ہڑتال کے معاملے پر سکردو کے تاجر دو گروہوں میں بٹ گئے

ہڑتال کے معاملے پر سکردو کے تاجر دو گروہوں میں بٹ گئے

10 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

سکردو ( رضاقصیر ) سکردو شہر میں ہڑتال کے معاملے پر تاجر دوحصوں میں بٹ گئے تاجروں کا ایک گروپ منگل کے روز دن بھر گاڑیوں پر لوڈ سپیکر لگا کر ہڑتال کی اپیلیں کرتا رہا اور اعلان کرتا رہا کہ بروز منگل بتاریخ 17فروری کو سکردو شہر میں انتظامیہ کے غیر منصفانہ روئے کے خلاف مکمل شٹر ڈاؤن ہڑتال ہو گی تمام دکانیں مارکیٹیں بند رہیں گی تاہم تاجروں کا دوسرا گروپ ہڑتال کی مخالفت کر رہا ہے یہ گروپ جگہ جگہ تاجروں کو ہڑتال میں حصہ نہ لینے کی اپیلیں کررہا ہے اس طرح پہلی مرتبہ سکردو شہر میں ہڑتال کے معاملے پر تاجر دو حصوں میں تقسیم ہو گئے ہیں ۔آ ج17فروری بروز بدھ کو سکردو نیا بازار ا، آرامشین لائن کالج روڈ ، علمدار چوک ، کاظمی بازار ، چشمہ بازار اور کلفٹن پل کے علاقوں میں ہڑتال ہو گی اور ان علاقوں میں مارکیٹیں ، دکانیں مکمل بند رہیں گی تاہم جیل روڈ ، ہسپتال روڈ ایریا ،پریشان چوک ، علی چوک ، آغا ہادی چوک کے تاجروں نے دکانیں کھلی رکھنے کا اعلان کر دیا ہے اس لئے یہ کہنا بہت مشکل ہے کہ سکردو میں ہڑتال کس قدر کامیاب ہوگی ؟ مرکزی انجمن تاجران کے عہدیداران نے صاف صاف کہہ دیا ہے کہ وہ اس وقت تک ہڑتال ختم نہیں کریں گے جب تک انتظامیہ ان کے مطالبات منظور نہیں کرتی کالج روڈ کے تاجروں نے بھی مرکزی انجمن تاجران کی حمایت کا اعلان کردیا ہے اور ہڑتال کو کامیاب بنانے کا دعویٰ کیا ہے تاہم ہسپتال ایریا پریشان چوک ، جیل روڈ سمیت کئی دیگر علاقوں کے تاجروں نے ہڑتال سے مکمل لاتعلقی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ہڑتال کی کال ان لوگوں نے دی ہے جو گاڑیاں شہر میں نہ آنے پر متاثر ہو رہے ہیں ہمارا ہڑتال سے کوئی تعلق نہیں ہے مرکزی انجمن تاجران ایک اہم رکن خواجہ مدثر نے کہا ہے کہ انتظامیہ اور ہمارے مابین مزکرات ناکام ہو گئے ہیں اس لئے ہم 17فروری سے مکمل ہڑتال پر جارہے ہیں حلقہ نمبر2میں بننے والے بس اڈے پر ہمیں کوئی اعتراض نہیں ہے اعتراض کو رو میں قائم ہونے والے اڈے پر ہے ایک شہر میں دو دو بس اڈے نہیں ہونے چاہیں۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔