1964کے بعد مرکزی ہنزہ میں پہلی بار بوفوء نامی تہوار منایا جارہا ہے

1964کے بعد مرکزی ہنزہ میں پہلی بار بوفوء نامی تہوار منایا جارہا ہے

11 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

ہنزہ(اکرام نجمی )ہنزہ کے مشہور تاریخی گاوں التت میں ڈینش سینٹرفار کلچراینڈ ڈیولپمنٹ اور ہاشو فاونڈیشن کے تعاون سے ہنزہ آرٹس اینڈ کلچرکونسل، التت رورل سپورٹ آرگنائزیشن اور عوام التت سال 1964ء کے بعد دوبارہ ہنزہ کا قدیم ثقافتی تہواربوفوء کا انعقاد مورخہ27، اور 28 فروری کو کیا جارہاہے۔

1964سے قبل میر آف ہنزہ کے سرکردگی میں یہ تہوار ہر سال 15فروری کو گاوءں التت میں منایا جاتا تھا اس تہوار کا آغاز ہونے سے ایک یا دو دن قبل میر آف ہنزہ کریم آباد سے التت قلعہ میں منتقل ہوتے تھے۔

بو فوء بمعنی بروشسکی میں بیج بونے سے ہے نئے فصل کی کاشتکاری کے آغاز پر منانے والا یہ تہوار راجگی نظام کے خاتمے کے ساتھ ہی آہستہ آہستہ ختم ہوا تھا ۔

اس تہوار کو دوبارہ منانے کے حوالے سے عوامی حلقوں میں جوش و خروش پایا جاتاہے اس سلسلے میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مقامی لوگوں کا کہنا تھا کہ نئے نسل کو ان کے آباوٗ اجداد کے ثقافت سے روشناس کرانے کا یہ ایک بہترین موقع ہوگا اسطرح کے ثقافتی تہواروں کو دوبارہ متعارف کرانے سے علاقے میں سیاحت کے فروغ میں مدد ملے گا اور لوگوں خاص کر نوجوان نسل کو انکی تاریخی ورثے سے آگا ہی حاصل ہوگی ۔

اس سلسلے میں ہنزہ آرٹس کونسل کے صدر سرادار خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہنزہ آرٹس کونسل علاقے کے روایتی تہواروں کو دوبارہ منانے کی بھر پور کوشش کررہا ہے اس سلسلے کا پہلا پروگرام تھومشلنگ تلینو شیناکی ہنزہ میں منایا گیا ہے اور بوفو التت میں منایا جارہاہے ان کا مزید کہنا تھا کہ 21مارچ کو نوروز اور یکم اپریل کو شمشال میں تخم ریزی تہوار منایا جائیگا ۔

پروگرام کے منتظمین کا کہنا ہے اس تاریخی تہوار کے مہمان خصوصی گورنر گلگت بلتستان میر غضنفر علی خان ہونگے امید ظاہر کی جارہی ہے کہ اس تاریخی تہوار میں گلگت بلتستان کے سرکاری و غیر سرکاری اداروں کے سربراہاں کے علاوہ عوام کی بھر پور شرکت کرے گی ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔