قصور اپنا نکل آیا

 قصور اپنا نکل آیا

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

کہتے ہیں جو قوم اپنے ماضی سے سبق نہیں لیتی وہ کبھی بھی مستقبل نہیں سنوار سکتی۔ یہ جملہ قوم کے بارے  ہے اور جہاں قوم کے بجائے گروہ کی شکل میں افرادرہتے ہوں تو ان کے لئے یہ  نصیحت یا گُر کسی کام کا نہیں ۔ گلت بلتستان جسے  مختصراً جی بی کہا جاتا ہے  جسے میں(گ۔ب)  گروہ بٹا ہوا کہتا ہوں۔  وہ اس لئے کہ آج تک یہاں  بسنے والے باسی ایک قوم نہ بن سکے اور نہ ہی کبھی انہوں نے  ایک قوم بننے  بارے سوچا ہے ۔ اس خطے کی سیاسی  کہانی  عجیب بھی ہے  اور ایک فریب بھی ۔کہا یہ بھی جاتا ہے کہ تجربات سے بھی انسان بہت کچھ سیکھ جاتا ہے ۔ لیکن  یہاں جتنے بھی تجربات ہوئے  اس سے بھی  کسی نے سبق نہیں سیکھا ۔ ممکن ہے کہ میرا تجزیہ غلط ہو لیکن اب تک  کے ہونے والے تجربوں سے تو نظر یہی آرہا ہے۔ یہاں ڈوگروں کے انخلا کے ساتھ ہی تجربات کا  سلسلہ جاری ہے اور مختلف تجربات سے گزر کر دو ہزار نو کے لولے لنگڑے نظام تک پہنچے تو امید سی بندھ گئی تھی کہ اب  اگلے تجربے  میں اس سے بہتر  کوئی نتیجہ آئیگا  ۔  لگتا  ایسا ہے   ماضی کے تجربات  کو دوبارہ ازمانے کا فیصلہ  کیا گیا ہے۔اگر کسی کے حافظے میں یہ بات ہے  تو ذرا  جونیجو دور میں  اسٹیبلشمنٹ کے سکرییٹری  جلال حیدر کی سربراہی میں بننے والی کمیٹی  کی کہانی پڑھ لیں ۔   جس میں گلگت بلتستان کو پنجاب یا  پختون خواہ خیبر  صوبے میں  ضم کرنے کی کوشش  کی گئی  تھی  لیکن  اس وقت گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے وفاقی لیول کے   ملازمین  عبدل واحد اور وزیر فرمان کی مہربانی  جنہوں نے  جلال حیدر  کو اس کے مضمرات سےآگاہ کیا اور یہ اقدام ہوتے ہوتے رہ گیا۔اور  جونیجو دور میں  گلگت بلتستان سے دو مبصر    رکھنے پر  بات ٹھیری۔ اسی کمیٹی کی فیصلے کی روشنی میں   گلگت سے مرحوم قربان علی  اور سکردو سے احمد علی کو بطور  مبصر  چن لیا گیا تھا۔ ریورس گیئر میں گاڑی چلانے کا فیصلہ  کس کا  ہے اللہ معلوم  شائد سر تاج عزیز کی سربراہی میں بننے  والی کمیٹی میں  پھر سے  کوئی  امر یا سرکاری ملازمین درمیان مین آڑے آئے ہوں جنہوں نے مشورہ دیا ہو جناب  آگے نہ  بڑھیں بڑا خطرہ ہے۔ اور گہرائی بھی بہت ہے شائد اس گہرائی اور خطرے کے باعث  ایسا کرنا ضروری ہوا ہو۔ اور وہ گہرائی سب کو معلوم بھی ہے اور واضح بھی جی ہاں کشمیر مسلہ۔ یہی کشمیر مسلہ ہی تو ہے جس نے  پاکستان کو قومی  اور بین الاقوامی دونوں طرف سے جکڑا ہوا ہے۔ پاکستان اور نہ ہی کشمیری تقسیم کشمیر کے حق میں ہیں ۔پاکستان کا تو اس بارے بڑا ہی دو ٹوک موقف ہے کہ کشمیر کے بغیر پاکستان نا مکمل ہے اور کشمیر کا فیصلہ اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ہونا  باقی ہے۔ حالیہ دنوں میں کچھ اخباری بیان گلگت بلتستان کے آئینی حقوق  کے تناظر میں ایسے نظر آجاتے ہیں جس میں خدشات کا اظہار پایا جاتا ہے کہ تقسیم کشمیر کا فیصلہ ہو چکا ہے ۔جماعت اسلامی کے ایک رہنما نے تو ایک اور خطرے کی بھی نشاندہی کی ہے کہ  کشمیر کی تقسیم کے ساتھ ساتھ جی بی کو بھی تقسیم کیا جا رہا ہے۔عوام تو آس میں تھے  کہ عبوری  صوبے میں دو مبصروں کو پاک اسمبلی میں نششت دی جارہی ہے  اور درمیان میں  یہ جی بی کی تقسیم  کہ گلگت  دیامر کو آئینی حقوق دئے جائینگے اور بلتستان سے ایک مبصر لیا جائیگا۔۔ یہ کیسے ممکن ہے یہ تو جماعت اسلامی کے رہنما خود ہی وضاحت کر سکتے ہیں۔ اب تک  جو  خبریں گردش میں ہیں ان سے یہ قیاس کیا جا رہا ہے کہ گلگت بلتستان  کو ایک عبوری صوبے کی شکل دی جا رہی ہے  جس کے تحت ضیالحق مرحوم کے دور میں  جونیجو  حکومت کی طرح پھر سے  گلگت بلتستان سے دو خوش نصیب پاکستان قومی اسمبلی  کے پُر تعیش ھال  میں وزیر یا مشیر  کی حثیت میں   براجمان رہئنگے لیکن ان کے منہ میں زبان نہیں ہوگی۔ بس ان کو  صرف اتنی اجازت دی جائے گی کہ وہ کبھی کبھار  یہ کہہ سکینگے کہ ۔

 میں بھی منہ میں زبان رکھتا ہوں

کاش پوچھو کہ مدعا کیا ہے

 ہم کیا مدعا بیان کرینگے ہم تو صرف جی بھی کی تھوڑی سی تاریخ ہی بتا سکتے ہیں ۔۔ اور اس تاریخ میں اپنی غلطیوں کے سوا کچھ نظرنہیں آتا  بلکہ یوں کہیں کہ

 یہ عذر امتحان جذب دل کیسا نکل آیا
میں الزام اس کو دیتا تھا قصور اپنا نکل آیا

سچ پوچھیں تو اس گروہ کو ایک قوم  بنانے کے لئے سرے سے سوچا ہی نہیں گیا۔ جی بی کے نصیب میں   تو ہمیشہ  ہی چڑھتے سورج کی پوجا کرنے والے  افراد ہی ملےاور اب تک زندہ باد ۔۔مردہ باد آوے اور جاوے جاوے  کے نعروں کے سوا کچھ نظر نہیں آتا۔ ۔ کون سوچتا پاکستان نے تو وہی کچھ کیا جو ہم نے چاہا۔ اور ہم نے کیا چاہا۔ ۱۹۴۷ میں ڈوگروں سے انخلا چاہا پاکستان نے اس انخلا میں  ہماری بڑی مدد کی اور اس میں ہمیں کامیابی ہوئی۔۔انخلا کے بعد پاکستان  سے ایڈمنسٹریٹیو آفیسر کا مطالبہ کیا  پاکستان نے پُھرتی دکھاتے ہوئے اپنا پولیٹیکل ایجنٹ مقررکیا۔پاکستان کے اس اقدام کو سہراتے ہوئے  یہاں کے لوگوں نے اس پولیٹیکل ایجنٹ کا والہانہ استقبال کیا  ۔ یہی نہیں ایف سی آر قوانین کو ہم نے بڑے اچھے انداز میں سہے۔۔ اس کے بعد بنیادی جمہوریت  کا تجربہ  ہم پہ آزمایا گیا  ہم نے اس نظام کو اچھا جانا۔ ہمارے خطے میں وقفے وقفے سے جو بھی تبدلیاں ہوئی ہم نے خوش آمدید کہا۔کشمیرکے شمالی سرحدی صوبے  کے باعث  جی بی انیس سو انچاس تک آزاد کشمیر کے ایک یونٹ کے طور پر رہا  ہم نے کوئی چوں چرا نہیں کیا۔انیس سو انچاس میں پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومت  کے درمیان ایک معاہدہ  ہوا  اس کو بھی ہم نے بخوشی قبول کیا۔۔۔اقوام متحدہ نے  کشمیر کے بارے قراردادیں منظور کی اور جی بی کو بھی کشمیر مسلے سے نتھی کر دیا ہم  نے چُپ سادھ لی۔۔ انیس سو اکہتر میں  بنیادی جمہوریت نہیں بڑی جمہوریت  آئی   اس جمہوریت میں  ہی ہم نے  پاکستان سے رشتہ مضبوط کرنے کے لئے  یہاں موجود ایس ایس آر کا خاتمہ کروایا۔ کیوں اس لئے کہ ہم سچے پاکستانی ہیں  کوئی مقامی اور غیر مقامی نہیں  ہم سب مسلمان بھائی ہیں  جو جہاں چاہئے زمین لے سکتا ہے مکان بنا سکتا ہے پاکستانی ہمارے بھائی بن گئے کتنے خوشی کی بات ہے۔ اب ہم پاکستان کے لئے جان دیتے ہیں  اور دینگے  اس سے بڑا اور کیا ثبوت ہے کہ پاکستان کا سب سے بڑا فوجی اعزازنشان حیدر بھی  ہمارے نام  آیا ہے کشمیر کی جنگ میں حصہ لینے والوں کو بڑی بڑی جاگیریں عطا ہوئی۔۔ یہ سب پاکستان کی مہربانی  ہے۔ پاکستان زندہ باد اور زندہ باد ہی رہیگا۔ یہاں کے باسی کبھی پاکستان  کے بد خواہ نہیں ہو سکتے۔ ہم نے ابھی تک اپنا آئینی حدودربعہ کا تعین ہی نہیں کیا ہے  ہم پہلے توپ کا لائسنس کے لئے درخوست جمع کراتے ہیں  اور پٹاخے والے پستول پر اکتفا کرتے ہیں ۔  ایسا ہوتا آیا ہے اور ہوتا رہیگا۔ اس دفعہ بھی ہمارے مطالبات جمع ہوئے۔۔گلگت بلتستان کو آئینی صوبہ بنایا جائے، گلگت بلتستان میں آزاد کشمیر طرز کا نطام قائم کیا جائے۔گلگت بلتستان کی چودہ اگست انیس سو سینتالیس  سے پہلے والی پوزیشن بحال کی جائے۔ آخر یہ روز روز نئے نئے مطالبات پیش کرنے کی ضرورت کیوں پیش  آتی ہے؟ کیا کسی نے اس کی وجہ ڈھونڈنے کی کوشش کی ہے اس  رخ اور زاویے  سے آخر یہاں کے سیاسی لیڈروں نے  جان بوجھ کر آنکھیں کیوں بند رکھی ہیں ۔۔۔یہی وہ رخ ہے  جس کی طرف مُڑ کر ہی ہماری صحیح سمت کا تعین ہو سکتا ہے۔اور یہ واضح اور حقیقت ریاست جموں و کشمیر سے جی بی کا تعلق ہے۔  یہی ایک ہی راستہ ہے جس کی طرف چلنے سے ہی  جی بی کا آئینی مسلہ حل ہوگا  نہیں تو یوں آئے دن اس آئینی الجھن کی گھتیاں سلجھنے کے بجائے  مزید پیچیدگیاں پیدا ہونگی۔اب کے بار جس مطالبے کے منظور ہونے کی  توقع کی جا رہی ہے وہ شائد عبوری صوبہ کی شکل میں ہو اور جس کے  کا ذکر  ہماری عرض داشت  میں شامل تھا  اگر ایسا ہو جاتا ہے تو اس کی شکل بھی ہو بہو ایسی ہی ہوگی  جیسے  ایک عبوری کونسل  انیس سو سینتالیس میں بنی تھی اسے بھی تو ہم نے ختم کر کے  ملازمت کو ترجیح دی تھی اور عبوری کا مطلب ہی  یہی ہوتا ہے کہ کسی وقت بھی  عبوری کو ختم کر کے نیا سیٹ اپ دیا جائے۔اگر تھوڑا سا وقت ملے تو دل و دماغ  کے  اندرونی حصے جنہیں دریچے کہا جاتا ہے انہین کھول کر غور سے سوچیں  تو قصور اپنا ہی نظر آئیگا

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔