گلگت بلتستان کو پاکستان کا آئینی صوبہ بنایا جائے، اقتصادی راہداری منصوبے میں حصہ دیا جائے، گلگت میں مظاہرین کا مطالبہ

گلگت بلتستان کو پاکستان کا آئینی صوبہ بنایا جائے، اقتصادی راہداری منصوبے میں حصہ دیا جائے، گلگت میں مظاہرین کا مطالبہ

14 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت( فرمان کریم) یوتھ آف گلگت بلتستان کی جانب سے گلگت پریس کلب کے باہر ٹیکس نافذ کرنے کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ احتجاج میں یوتھ کی بڑی تعداد نےشرکت کی۔ احتجاجی مظاہرین نے ہاتھوں میں بینرز اور پلے کارڈز اُٹھا رکھے تھے۔

ریلی سے خطاب کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنما اقبال رسول اور مختلف سماجی، مذہبی تنظیموں اور سول سوسائیٹی کے نمائندوں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اور ریاست پاکستان فی الفور گلگت بلتستان کی طویل محرومیوں کا خاتمہ کرے اور آئین پاکستان میں ترمیم کرتے ہوئے گلگت بلتستان کو پانچواں آئینی صوبہ قرار دے۔ اور گلگت بلتستان میں ٹیکس وصول کرے۔وفاقی حکومت گزشتہ 68سال سے گلگت بلتستان کو نظر انداز کیا ہو اہے۔ وفاقی سینٹ اور قومی اسمبلی میں گلگت بلتستان کو نمائندگی اور این ایف سی ایواڈ میں حصہ نہ دنے کے باوجود گلگت بلتستان کے پسماندہ عوام پر بلاجواز ٹیکسز نافذ کرنا غیر آئینی ہے۔ اور آئینی حقوق نہ ملنے تک تمام ٹیکسز غیر آئینی اور کالعدم ہے۔ مقرین نے وفاقی حکومت کی جانب سے اقتصادی راہداری منصوبے میں دیگر صوبوں کی طرح اہم اسٹیک ہولڈر گلگت بلتستان کومکمل طور نظرانداز کیا گیا ہے جس کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ گلگت بلتستان ایک پسماند ہ علاقہ ہے یہاں کے غریب عوام پر بلاجواز ٹیکسز عائد کرنے سے عوام کا استحصال ہو گا۔ پاکستان کے کچھ علاقے پسماند ہ ہونے اور سینٹ و قومی اسمبلی میں نما ئندگی ہونے کے باوجودوہاں کیعوام کے لئے ٹیکسز معاف ہے۔ جبکہ گلگت بلتستان کے عوام پر زبردستی ٹیکسز عائد کر کے مذید پسماندگی کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔ احتجاجی ریلی میں یوتھ آف گلگت بلتستان کی طرف سے ایک قرارداد پیش کیا گیا جس میں مطالبہ کیا گیا کہ گلگت بلتستان کے عوام کی امنگوں کی ترجمانی اور صوبائی اسمبلی کی قرارداد پر عمل کرتے ہوئے گلگت بلتستان کو مکمل آئینی صوبی بنایا جائے۔ اقتصادی راہداری منصوبے میں گلگت بلتستان کو دیگر صوبوں کے برابر نمائندگی دی جائے۔ گلگت بلتستان کی جغرافیائی ساخت کو سبوتاژ کت نے کی کوشش کی گئی تو بھر پور مزاحمت کر ینگے۔ حقوق دو ٹیکس لو کے عالمی قانون پر عمل کرتے ہوئے گلگت بلتستان کے عوام پر غیر آئینی طور پر مسلط تمام ڈائریکٹ اور ان ڈائر یکٹ ٹیکسز کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ اور گلگت بلتستان میں گندم کے کوٹے میں کی جانے والی حالیہ کمی کو فی الفور واپس لیتے ہوئے مقررہ شدہ کوٹے کے مطابق گندم فراہم کیا جائے۔

 

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔