پروفیسر شاہنواز پر حملہ کرنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائےگی، سخت سزا دینگے، وزیر اعلی

پروفیسر شاہنواز پر حملہ کرنے والوں کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائےگی، سخت سزا دینگے، وزیر اعلی

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت (نمائندگان) گلگت بلتستان کے وزیر اعلی حافظ حفیظ الرحمن نے کہا ہے کہ دن دیہاڑے یونیورسٹی میں گھس کر پروفیسر شاہنواز پر تشدد کرنے والے مجرموں کے خلاف سخت ترین کاروائی کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ قراقرم یونیورسٹی کو فرقہ واریت کی نذر نہیں ہونے دیںگے۔

ایک اخباری بیان میں انہوں نے کہا ہے کہ ان کی حکومت گلگت بلتستان میں دہشتگردی اور شرپسندی کے خلاف زیرو ٹالیرنس کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں اداروں کو احکامات جاری کر دئے گئے ہیں۔

وزیر اعلی نے کہا کہ قراقرم یونیورسٹی گلگت بلتستان کا قومی اثاثہ ہے اور یہ کہ پروفیسر شاہ نواز پر حملہ کرنے والے علاقے کا امن تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

یاد رہے کہ آج بعض نقاب پوشوں اور دیگر افراد نے پروفیسر شاہنواز کے دفتر میں گھس کر انہیں سریوں اور ڈنڈوں سے مار کر زخمی کردیا تھا۔

پامیر ٹائمز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوے پروفیسر شاہنواز نے کہا ہے کہ وہ اس واقعے میں ملوث بعض افراد کو جانتے ہیں، اور ان کو شناخت کر سکتے ہیں۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ حملہ کرنے والوں کا تعلق ایک مذہبی طلبا تنظیم سے ہے۔ انہوں نے اس حملے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوے کہا کہ وہ ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ قراقرم یونیورسٹی کے طلبا شرپسند نہیں ہیں۔  انہوں نے کہا کہ وہ اس معاملے کو قانون کے سپرد کردیتے ہیں، اور انہیں انصاف کی توقع ہے۔

پولیس ذرائع نے کہا ہے کہ یونیورسٹی انتظامیہ کی درخواست پر دس افراد کے خلاف مقدمات درج کئے گئے ہیں اور کاروائی کی جارہی ہے۔ ان دس افراد میں سے چھ کو قراقرم یونیورسٹی کی انتظامیہ نے ایک درخواست میں نامزد کیا ہے۔

 زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس واقعے کی شدید مذمت کی ہے۔ مولانا خلیل قاسمی نے ان شرپسندوں کے خلاف کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ آج جمعے کے اجتماع سے خطاب کرتے ہے انہوں نے الزام لگایا کہ اس واقعے میں طلبا کے علاوہ یونیورسٹی کے بعض ملازمین بھی ملوث ہیں۔ انہوں نے وائس چانسلر سے مطالبہ کیا کہ اس واقعے میں ملوث طلبا اور ملازمین کو یونیورسٹی سے برخاست کردیا جائے، اور ان کے خلاف کاروائی کی جائے۔

اُدھر اہل سنت والجماعت کے سربراہ قاضی نثار نے بھی ایک اخباری بیان کے ذریعے حکومت سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ واقعے میں ملوث افراد اور ان کی پشت پناہی کرنے والوں کے خلاف انسدادِ دہشتگردی کے قوانین کے تحت کاروائی کی جائے، تاکہ معاشرے میں سزا اورجزا کا نظام قائم ہوسکے۔ انہوں نے کہا ہے کہ ایک استاد پر حملہ کرنے والے پورے ملک اور قوم کے دشمن ہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔