وادی بروغل میں  سالانہ دو کروڑ اٹایس لاکھ روپے کے افیون کا استعمال، علاقہ سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے نظروں سے اوجھل

وادی بروغل میں سالانہ دو کروڑ اٹایس لاکھ روپے کے افیون کا استعمال، علاقہ سرکاری اور غیر سرکاری اداروں کے نظروں سے اوجھل

82 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال (گل حماد فاروقی) چترال کا انتہائی پسماندہ اورجغرافیائی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل وادی بروغل جدید دنیا کے سہولیات سے کھوسوں دور۔ یہاں بچوں کے لیے نہ تو کوئی معیاری اسکول اور نہ ہی کھیل کا میدان۔ اس وادی میں بڑوں کیلئے بھی اپنا وقت مثبت سرگرمیوں میں گزارنے یا محظوظ ہونے کیلئے کچھ بھی نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ یہاں کے لوگ اکثر افیون کا نشہ کرتے ہیں اور حقہ نما پائپ کے ذریعے افیون نوشی کرتے ہیں۔ علی نگاہ خان جو اسماعیلی لوکل کونسل کا صدراور پیشے کے لحاظ سے سرکاری سکول میں استاد ہے کا کہنا ہے کہ وادی بروغل کے لوگ سالانہ دو کروڑ اٹایس لاکھ روپے کی افیون پیتے ہیں۔ ہم نے اس لعنت سے نکالنے کیلئے اپنی تئیں کوشش کی مگر ناکام رہے۔

یہاں نہ تو بجلی ہے، نہ سڑک، نہ ٹیلیفون نہ زندگی کی کوئی اور آسائش یا سہولت دستیاب ہے، یہی وجہ ہے کہ وقت گزار نے کیلئے بچےبرف پوش میدان میں برف کا کھیل کھیلتے ہیں جسے مقامی زبان میں ہیم پیسی دیک یعنی برف کے گولے سے ایک دوسرے کو مارنا۔

SONY DSC

SONY DSC

  اس وادی میں کوئی سڑک بھی نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ لوگ برف پوش چھوٹے چھوٹے پگڈنڈیوں (راستوں) سے گھوڑوں کے ذریعے سفر کرتے ہیں اور دریا کا پانی اکثر سردیوں میں جم جاتا ہے جس کے اوپر علاقے کے لوگ آسانی سے اس پار گزرجاتے ہیں۔

 بروغل کے گرم چشمہ گاؤں میں قدیم سے برفانی تودے پڑے ہیں اور یہ گلیشئر کبھی کبھی اپنی جگہ سے سرک کر نیچے بھی آتے ہیں۔

اس گاؤں میں برفانی تودوں سے چھوٹے چھوٹے پہاڑی نما ٹیلے بن چکے ہیں۔ علاقے کے ایک طالب علم میر عزیز کا کہنا ہے کہ گرم چشمہ میں ایک بڑا جھیل بھی ہے اور یہ گلیشئیر کافی عرصے سے موجود ہے اگریہ برفانی تودہ پھٹ گیا تو پورا گاؤں تباہ ہوسکتا ہے۔

گھوڑے پر لوگوں کو لے جاکر مزدوری کرنے والا شمشیر خان کا کہنا ہے کہ یہاں چونکہ ایک تو سڑک نہیں ہے جبکہ دوسری طرف یہاں شدید برف باری ہوئی ہے۔ ان برف پوش راستوں پر پیدل چلنا نہایت مشکل ہے اور حطرناک بھی ہے تاہم ان لوگوں نے گھوڑوں کو تربیت دی ہے جو برف پر آسانی سے چل سکتے ہیں اور ان گھوڑوں کے ذریعے نہ صرف مقامی لوگ سفر کرتے ہیں بکہ یہاں آئے ہوئے مسافروں کو بھی گھوڑوں پر بٹھاکر اپنے منزل مقصود تک پہنچاتے ہیں جس کے عوض ہمیں ایک دن بھر کی مزدوری صرف ایک ہزار ، پندرہ سو یا دور جگہ ہو یا سامان بھاری ہو تو اس کیلئے دو ہزار لیتے ہیں۔ شمشیر کا کہنا ہے کہ گھوڑے کے ساتھ ایک مقامی بندہ بھی اس کی رسی کو پکڑ کر رہنمائی کرتا ہے یہ رقم گھوڑے اور اس کی مالک (دونوں) کی دن بھر کی محنت اور تھکادینے والی سفر کی اجرت ہے۔

broghil 1
ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت یا کوئی فلاحی غیر سرکاری ادارہ ان لوگوں کی علاج معالجے کیلئے مستقل بنیادوں پر منصوبہ بندی کرکے ہسپتال بنائے اور ان لوگوں کو مشخول رکھنے اور محظوظ کرنے کیلئے Entertainment کا کوئی بندوبست کی جائے تو بہت ممکن ہے کہ یہ لوگ منشیات کی لعنت سے چھٹکارا پائے اور یہ اپنا وقت مثبت اور فلاحی کاموں میں صرف کرے۔

broghol 2

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔