کما لؔ الہامی اسم با مُسمّٰی

کما لؔ الہامی اسم با مُسمّٰی

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

نجف علی شرقی

کسی شخصیت پر کچھ لکھنے اور کہنے سے پہلے ضرورت اس بات کی ہے کہ لکھاری اور سخنور شخصیت شناسی کی روِشوُں اور اِسرار و رُموز سے آگاہ ہو۔ شخصیت شناسی ایک جزوی مگر مستقل علم ہے ۔ اگر کسی شخصیت کی خاکہ نگاری اور سوانح عمری پر لکھا جائے تو یہ محض ایک جزوی حیثیت رکھتاہے اور اگر اُسی شخصیت پر سیرت کے حوالے سے اظہارِ خیال کیا جائے تو عمل شخصیت شناسی کا یہ پہلو اجتماعیت کے حوالے سے قلم بند ہوجاتا ہے ۔

ہر شخصیت اپنے وجودی اعتبار سے دو پہلو رکھتی ہے ۔ ایک جزوی پہلو اور دوسرا کلّی ۔ انسان اپنے وجودِ واقعی میں دو پہلو رکھتا ہے ۔ انسان کے کلی پہلو میں ہم اسکی ماہیت اور جوہرِذاتی پر بحث کرتے ہیں جبکہ اُس کے جزوی پہلو میں عرضی پر بات کرتے ہیں۔ مثلا انسان کا جسم ، بڑھوتری ، حسِ، عقل اور روح جوہرِ ذاتی ہیں جبکہ کسی انسان کا شاعر ، ادیب ، ٹیچر ، مورِّخ، موٹااورلمباہونا عرضی کہلاتا ہے ۔ اگر انسان کا شاعر ہونا جوہرِذاتی ہوتا تو ہر انسان شاعر ہوتا۔ ہر انسان کا جوہرِ ذاتی بُرہان سے زیادہ قوی صنعت و مدرک سے ثابت ہے مگر کسی انسان میں عرضیات کو ثابت کرنے کیلئے دلیل کا ہونا لازمی ہے وَاِلّاکسی کا اپنے نام کے ساتھ علاّمہ لکھنے سے عالم ہونے کا دعوٰی تو موجود ہے لیکن دلیل نہ ہونے کی صورت میں کسی عاقل کیلئے ایسا دعوٰی کافی و شافی نہیں۔

شخصیت شناسی بصیرت اور معرفت کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ معرفت کیلئے پہلی شرط شوق وذوق کا ہونا لازمی ہے دوسری شرط یہ ہے کہ انسان باادب ہو ۔ بے ادب ہمیشہ معرفت سے محروم رہتا ہے اور شخصیت شناسی کا دروازہ بے ادب کے لیے بند رہتا ہے ۔ تیسری شرط انسان کمال و جمال کا طلب گار ہو یا پھر خود صاحبِ کمال ہواور کمالات کے حصول کیلئے اُس کو محرّک ہونا بھی چاہیے تاکہ سفر میں توازن ہو اس کے علاوہ انسان کیلئے لازمی ہے کہ اس سفر میں شرحِ صدر رکھتا ہو بصورتِ دیگر خود تنگ نظری ایک بہت بڑی رکاوٹ بنتی ہے۔

قارین کرام! پروفیسر حشمت علی کمال الہامی کی شخصیت پر کچھ کہنا اور لکھنا اتنا آسان بھی نہیں کہ کوئی اظہارِ خیال کرے اور نہ

ilhami

پروفیسر کمال الہامی

ہی ناممکن بلکہ ان کی شخصیت پر اظہارِ خیال کرنے سیپیشتر لازمی ہے کہ سنجیدگی سے کام لیا جائے ۔مجھے ان کی شخصیت پر تبصرہ کرنے کا حکم ملا ہے ورنہ میں خود کو ان پر اظہارِ خیال کیلئے اہل نہیں سمجھتا ۔ البتہ میرے لئے کم از کم یہ فخر کی بات ہے کہ زندگی میں پہلی بار کسی شخصیت پر اظہارِ خیال کا موقع ملا۔ ایسی شخصیات پر اظہارِخیال کرنے سے پہلے اہتمام، ذہنی آسودگی اور پی ایچ ڈی لیول کی تحقیق ہونی چاہئے تاکہ شخصیت شناسی کا حق ادا ہوسکے ۔ کہنا یہ چاہ رہاہوں کہ کسی شخصیت پر یوں وقت گزاری کیلئے خام خیالات کے ذریعے اظہارِ خیال کرنا کافی نہیں۔

کمالؔ الہامی صاحب سے میرا رابطہ قائم ہوئے تقریباََ آٹھ سال پورے ہونے کو ہیں۔ اگر چہ خاکسار ڈگری کالج سکردو میں ایک ریگولر طالب علم کی حیثیت سے استادِ محترم کے محضر میں حاضر ہونے سے اس لئے قاصر رہا کیونکہ قلم کار کبھی بھی اس مادرِ علمی کا طالب علم رہاہی نہیں۔ تاہم، مجھے کمرہٗ جماعت سے ہٹ کر پرائیویٹ طور پر اِن فارمل طریقے سے ان سے بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ میں ان سے نہ صرف اپنی تحریروں کی درستگی کے حوالے سے رابطے میں رہا بلکہ دیگر موضوعات پر بحث و تبصرہ، تحقیق و تنقید اور تدریس کے سلسلے میں بھی ہمیشہ ان سے کسبِ فیض کرتا رہا ہوں۔ میں ان کے بارے میں ابتدائی تعریف یوں کرنا چاہوں گا کہ : ’’الہامی صاحب طلباء ، ادباء ، شعراء ، اور استادوں کے استاد ہیں۔ آ پ نہ صرف شاگرد پر ور ہیں بلکہ عہدساز و زمانہ ساز بھی ہیں‘‘۔

ارضِ بلتستان کے علم و ادب کے روشن ستاروں میں آپ کا شمار چند خال خال شخصیات میں سرِفہرست ہوتا ہے ۔

اکثر لوگ ان کو شاعری اور تدریس کے حوالے سے جانتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ ان کی شخصیت کو صرف ان ہی دوحیثیتوں سے قید و بند کرنا اگر ظلم نہیں تو اس سے کم بھی نہیں ۔ آپ مفکّر، دانشور، علاّمہ، نثر نگار، فلاحی کارکن ، مدبّر اور ایک درد شناس انسان ہیں۔ آپ کی نثر نگاری بھی شاعری کی مانند اپنے دامن میں کلّیاتی پہلو رکھتی ہے اور تحریر کا اکثر حصّہ ذو معنی الفاظ پر مشتمل ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ لوگ بڑی آسانی سے آپ کی تحریروں سے لاتعلقّی کا اظہار کرتے ہیں کیوں کہ ایسی تحریریں ہر عام و خاص کیلئے قابلِ فہم نہیں ہوتیں، مزید تفسیر کی محتاج ہوتی ہیں۔ یہاں اس نکتہ کی جانب اشارہ کرنا انتہائی ناگزیر ہے کہ یہ ان کی اوجِ تفکّر اور ادبی مہارتو ں کا نتیجہ ہے کہ قاری کیلئے لغت اور منطقی سوچ سے سہارا لیئے بغیر اُن کی فکر سے سوفیصد آگاہی کا دعوٰی ناقص ہے ۔ ان کی شاعرانہ قادرالکلامی کا یہ عالم ہے کہ انہوں نے ہر شی کی جنس پر بات کی ہے جس کیلئے اُن کی کتاب ’’رباعیاتِ الہامی‘‘ کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے ۔ یہاں اُن کے کسی شعر کو نقل کے طور پر بیان کرنا لا یعنی ہے کیونکہ ان کی شاعرانہ لطافتوں کے حوالے سے سبھی شعراء ان کو امام مانتے ہیں ۔ رہی بات اگر آپ ان کی زندگی کے حالات جاننا چاہتے ہیں تو ششماہی رسالہ فکرو نظر جلد چہارم 2014أ ؁ ء میں ملاحظہ کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ دیگر اہل فن کی تحریروں سے آپ کو کماحقّہ معلومات مل سکتی ہیں مگر میں آپ سے یہ کہنا چاہوں گا کہ اگر آپ خود ان سے مل کر ان تمام کمالات کی تصدیق اپنے ذاتی مشاہدہ کے ذریعے کریں تو بہتر رہے گا یہی سب سے بہتر طریقہ ہے ۔

قارئین کرام ! یہاں ہمارا مقصد صرف ان کی شخصیت پر سَرسری تبصرہ کرنا ہے ورنہ تو ان کی زندگی کے کسی ایک گوشے پر پوری کتاب رقم کی جاسکتی ہے ۔

یہاں ان کے تخلص پر تجزیہ و تحلیل کرنا دلچسپی سے خالی نہیں ۔آپ جانتے ہیں کہ انہوں نے اپنا تخلص کمالؔ الہامی رکھا ہے۔ اس سے ا س بات کا دعوی ملتا ہے کہ ان کے پاس کمالات ہی کمالات ہیں اور ان کی زندگی کا اہم مقصد بھی کمالات کاحصول ہے ۔ استادِ محترم نے کمال کے فورا بعد الہامی رکھ کر شاید یہ کہنا چاہا ہے کہ ان تمام کمالات کا سرچشمہ ان کی اپنی ذات نہیں بلکہ عطائی ، اکتسابی اور اقتباسی ہیں اور ان تمام ذرائع کا سرچشمہ اللہ تعالی کی ذات ہے ۔ البتہ ان کمالات کے حصول کا ذریعہ الہام ہے باقی ذرائع خام کی حیثیت رکھتے ہیں اور الہام کیلئے آمادہ حاملین انسان میں عقل اور روح ہیں۔

یہاں ان کی دِقّت نظری اور باریک بینی کو خراجِ تحسین پیش کرنا چاہئے کہ انہوں نے اپنے نام کے ساتھ کمال رکھ کر اپنے آپ کو بھی آفاقی بنادیا ہے اور دوسرے انسانوں کیلئے بھی کلیّہ عام کردیا ہے ۔ الہامی صاحب یہ کہنا چاہ رہے ہیں کہ اگر کوئی انسان کمالات کا طلب گار ہے تو کمالِ مطلق اللہ کی ذات ہے اللہ کا کمال ذاتی ہے جبکہ مخلوقات کا کمال عطائی اور اکتسابی ہے ۔ استادِ محترم نے کمال الہامی کا دعوٰی کرکے اس کی دلیل اور سند کیلئے اپنی عملی زندگی کو پیش کیا ہے ۔ یہاں اس لطیف نکتہ کی طرف اشارہ لازمی ہے کہ کمالؔ دوقسم کے ہوتے ہیں ایک تکوینی دوسرا تشریعی ۔ ہمارا موضوع تکوینی کمال نہیں بلکہ تشریعی ہے ۔ تکوینی کمال یہ ہے کہ اللہ تعالی وجودی طور پر کسی انسان کو عطاکرے جس میں انسان کی اپنی کوئی محنت شامل نہ ہویعنی جس کمال میں انسان اکتساب نہ کرسکتا ہو اور اس کمال میں انسان کو کوئی اختیار حاصل نہ ہو ۔ لیکن اگر بات ہو تشریعی کمال کی تو ایسی صورت میں انسان کو انتخاب کا حق حاصل ہے۔اس اعتبار سے انسان فاعلِ مختار ہے مجبورِ محض نہیں ۔ وہ اپنی شخصیت خود بنا سکتا ہے ۔ خیر و شر کے انتخاب میں وہ شعور سے کام لیتا ہے ۔

انسان کا کمال تو یہ ہے کہ و ہ شعورو اختیار کے ساتھ اپنی شخصیت سازی کرے اور اپنی ذات میں کمالات ایجاد کرے اور جب ہر کام میں موزونیت اور توازن ہو تو ہر فعل حسِین واقع ہوتا ہے او ر اگر ایسا کمالؔ جو حسِین بھی ہو تو ایسا انسان جمیل ہوگا ۔پس انسان میں اگر کوئی نقص ہے تو وہ کمالؔ و جمال کا نہ ہونا ہے ۔ اور بہترین عشق کمال و جمال کی جانب سفر کرنے میں ہے اور کمالِ مطلق و جمالِ مطلق خداوند کریم کی ذات ہے ۔

استادِ محترم کے اوجِ تفکر کی دلیل یہ ہے کہ انہوں نے شعوری طور پر کمالات کا سرچشمہ اور واسطہ الہام کو قرار دیا ہے ۔ کمال صاحب کا کمال یہ ہے کہ انہوں نے خود کو کمال یافتہ ہونے کا دعوٰی نہیں کیا اس سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ انہوں نے اپنی ذات میں ابھی سوفیصد نقائص کے امکانات کو رد نہیں کیا ہے ۔ ان کے ہاں نظم میں فکر کرنے اور ادبی چاشنی کے ساتھ شعر کہنے کی صلاحیت بالقّوہ اقبال ؒ اور غالب سے زیادہ نہیں تو کم بھی نہیں۔ اور اگر یوں کہا جائے تو مبالغہ نہ ہوگا کہ آپ فی الواقع اور بالفعل بھی انیس بیس کے فرق کے ساتھ ان کے مساوی ہیں ۔

قارئینِ محترم ! الہامی صاحب کی عملی زندگی کے تشریعی کمالات پر سَرسری جائزہ لیکر موضوع کو سمیٹنے کی کوشش کرتا ہوں ۔ ان کی شخصیت میں اتنی دریا دلی ہے کہ جس کی توضیح کچھ یوں کی جاسکتی ہے۔ ان کے عملی رویوں میں ملنساری ، انکساری اور عاجزی جیسی صفات نمایاں ہیں ۔ معمولاتِ زندگی میں ان کا برتاؤ انسانیت کی بنیاد پر ہوتا ہے البتہ طبیعتاََ آپ مذہبی اور دیندار لوگوں، خاص طور پر طلباء کے ساتھ دلی لگاؤ رکھتے ہیں جبکہ دوسرے افراد کے ساتھ آپ کا سلوک اُخوّت کی بنیاد پر دوستانہ ہوتا ہے ۔ کمالؔ الہامی کا سب سے بڑا کمال یہ ہے کہ آپ نے اپنے آپ کو تعصّب ، حرص ، لالچ، تنگ نظری ، مادہ پرستی اور دیگر معاشرتی برائیوں سے مکمّل طور پر آزاد اور پاک رکھا ہوا ہے ۔ جغرافیائی حد بندی ، علائیت، لسانیت ، طبقاتیت ، فرقہ واریت ، جنسیت اور عمر کے طول و عرض کی قید و بند کے پیمانوں کے آپ قائل نہیں آپ نہ تو خود کو عام شہریوں سے منفرد سمجھتے ہیں اور نہ ہی کسی قسم کے تکبّر میں مبتلاہیں۔

اہلِ علم ، اہلِ صنعت اور اہلِ فن سے وابستہ لوگوں کے ساتھ آپ والہانہ انداز سے ملتے ہیں اور دل کی گہرائیوں سے اُن کی قدر کرتے ہیں۔ آپ عہدے اور سکیل کی بنیاد پر رائج درجہ بندی کے قائل نہیں اور یوں ایک زندہ و جاوید معاشرہ کی باریک بینیوں سے آگاہی رکھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ آپ ہوٹلوں کے ملازمین ، موچی ، ڈرائیورز، فقیروں اور درویشوں کے ساتھ عاجزی سے ملتے ہیں اور اس طرز عمل سے اپنے لیے روحانی غذا حاصل کرتے ہیں ۔ لباس ، غذااور گفتگو میں آپ انتہائی سادگی سے کام لیتے ہیں ۔ دیگر اہل علم و اہل فن کی مانند آپ نے خود کو صرف اہل دانش کی صحبتوں تک محدود نہیں رکھا بلکہ آپ کا شیوہ ہے کہ آپ روز مرّہ زندگی کے زیادہ تر ایّام نوجوانوں اور عام شہریوں کے ساتھ گزارتے ہیں یہی وجہ ہے کہ نوجوان ان سے کثرت کے ساتھ اپنے مسائل کو شیر کرنے میں فخر محسوس کرتے ہیں۔

الہامی صاحب علم اور معلومات کا ایک ایسا سمندر ہے جس کے پاس طلباء ، شعراء ادیب اور اساتذہ اپنے اپنے کشکول لیے علمی و ادبی سیرابی کے لیے جاتے ہیں۔ ان کی شخصیت کے حوالے سے ایک اہم نکتہ یہ بھی ہے کہ آپ ہمیشہ دنیاوی خسارہ کا شکار ہوئے ہیں ۔ البتہ یہ فعل بھی ان کا شعوری طریقے سے انجام پایاہے ۔ عالی حضرت نے کبھی بھی اپنے آپ کو کمانے کی غر ض سے مصروف نہیں رکھا ۔ لوگوں کی علمی ، ادبی اور ہنر کی خدمت بغیر مادّی عوض کے کرتے ہیں۔ اس کے باوجود ان کے بعض علمی ، ادبی اور ہنری مقروض ان کی شخصیت کے قدرداں نہیں۔

سرزمینِ بلتستان میں الہامی صاحب درحقیقت ایک عملی شاعر ہیں آپ ایک فقیرانہ اور درویشانہشخصیت کے مالک ہیں۔ ان کی نظم پر مبنی تحریروں میں اس بات کا ثبوت ملتا ہے کہ آپ ایک انقلابی شاعر ہیں۔ آپ حق بات کے بیان کرنے اور ظلم و بربریت کے چہروں سے نقاب اٹھانے میں شیر کا دل رکھتے ہیں۔ اس حوالے سے آپ ابھی تک کسی مصلحت کے شکار نہیں ہوے۔ البتہ کہیں کہیں بات مخمل کے کپڑے میں لپٹی ہوئی ہے تو یہ آپ کی خارجہ پالیسی کا حصّہ ہے ۔اس تناظر میں آپ ایک درویش صفت انسان ہیں۔ ان کی خودداری کی وجہ سے بعض لوگ ان کے سامنے اپنے مکروہ نظریات بیان کرنے سے ہچکچاتے ہیں۔ آپ مختلف علوم ، فنون اور نظریات و اصطلاحات کی تعریف کرنے میں ایک جداگانہ ملکہ رکھتے ہیں۔ فِقّہ اور میڈیکل کی طرح زندگی کے دیگر شعبوں کے حوالے سے آپ تقلید کا پرچار کرتے ہیں مگر موضوعی اعتبار سے آپ اپنے آپ کو ادبی مجتہد سمجھتے ہیں اور دوسروں کو بھی اس کی اہمیّت پر زور دیتے ہیں۔

یہ ان کا ادبی ذوق و شوق ہی ہوسکتا ہے جس نے آپ کو کمالات کا عاشق بنادیا ہے ۔ آپ کے نزدیک عشق شہوت رانی سے نہیں بلکہ کمال و جمال کی جانب سفر کرنے سے حاصل ہوتا ہے ۔ یہی ادبی ذوق ہی ہوسکتا ہے کہ جس نے الہامی صاحب کو مدرسہ کی زندگی سے خیر باد کہلواکر ادبی میدان میں لاکھڑا کیا ہے ۔ آج نظم و نثر میں خلاقّیت کے اعتبار سے سرزمین ِ گلگت بلتستان میں آپ کا کوئی مدِّ مقابل نہیں۔

قارئین آپ کی تحریروں کے فلسفیانہ رنگ اور ادبی چاشنی کے ذائقوں سے محظوظ ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ آپ کی شخصیت کا طرّۂ امتیاز یہ ہے کہ آپ کے تمام نظریات اور عملی زندگی پر فلاحی پہلو غالب ہے آپ لوگوں کے درد کو جلد محسوس کرتے ہیں اور دلیری کے ساتھ اُن کے مسائل کو حل کرنے کی عملی کوشش بھی کرتے نظر آتے ہیں ۔ اسی وجہ سے لوگ آپ کو سرزمینِ گلگت بلتستان کے گوہرِ نایاب کے نام سے یاد کرتے ہیں۔یوں صرف دعوی ہی سے نہیں بلکہ دلیل سے ثابت ہوا کہ آپ کمال ہیں ۔

درس و تدریس، بحث و گفتگو ، شعر و شاعری اور کتابوں کو سمیٹنے کے معاملے میں آپ کو دیوانہ ہی کہا جاسکتا ہے۔ آپ کا دائرۂ حال واحوال بہت ہی وسیع ہے۔ لوگوں کے کمالات کے ادارک میں آپ کو دسترس حاصل ہے ۔ اسی لیے شخصیات کی تعریف کرتے ہوئے آپ سخاوت سے کام لیتے ہیں ۔ کسی شئی کی غرض و غایت حاصل کرنے کے لیے آپ خیال کے ذریعے فکر اور اظہار کرنے کے عادی ہیں اسی لیے بعض لوگ آپ پر مبالغہ آرائی کا الزام لگاتے ہیں۔ حالانکہ یہ لوگ اگر تھوڑی سی دقت اور لطافت کے ساتھ شاعرانہ زندگی اورشاعری کے اسرار ور موز پر غور و فکر کرتے یا دوسرے لفظوں میں وہ خود حقیقی اور عملی شاعر ہوتے تو ایسا کبھی نہیں کہتے۔ انسان کو چاہئے کہ وہ دوسروں کی خوبیوں کو بیان کرتے وقت حسد، جہالت اور بخل جیسی بشری کمزوریوں پر کنٹرول کرینیز بے جا مبالغہ آرائی کے ذریعے عدم کو ثابت کرنے کی کوشش بھی نہ کرے ۔ اس حوالے سے الہامی صاحب خود بھی ادراک رکھتے ہیں کہ وہ ابھی زندانِ ذات سے مکمّل طور پر آزادنہیں ہوے ہیں۔ مکتبی اعتبار سے ان کی تحریروں میں کافی مواد ملتا  ہے مگر اس حوالے سے راقم ان کی صحیح جہت کا اندازہ لگانے سے قاصر ہے ۔

آخر میں الہامی صاحب کے اس شعر کے ساتھ آپ سے اجازت چاہوں گا

ہر بے ادب سے ربط ہمارا نہیں رہا
اہلِ ادب کے سامنے تو سر جھکا لیے

نجف علی شرقی بی ایس سی (آنر)کے ساتھ ایم اے ایجوکیشن  کی سند رکھتے ہیں۔ وہ اس وقت نیو چلڈرن پبلک سکول/کالج کے پرنسپل کی حیثیت سے معیار تعلیم کو بلند کرنے اور علم و دانش کی شمع کو ہر طرف فروزاں کرنے میں کوشاں ہیں۔نیز وہ اس وقت قراقرم انٹرنیشنل یونیورسٹی سکردو کیمپس میں شام کے وقف ایجوکیشن کے استاد بھی ہیں۔(ایڈیٹر)

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔