنٹوں کی ضروری کرنسی ملتی ہے ۔ اب یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ اس کے عوض ایمانی و اعمال صالح کی لافانی دولت حاصل کرتا ہے یا اپنے فرائض دینی و دنیوی کو فراموش کرکے ہوائے نفس کی خاطر اپنی دنیا و عاقبت کو خراب کرتا ہے۔
ممتاز مصنفہ ہیلن کیلرجو ظاہری بصارت سے محروم مگربصیرت قلب کی دولت سے مالا مال تھی ۔اُسے اپنے ایک دوست سے ملنے کا اتفاق ہوا جو عرصہ دراز سے خوبصورت و پُر فضا مقام پر رہنے کے بعد لوٹی تھی۔ جب ہیلن نے اس سے پوچھا کہ تم نے اُس صحت افزاء مقام پر کیا دیکھا اور محسوس کیاتو اُس خاتون نے جواب دیا کہ ’’کوئی خاص شے نہیں دیکھی ‘‘ہیلن اس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہتی ہے کہ ’’ اکثر لوگ بصارت رکھتے ہوئے بھی قدرت کی ان رنگینیوں میں کوئی قابل ذکر شے محسوس نہیں کرتے جبکہ وہ ایک نابینا ہونے کے باوجود موسم بہار کے آغاز میں درخت کی ٹہنیوں کو ٹٹولتی ہے کہ شاید وہ کسی کھلتی کلی کو چھوسکیں جو موسم سرما کی لمبی غفلت نیند کے بعد قدرت کے جاگنے کی پہلی نشانی ہے اور اس کھلتی کلی کو چھونے کا تجربہ ایک عجیب سرور پیدا کرتا ہے اور قدرت کا کوئی معجزہ اس پر منکشف ہوجاتا ہے‘‘۔ اس حوالے سے شیخ سعدی ؒ کا پُر حکمت بیان غورو فکر کے دریچے کھولتا ہے ۔ جس میں آپ فرماتے ہیں ’’سرسبزدرختوں کا ہر پتہ عقل مند انسان کی نظر میں معرفت خداوندی کیلئے ایک کتاب کی حیثیت رکھتا ہے‘‘۔یقیناً یہ دنیا ایک اہم درسگاہ اور اس کے دلچسپ نظاروں کا ہر اشارہ و کنایہ معلم صغیر کی حیثیت رکھتا ہے، جس سے انسان غیر معمو لی مادی و روحانی فائدہ اُٹھاسکتاہے۔
جیساکہ کلا م پاک میں ارشاد ہوتا ہے کہ \” عنقریب ہم انہیں اپنی نشانیاں آفاق میں دکھلائیں گے اور ان کی اپنی جانوں میں بھی تا آنکہ ان کے لئے ظاہر ہو جائے گا کہ یقیناًیہ (ذاتِ خدا)حق ہے\” ( القرآن ۵۳:۴۱)
انسان کا ئنات صغیر اور دنیا کائنات کبیر ہے بظاہر انسان کائنات میں محدود و مجبور نظر آتا ہے مگر دین حق کی تعلیمات کے مطابق پوری کائنات کا عکس انسانی ذات میں شامل ہے۔لہذا جب انسان ایمان و یقین کے ساتھ فطرت کے سمندر میں غور و فکر کا غوطہ لگاتا ہے تو اسے اپنی ذاتی دنیا اوروسیع و عریض دنیا میں حیرت انگیز توازن و مطابقت محسوس ہونے لگتا ہے۔بلا شبہ یہ کیفیت روحانی نشوونماء، سکون قلب،قوانین فطرت کی بہتر سمجھ اور اجتماعی ہم آہنگی کے لئے انتہائی ناگزیر ہے۔کسی نے کیا خوب کہا کہ’’دنیا میں کوئی بھی چیز اپنے لئے نہیں ہوتی ہے ،جیسے دریا خود اپنا پانی نہیں پیتے ،درخت خود اپنا پھل نہیں کھاتے ،سورج اپنے لئے حرارت نہیں دیتا، پھول اپنی خوشبو اپنے لئے نہیں بکھیرتے، دراصل یہ زبان حال سے کہتے ہیں کہ دوسروں کیلئے جینا ہی اصل زندگی ہے‘‘۔
باردیگر جشن نوروز مبارک ،اللہ پاک، ملک و ملت کا نگہبان ہو۔ آمین یا رب ا لعالمین۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔