کا غ لشٹ میں ہاؤسنگ اسکیم شروع کرنے سے پہلے علاقوں کے لوگوں کو اعتماد میں لیکران کے تحفظات دور کئے جائیں۔عمائدین موردیر کا پریس کانفرنس

کا غ لشٹ میں ہاؤسنگ اسکیم شروع کرنے سے پہلے علاقوں کے لوگوں کو اعتماد میں لیکران کے تحفظات دور کئے جائیں۔عمائدین موردیر کا پریس کانفرنس

13 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چترال (بشیر حسین آزاد) سب ڈویژن مستوج کے موردیر گاؤں سے تعلق رکھنے والے مغززین میر ایوب خان، ظفرعلی خان، میر گلاب ، محراب خان، جم سوار خان، عبدالغفار اور دوسروں نے کہا ہے کہ کا غ لشٹ میں ہاؤسنگ اسکیم شروع کرنے سے پہلے ان کے علاقوں کے لوگوں کو اعتماد میں لیتے ہوئے ان کے تحفظات دور کئے جائیں جو اس کے ارد گرد واقع ہیں ورنہ موردیر سمیت دوسرے قریبی علاقوں کے عوام اس کی شدید مخالفت اور مزاحمت کرنے پر مجبور ہوں گے۔ جمعرات کے روز چترال پریس کلب میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ موردیر سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ ، سیم وتھور سمیت کئی اور قدرتی آفات سے متاثر علاقہ ہے جہاں قابل کاشت زمین سکڑ کر ختم ہونے والی ہے جبکہ لوگوں کے لئے کاشت کاری اور گھروں کی تعمیر تو درکنار، قبرستان کے لئے بھی ایک انچ جگہ باقی نہیں رہا۔ انہوں نے کہاکہ اس مشکل کے پیش نظر انہوں نے 1995ء میں صوبائی حکومت کو موردیر گاؤں کے سامنے واقع کاغ لشٹ میں قطعہ اراضی کی الاٹمنٹ کی درخواست پیش کی تھی جو کہ اب تک بورڈ آف ریونیو میں زیر غور ہے ۔

انہوں نے کہاکہ گزشتہ سال کی سیلاب نے رہی سہی کسر پوری کردی ہے اور موردیر کے عوام اب انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار نے پر مجبور ہیں جبکہ دوسری طرف غیر مقامی لوگوں کے کہنے پر صوبائی حکومت نے کا غ لشٹ میں ہاؤسنگ اسکیم کا اعلان کردیا ہے جس سے ان کی حق تلفی ہوگی ۔ انہوں نے کہاکہ ان کے درخواست کے مطابق موردیر گاؤں کو 6700کنال اراضی الاٹ کرنے کے بعد ہاؤسنگ اسکیم کو عملی جامہ پہنایا گیا تو انہیں کوئی اعتراض نہیں ہوگا ۔ موردیر کے عمائدین نے اس بات پر شدید تشویش کا اظہار کیا کہ غیر متعلقہ عناصر اب کاغ لشٹ ہاؤسنگ اسکیم کے بارے میں سرگرم عمل ہوگئے ہیں جوکہ پرائے کی شادی میں عبداللہ دیوانہ سے کم نہیں ۔

انہوں نے حکومت پر دوبارہ زور دیتے ہوئے کہاکہ ہاؤسنگ اسکیم میں موردیر گاؤں کے تحفظات کو سب سے پہلے دورکردئیے جائیں جوکہ سب سے ذیادہ متاثر ہ علاقہ ہے ۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ کاغ لشٹ کے اردگرد واقع دوسرے علاقوں کشم، سہت، وریجون، نوگرام، موژگول، کوشٹ، چرون ، بونی اور اوی کے عوام کے ساتھ رابطہ کاری کرتے ہوئے انہیں ایک پیج پر لارہے ہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔