چلاس ڈائری: دیامرمیں تعلیمی پسماندگی کی وجہ

چلاس ڈائری: دیامرمیں تعلیمی پسماندگی کی وجہ

9 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

دیامرمیں مردوں کی شرح خواندگی ستائیس فیصد جبکہ خواتین میں صرف دو فیصد ہے- محکمہ تعلیم

تحریر:مجیب الرحمان

علم کی ضرورت و اہمیت سے بھلا کون واقف نہیں۔ علم کی بدولت آج انسان ستاروں پر کمند ڈال چکا ہے اور دنیا ایک گلوبل ویلیج بن چکی ہے۔ آج اگر دنیا میں کوئی طاقتور تصور ہوتا ہے تو وہ بھی علم اور جدید ٹیکنالوجی کی مرہون منت ہے۔ چاہے جتنا بھی مال و زر بادشاہت و شہنشاہت ہو مگر علم نہ ہو تو اسکا کوئی بھی فائدہ نہیں ہے۔مغربی طاقتیں آج ساری دنیا پر حکمرانی کر رہے ہیں تو اپنے زور بازو پر نہیں صرف اور صرف اس طاقت کے پیچھے علم ہی کار فرما ہے۔ یہی علم جو مسلمانوں کی میراث سمجھی جاتی تھی، یورپ نے اپنایا اور ساری دنیا کو اپنا غلام بنا لیا اور سیاہ و سفید کے مالک کہلائے جانے لگے۔مجھے اس موقع پر علامہ محمد اقبال کا ایک شعر یاد آتا ہے:
مگر وہ علم کے موتی کتابیں اپنے آبا کی جو دیکھیں ان کو یورپ میں تو دل ہوتا ہے سیپارہ

بلاشبہ علم کا منبع اسلام ہی ہے۔ قرآن پاک جب نازل ہونا شروع ہوا تو ابتدائی آیت کریمہ اقراء ہی تھی یعنی پڑھ اپنے رب کے پاک نام سے۔ قرآن کریم میں علم کا ذکر اسی مرتبہ اور علم سے نکلے الفاظ سینکڑوں بار ملیں گی۔محسن انسانیت حضرت محمدؐ نے اپنی بعثت کا مقصد ہی تعلیم و تربیت قرار دیا ہے۔ آپ ؐ نے خود فرمایا کہ میں استاد بنا کر بھیجا گیا ہوں۔ آپ ؐ کا فرمان ہے کہ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے۔ خودحضور پاک ؐ نے غزوہ بدر کے جنگی قیدیوں کو جو فدیہ ادا نہیں کر سکتے تھے انہیں مسلمان بچوں کو تعلیم دینے کے عوض رہا کر دیا تھا۔ الغرض قرآنی تعلیمات احادیث نبوی ؐ اوراسلامی تاریخ کے واقعات علم کی اہمیت و افادیت سے بھری پڑی ہیں۔

علم کی افادیت اور اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اگر ضلع دیامر کی تعلیمی شرح پر نظر دوڑائی جائے تو حیرت ہوتی ہے۔ محکمہ تعلیم کی جانب سے کئے گئے سروے کے مطابق دیامرمیں مردوں کی شرح خواندگی ستائیس فیصد جبکہ خواتین میں صرف دو فیصد ہے۔ تعلیمی شرح کو سامنے رکھتے ہوئے اس پر غور و فکر کرنے کی ضرورت ہے۔ دیامر کے باسیوں کو اللہ تعالیٰ نے بے پناہ صلاحیتوں سے نوازا ہے۔ مشکلات کے باوجود ہر میدان میں دوسروں کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت ان میں موجود ہے۔

ضلع دیامر بھر میں اس وقت سرکاری سکولوں کی تعداد ایک سو چونسٹھ ہے۔ چند عرصے قبل تعلیمی فروغ کے لئے پچھتر ہوم سکولز بھی قائم کئے جا چکے ہیں۔ راقم بھی چونکہ دیامر سے تعلق ہونے کے ناطے سرکاری سکولوں سے ہی تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہوا اسلئے سرکاری سکولوں کی حالت زار بیان کرنا کوئی مشکل نہیں ہوگا۔

ابتدائی تعلیم گھر کے قریب واقع ایک پرائمری سکول جو کہ بلڈنگ نہ ہونے کی وجہ سے ایک چھوٹے سے دکان میں قائم تھی، ایک ہی ماسٹر اس سکول کو چلاتا تھا۔ دو سے تین کلاسیں اور سینکڑوں طلباء زیر تعلیم، ایک دوسروں پر بوجھ ڈال کر دبک کر بیٹھنے پر مجبور تھے۔ مڈ بھیڑ میں ایک لفظ بھی لکھنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہوتا تھا۔ ماسٹر جی بھی دو سے تین کلاسوں کو ایک ساتھ ایک ہی دکان میں کیسے پڑھا سکتا تھا۔ خیر ماسٹر جی نے طلباء کی مشکلات کے پیش نظر سکول کے ساتھ ایک خالی پلاٹ میں طلباء کو کھلے آسمان تلے تعلیم دینے کا فیصلہ کر لیا۔

جہاں پر آسمان چھت اور زمین فرش کا کام دینے لگے۔ کچھ عرصہ موسمی حالات کا بھی مقابلہ کیا اور مٹی میں بیٹھنے سے کپڑوں اور کتابوں کی جو حالت بنتی تھی شاید ہمارے والدین یا ماسٹر جی بہتر جانتے تھے۔ اس حالت زار سے تنگ آکر والدین نے مجھے سکول سے ہی بے دخل کر دیا۔ کافی عرصے بعد دوبارہ قریبی گرلز سکول میں زبردستی داخلہ کروادیا گیا۔ کھلے آسمان اور ریت مٹی سے جان چھوٹ کر گرلز سکول کے ایک ٹاٹ بچھے کمرے میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع نصیب ہوا۔ اس زمانے میں انگلش میڈیم کے مضامین نہیں ہوا کرتے تھے۔صرف اردو اور گنتی پر مشتمل آسان سلیبس ہوا کرتا تھا۔ راقم بھی اندھوں میں کانا شمار ہونے لگااور کچھ لکھ پڑھنے کا ہنر سیکھنے لگے۔ تیسری جماعت پاس کرنے کے بعد سکول سے بے دخل کر دیا گیا۔

تب تک پرائمری سکول کو ایک تین کمروں پر مشتمل ایک چھوٹی عمارت میں منتقل کی جا چکی تھی۔ چوتھی جماعت میں پڑھنے کے لئے اسی سکول میں داخلہ ملا۔ کلاس روم میں بیس بچوں کی گنجائش تھی مگر وہاں پر پچاس کے قریب بچوں کو رکھا گیا۔ جگہ اساتذہ کی کمی اور مشکلات کے سبب اکثر تعلیم باہر صحن میں دی جاتی رہی۔ خدا خدا کر کے پرائمری پاس ہوئی، جس کے بعد چھٹی کلاس میں داخلہ بوائز ہائی سکول میں ملا۔ مگر وہاں پر بھی گنجائش سے زیادہ طلباء کی تعداد تھی، اسلئے چھٹی جماعت کی دو سیکشن پر مشتمل کلاسوں کو پورا سال باہر صحن میں پتھروں پر بٹھایا گیا۔ طلباء پتھروں کی کرسیاں بنا کراور اسی پربیٹھ کراپنے مستقبل کی تیاری کرتے رہے۔ سخت گرم ہوتی تو دوسری کلاسوں کے سامنے برآمدے میں منتقل کیا جاتا، شور شرابے اور ٹھنڈے گرم فرش پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہوتا ہے۔

اساتذہ کی کمی، تعلیمی سہولیات کا فقدان آڑے آتا رہا کئی طلباء اس بے سرو سامانی سے تنگ آکر تعلیم کو خیر باد بھی کہہ گئے۔ نویں کلاس کے طلباء نے انگلش میڈیم میں پڑھنے کے لئے احتجاج کیا اور ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن کے آفس گئے جنہوں نے ہیڈ ماسٹر سے رابطہ کیا تو ہیڈ ماسٹر صاحب آگ بھگولہ ہوگئے اور طلباء کی وہ حالت کر دی کہ بیان نہیں کیا جا سکتا۔ تشدد کے بعد ہیڈ ماسٹرنے کہا کہ سکول میں دوسرے مضامین کے اساتذہ نہیں انگلش میڈیم کے لئے کہاں سے آئینگی۔ پڑھنا ہے تو اسی طرح پڑھتے رہو نہیں تو گھر جا کر والدین کا ہاتھ بٹائیں۔
اسی سکول میں میٹرک کے امتحان سے دو تین ہفتے قبل لیبارٹری کے چند تجربات کروائے گئے حالانکہ سائنس کلاس کو نہم اور دہم میں ہر مضمون کے ساتھ پریکٹیکل یا تجربہ لازمی ہو تا ہےتاکہ طلباء کو سمجھنے میں آسانی ہو۔ خیر اسی طرح میٹرک پاس کر لی اور کالج میں فرسٹ ائیر میں داخلہ لینے پہنچ گئے تو کالج میں کہا گیا کہ پری میڈیکل کی کلاسز نہیں لگتی ہیں، سبجیکٹ اسپیشلسٹ موجود ہی نہیں ہیں۔ لہٰذا بہتر یہی ہے کہ اکنامکس میں داخلہ لیا جائے اور پھر زبردستی طلباء کو اکنامکس میں داخلہ دیا گیا۔ کچھ عرصے کالج آنے کے بعد دلبرداشتہ ہو کر اکثر طلباء نے تعلیم کو ہی خیر باد کہہ دیا۔ گھریلو مجبوریوں کی بناء پر مجھ سمیت کئی طلباء علم کی پیاس بجھانے اسی کالج میں ہی رہ گئے۔ کچھ سرمایہ رکھنے والے طلباء نے ملک کے دیگر شہروں کا رخ بھی کر لیا اورآج وہ بڑی بڑی پوسٹوں پر تعینات ہیں۔

اسکول میں پڑھاتے ہوئے استاد طلباء سے مستقبل کی خواہش کا پوچھتے تھے تو طلباء ڈاکٹر، انجینئیر اور سائنسدان بن کر ملک و قوم کی خدمت کرنے کا عزم دہراتے تھے۔ مگر مواقع نہ ملنے اور بہتر تعلیم و تربیت کی عدم فراہمی پر اکثر کلاس فیلوز کی تمنائیں ادھوری رہ گئی ہیں۔ راقم بھی ایف اے مکمل کرنے کے بعد پرائیویٹ طور پر اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہوا کیونکہ اس وقت دیامر میں ڈگری کالج قائم نہیں ہوئی تھی۔ اب بھی کالج کو ڈگری کا درجہ دیا گیا ہے مگر بلڈنگ اور دیگر سہولیات نا پید ہیں۔

آج بھی دیامر کے کئی اسکول ایسے ہیں جہاں بلڈنگ ہی موجود نہیں ہے۔ طلباء کھلے آسمان تلے زمین پر بیٹھ کر تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ کہیں سکول ہے تو استاد نہیں۔ گزشتہ روز دیامر کی واحد ڈگری کالج کے طلباء نے ایک احتجاجی ریلی نکالی، وجہ دریافت کی تو معلوم ہوا کہ کالج میں تین ماہ سے بیالوجی کا لیکچرر ہی نہیں ہے۔ قارئین محترم آپ ہی بتائیں جب ضلعی ہیڈ کوارٹر چلاس کی ڈگری کالج میں یہی حالت ہے تو دور دراز کے علاقوں یا دیگر اسکولوں کی حالت کیا ہوگی۔

ضلع دیامر کی تعلیمی پسماندگی کی اہم وجہ حکومتی عدم توجہی اور ناکافی سہولیات ہیں۔ تعلیمی ادارے تو ہیں مگر ان میں ماہر اساتذہ موجود نہیں۔ سابقہ ادوار میں اساتذہ کی بھرتیوں میں بھی میرٹ کو ملحوظ خاطر نہیں رکھا گیا یہی وجہ ہے آج دیامرتعلیمی لحاظ سے سب سے زیادہ پسماندہ ضلعوں میں شمار ہوتا ہے۔ بعض علاقوں میں اساتذہ گھر بیٹھے تنخواہیں لے رہے ہیں جو سراسر مستقبل کے ساتھ اور ملک و قوم کے ساتھ ناانصافی ہے۔ دیامر کے عوام اب باشعور ہو چکے ہیں۔ انہیں تعلیم کی افادیت اور اہمیت کا اندازہ ہو چکا ہے۔ پورے ملک کے کسی بھی اسکول ،کالج، یونیورسٹی میں دیامر کے ہزاروں ںطالب علم زیر تعلیم ہیں۔ سرکاری سطح پر تعلیمی بہتری کے اقدامات سے غریب طلباء کا مستقبل بھی روشن ہو سکتا ہے۔

حکومت کو چاہئے وہ دیامر کو پسماندہ پسماندہ کی رٹ لگانے کی بجائے تعلیمی نظام میں بہتری لائے۔ اساتذہ کو جدید تعلیمی معیار سے روشناس کرائے۔ اساتذہ کی کمی کو دور کی جائے اور یونیورسٹی کیمپس کا قیام بھی عمل میں لایا جائے تاکہ ایک مقدس فریضے کی تکمیل ممکن ہو سکے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔