چترال بچاو پاکستان بچاو مہم کا آغاز

چترال بچاو پاکستان بچاو مہم کا آغاز

38 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

موسمی تبدیلی کی وجہ سے چترال اس وقت شدید خطرات کی ذد میں ہے جنگلات کی بے دریغ کٹائی اور ماحول کو بچانے کے لئے چترال کو گولین گول سے تیس میگاواٹ بجلی مفت فراہم کی جائے، تقریب سے خطاب۔

chitral bazar pic 4

پشاور ( )چترال میں سیلاب کی تباہی اور مستقبل میں ضلع پر ان کے اثرات اور عوامی مساہل کو اجاگر کرنے کے لئے چترال بچاو پاکستان بچاو مہم کا پشاور سے بقاعدہ آغاز کردیا گیا ہے جس میں ضلع کو درپیش مساہل سے متعلق چارٹر آف ڈیمانڈ پیش کرتے ہوئے ان کے حل کے لئے مہم کو ملکی سطح پر چلانے پر اتفاق کرلیا گیا اس بات کا اعلان پشاور کے چترالی بازار میں مہم کے آغاز کے موقع پر سابق تحصیل ناظم سرتاج احمد خان ، چترالی بازار کے صدر عبدالرزاق ، ذولفقار علی شاہ اور نادرخواجہ ، قاری فاضل نے تقریب سے خطاب کرتے ہوے کیا ۔ مقررین نے کہا کہ دنیا میں ماحولیاتی تبدیلی ، موسموں کی اتار چڑھاؤ تیزابی گیسوں ، کاربن ڈائی اکسائیڈ ، کلو رو فلورو گیس کے اخراج کی وجہ سے انسانی زندگی و قدرتی ماحول کو شدید خطرات لاحق ہیں جس کا شور پوری دنیابشمول اقوام متحدہ و ترقی یافتہ ممالک میں مچا ہوا ہے پاکستان بھی ماحولیاتی تغیر کے ممکنہ شکار ملکوں میں سر فہرست ہے۔پاکستان کے پانی کی آبی ذخائر کا بڑا حصہ ہے چترال کے543 گلیشیئرز سے حاصل ہوتاہے ۔ حالیہ بارشوں وگلیشیئرز کے پھٹنے کی بناء پر اب تک 36 سے زائد افراد زندگی کی بازی ہار چکے ہیں ۔سینکڑوں ، مکانات ، کھڑی فصلیں ، باغات ، مال مویشی سیلاب میں بہہ چکے ہیں بلکہ درجنوں دیہات رہنے کے قابل نہیں رہے اور ساتھ ساتھ مواصلات کا نظام ،ایری گیشن سکیمیں، بجلی کی ترسیل کا نظام درہم بر ہم ہوچکا ہے زندگی کی بنیادی ضروریات ، پانی ، خوراک، صحت کے مسائل اُجاگر ہوئے رہائشی اداروں اور حکومتی و سائل بھی تباہی کے سامنے محدود دکھائی دیتے ہیں ماہرین نے ماحولیاتی تغیر کے لحاظ سے چترال کے 300 مختلف گلیشیئرز خطرناک ہونے کی نشاندہی کی ہے ان حالات کے پیش نظر بحالی کیلئے مربوط کوششوں کی ضرورت ہے اور مستقبل میں چترال و بالخصوص پاکستان کو ممکنہ تباہی سے بچانے کیلئے ٹھوس اقدامات ناگزیر ہیں اور ساتھ ہی چترال “Sismic” زون میں بھی واقع ہے ۔چترال اور پاکستان کے آبی ذخا ئر ، جنگلات ،گلیشیئرز ، آبی گزر گاہیں کو بچانے کیلئے چترالی عوام کے پیش کر دہ مطالبات کو جنگی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے ۔ جس کیلئے آج سے چترال بچاؤ ،پاکستان بچاؤ مہم کا آغاز کر دیا گیا ہے ، اس سلسلے میں سابق تحصیل ناظم سرتاج احمد خان کی سربراہی میں ایک کور کمیٹی تشکیل دی گئی ہے ۔ چترال جرنلٹس فورم(CJF) کے صدر ذوالفقار علی شاہ اس کور کمیٹی کے کوار ڈینیٹر اور نادر خواجہ اس کے سیکرٹری ہوں گے کور کمیٹی میں تمام مکتبہ فکر کے افراد بشمول ، طلباء صحافی ، تجارت پیشہ افراد ، سماجی و سیاسی کا رکنان مذہبی، و سیاسی رہنماؤں کے ساتھ ملکر مقاصد کی حصول کیلئے جدو جہد کی جائے گی کور کمیٹی رابطہ عوام مہم کامیاب بنا نے کیلئے سیاسی جماعتوں کے قائدین ممبران پارلیمنٹ ، حکومت عہدیدار ، بلدیاتی نمائندوں ریاستی، و حکومتی سربراہان سے رابطہ کرے گی ۔جبکہ مہم کے دوران ” دستخطی مہم ” سیمینار رابطہ عوام مہم ، جلسے غرض ہر ممکنہ ذرائع کو استعمال میں لایا جائے گا ۔اس سے قبل بھی الیکشن کمیٹی نے لواری ٹنل کے منصوبے کیلئے کامیاب دستخطی مہم و صوبے کے نام کی تبدیلی کے وقت ضلع چترال کے اہم”Issues” اور مسائل کو چارٹرڈ آف ڈیمانڈ کی صور ت اُجاگر کیا تھا۔موجودہ وقت میں چترال بچاؤ ،پاکستان بچاؤ تحریک کے پلیٹ فارم سے مطالبات حسب ذیل ہیں ۔ ضلع چترال کو فوری طور پر گولین گول ہائیڈل پاور سٹیشن سے 30 میگاواٹ مفت بجلی دی جائے تاکہ بطور ایندھن جنگلات کا استعمال کم ہو سکے اس لیے جنگلاتی “Peat Land” ایر یا میں فوری طور پر جنگی بنیادوں پر بجلی کی لائنیں بچھائی جائیں تاکہ گولین گول سے پورے چترال میں بجلی مہیا ہو سکے ۔ ارندو، دامیل نسار ، عشریت، ارسون، جنجر تیکوہ، بیوڑی ، شیشی کوہ، مڈ کللشٹ ویلی ،تحصیل دروش، بمبوریت، رمبور، بریر، ارکری، گرم چشم،بروز،ایون ،کریم آباد اویر ، تریچ، سب ڈویژن ، مستوج، لاسپور، کھوت ، کوغذ ی ، کوشٹ ،کیسو ، یار خون، چترال ٹاؤن میں فوری بجلی لائن بچھائی جائے ۔، ضلع چترال کو گلگت کی طرح گندم میں “Subsidy” دی جائے ۔، جنگلاتی علاقوں کے باشندوں کو100% رائلٹی دی جائے اور اس کا حکومتی حصہ40% جنگلا ت کی تحفظ پر بذریعہ مقامی(GFMC) جنگلات لگائے جائیں ۔، اقوام متحدہ کے مختص کئے گئے کاربن فنانس فنڈ سے چترالی عوام کو رائلٹی بطور امداد دی جائے اور ہر ویلی سے جنگلات کے بچاؤ کیلئے 500 افرادپر مشتمل فارسٹ فورس تشکیل دی جائے تاکہ وہ مقامی آبادی روزگار کے ساتھ ساتھ جنگلات اور “Peat Land” کا تحفظ کر سکے۔، دریائے کابل کا نام تبدیل کر کے دریائے چترال رکھا جائے جو کہ چترال کے اندر 242 کلومیٹر قر ام براہ جھیل ،تریچ میر سے ارندو تک پھیلا ہوا اور 36 معاون دریاؤں پر مشتمل ہے ۔، ضلع چترال کو پانی پر رائلٹی دی جائے ۔، نیشنل فنانس فنڈ NFC میں سے چترال کے رقبہ و پسماندگی کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے لئے فنڈ مختص کیا جائے ( اور ساتھ ہی NFC کے فارمولہ کے طریقہ کار پر نظر ثانی کی جائے ۔)،LNG ، سوئی گیس اور کوئلے کے ڈپو چترال و بونی میں قائم کئے جائیں SMEDA نے کوئلے کی فزیبلٹی تیار کی ہے جن کے بقول فاٹا میں پائے جانے والے کوئلے کا استعمال لکڑی سے سستا پڑتا ہے ۔، فارسٹ ڈپو چکدرہ سے ضلع چترال منتقل کیا جائے ۔ ، گلیشیئرز اور سیلاب کی وجہ سے ریشن ، کوشٹ ، بمباغ، موردیر، نوگرام ، کوراغ، گرین لشٹ ، موڑ کہو ، وریجون ، تور کہو ، بریپ وغیرہ کے علاقے رہنے کے قابل نہیں رہے ۔اس لیے علاقے کے عوام کے مشورے کو ملحوظ خاطررکھتے ہوئے انہیں قاق لشٹ میں آباد کیا جائے اور ساتھ ہی بمبوریت ، رمبور، بریر، پرسان، بکھوشٹ اور مُردان کے لوگوں کے لئے رہائیش کا متبادلہ بندوبست کیا جائے ۔ ، چترال میں جنگل اور ماحول کی حفاظت کے لیے سوچ کی تبدیلی کی اشد ضرورت ہے اس سلسلے میں چترال میں یونیورسٹی کے قیام و فارسٹ انسٹی ٹیوٹ ،اور تمام سب تحصیلوں میں مردانہ ، زنانہ کے کالجز بنائے جائیں اور ساتھ ہی جنگلاتی اور Peat Land کے لوگوں (GFMC) کو کینڈا ، جنوبی افریقہ ،کینیا ،اور سری لنکا کے جنگلاتی علاقوں کے مطالعاتی کے دورے پر بھیجا جائے ۔، موسمی تغیر کے ماہرین کو موجودہ حالات کے تجزیے کیلئے فوری طور پر چترال بھجوایا جائے اور ان کی سفارشات کی روشنی پر ڈسٹرکٹ و صوبائی پالیسی ترتیب دی جائے ۔ ، چترال کو قومی سطح پر آفت زدہ علاقہ قرار دیکر تعمیر نو کیلئے انٹرنیشنل کمیونٹی سے حکومتی سطح پر رابطہ کیا جائے ۔،زرعی قرضو ں کے ساتھ ساتھ “Advance Salary” و کاروباری قرضہ جات و مائیکرو فنانس کے قرضہ جات کو معاف کیا جائے ۔ ، چترال کی بحالی سکیم ، روڈ ،آبپاشی کی نہریں ، صاف پینے کے پانی کے منصوبے اور تباہ شدہ مکانات پر جلد کام شروع کروایا جائے اور فصلوں کیلئے معاوضہ دیا جائے۔ ، مندرجہ بالا مطالبات چترالی عوام کے دل کی آواز ہیں چترال میں زمین کے کٹاؤ ،گلیشیئرکے پھٹنے ، لینڈ سلائیڈنگ، پتھر ، ریت ، مٹی، بجری کے بہنے کی وجہ سے نہ صرف چترال بلکہ نوشہرہ، چارسدہ، ورسک ڈیم ، تربیلا ڈیم، اور پورے پاکستان کو خطرات در پیش ہیں اور گلیشیئرپگھلنے کی وجہ سے پاکستان کے آبی ذخائر ختم ہو نے کا خدشہ ہے اس لیے چترالی عوام کے مطالبات کو منظور کر کے نہ صرف چترال محفوظ ہوسکتا ہے بلکہ پاکستان کے مستقبل کے آبی ذخائر کو بھی تباہی سے بچایا جا سکتا ہے ۔ محفوظ چترال ، پاکستان کے آبی ذخائر کی ضمانت ہے لہذ حکومت پاکستان و ریاست پاکستان سے فوری اقدامات کی توقع ہے چترال بچاؤ ، پاکستان بچاؤ مہم اپنے مقاصد کے حصول تک جاری رہے گی

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔