جولائی پھر آرہا ہے

جولائی پھر آرہا ہے

10 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ

جولائی کا مہینہ کا مہینہ پھر آرہا ہے۔گذشتہ سال جولائی کے مہینے میں چترال میں تاریخ کا تباہ کن سیلاب آیا تھا۔اس سیلاب کے نتیجے میں کئی انسانی جانوں کے ضیاع کے علاوہ گاؤں کے گاؤں صفحہ ہستی سے مٹ گئے تھے۔گذشتہ 65سالوں کے دوران جو انفراسٹرکچر مثلاً پل،سڑکیں،سکول،ہسپتال،آبپاشی سکیمں ،آبنوشی سکیمیں بجلی گھر وغیرہ تعمیر کیے گئے تھے سیلاب برد ہوگئے اور چترال ترقی کے سفر میں پچاس سال پیچھے چلا گیا۔سیلاب کے فوراً بعد وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف چترال آکر سیلاب زدہ گان کی مدد اور تباہ شدہ انفراسٹرکچر کی دوبارہ تعمیر کا اعلان کیا۔صوبے کے چیف ایگزیکٹیو اور وزیراعلیٰ پرویز خٹک بھی وزیراعظم کے ہمراہ تھے۔وزیراعلیٰ کی باتیں ریکارڈ پر موجود ہیں۔اُنہوں نے کہا تھا انفراسٹرکچر کی عارضی بحالی میں دو مہینے لگینگے ۔جب کہ مکمل بحالی میں چھ مہینے کا وقت لگے گا۔تادم تحریر اُس اعلان کے آٹھ مہینے گذر چکے ہیں۔تباہ شدہ سڑکیں تعمیر ہوسکی اور نہ ہی پل،سکول کی بلڈنگ دوبارہ تعمیر ہوسکے نہ ہسپتال کی۔آبپاشی ،آبنوشی سکیموں کی بحالی کی بات تو دور ان آٹھ مہینوں میں کسی ایک بھی انفراسٹرکچر پر مکمل بحالی کے کام کا آغاز بھی نہیں ہوسکا۔ورنہ عارضی بحالی کے فوراًبعدحتمی بحالی بھی اب تک ہونی چاہیئے تھی۔وزیراعلیٰ کے اعلان کے مطابق حتمی بحالی پر اب تک کام شروع کیوں نہ ہوسکا؟ان چھ مہینوں میں مکمل بحالی کے کام کیوں سرانجام نہیں دئیے گئے؟۔بظاہر کوئی وجہ نظر نہیں آتی ۔مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے اس مقصد کے لئے خطیر رقم بھی مختص کی گئی تھی۔شایدمتعلقہ ادارے اور ضلعی انتظامیہ نے بچت کی خاطر مکمل بحالی کے کاموں کو اس سال ستمبر تک موخر کیے ہو یا شاید اُن کی دانست میں یہ با ت ہو کہ اس سال بھی جولائی اگست کے مہینوں میں گذشتہ سال کے مقابلے میں زیادہ سیلاب او ربارش کی پیشنگوئی ہے۔اس لئے ضلعی انتظامیہ بچت اور عظیم تر قومی مفاد میں پلوں ، سڑکوں اور آبنوشی سیکمیوں کی مکمل بحالی جولائی 2016ملتوی کی ہو۔اور یہ بھی ممکن ہے صو بائی حکومت کرپشن کے سخت خلاف ہے۔اس لئے ہوسکتا ہے ضلعی انتظامیہ ،سی اینڈ ڈبلیو،پبلک ہیلتھ اور محکمہ ایریگیشن نہیں چاہتے ہیں کہ مکمل بحالی کے کاموں میں پیسہ خرچ کرنے پر کرپشن ہوسکتاہے۔اس لئے بہتر ہے کہ ایسے کاموں سے پرہیز برتا جائے۔کیونکہ پرہیز علاج سے بہتر ہے۔کالاش ویلیز کے لوگ ندی نالوں کے اندر اپنی مدد آپ کے تحت بنائے گئے عارضی راستوں اور پلوں کوآمدروفت کے لئے استعمال کرتے ہیں۔گرم چشمہ کے لوگ ایسے ہی راستوں اورپلوں سے استفادہ کرتے ہیں۔ابھی ندی نالوں اور دریاکے پانی کا سطح کم ہے،تحصیل موڑکہو کے لوگ آمدورفت کے لئے دریاؤں کے اوپر چیئرلفٹ استعمال کرتے ہیں۔یہی صورتحال تورکہو اور تحصیل مستوج کے لوگوں کا ہے وہ بھی ایسے ہی سہولیات سے مستفید ہورہے ہیں۔چترال ٹاون کے آبپاشی، آبنوشی سکیمیں اورپل ابھی مکمل بحال نہیں ہوئے۔اگر ضلعی انتظامیہ کو ان لوگوں کے ان بنیادی انسانی مسائل کا تھوڑاسا بھی ادراک ہوتا،درد ہوتا تو ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ ادارے پیپر ورک میں اتنا لمبا عرصہ ضائع نہیں کرتے۔نان ایشوز پر وقت صرف نہیں کرتے۔ڈپٹی کمشنر ،CDLDکے ہنگامی ڈیزاسسٹر فنڈ کو استعمال میں لاتے،لوگوں کے لئے پل بناتے،سڑک بناتے،آبپاشی،آبنوشی سکیمیں بحال کرتے،حفاظتی دیواریں تعمیر ہوتیں۔ضلعی انتظامیہ ،سی اینڈ ڈبلیو،پبلک ہیلتھ،ایریگیشن اور پی ڈبلیو ڈی پر ہاتھ سخت رکھتے۔بحالی کے کام مکمل ہوجاتے۔ آج صوبے کے چیف ایگزیکٹیو کو Embarrassed ہونا نہ پڑتا۔علاقے کے لوگوں کو آبپاشی ،آبنوشی کے ذرائع کو بحال کر نے کے لئے گھر گھراور بازاروں میں چندہ اکٹھا کرنے کی ضرورت نہ پڑتی ۔چھ مہینوں میں وزیراعلیٰ کے مکمل بحالی کا وعدہ آج ایفا ہوتا۔چیف ایگزیکٹیو صاحب سُن لے ! آٹھ مہینے گذر گئے یہاں کے لوگ اب بھی اپنی مدد آپ کے تحت اُن عارضی پلوں،سڑکوں،آبنوشی اور آبپاشی کے انفراسٹرکچر کو استعمال کررہے ہیں جو دومہینوں میں اپنی مدد آپ بحال ہوئے تھے۔مریضوں کے لئے ہسپتال بحال نہیں ہوئے،بچوں کے سکول بحال نہیں ہوسکے،سڑکیں ،آبپاشی،آبنوشی سکیمیں ابھی تک بحال نہیں ہوئی۔جولائی کا مہینہ پھر آنے والا ہے۔ان ندی نالوں اور دریاوں کاپانی پھر سے اُوپر آئیگا۔یہ عارضی پل اور سڑکیں پھر سے دریا برد ،سیلاب برد اور زیر آب آئینگے۔چیف ایگزیکٹیو صاحب آپ دوبارہ آئینگے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔