سرحدی علاقہ چھوربٹ میں اساتذہ اور تعلیمی سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جائے، محمد عرفان چھوربٹی

کراچی (نامہ نگار)علاقہ چھوربٹ میں گزشتہ ادوار میں سکولوں کے لئے متعدد عمارتیں تعمیر کی گئی مگر اساتذہ کہ فراہمی اب تک ممکن نہیں ہو سکی۔ ڈسٹرک ایجوکیشن آفس اور کمیونٹی کے تعاون سے گرلز ہائی سکول سکسا سمیت متعدد سکول عرصہ دراز سے پورے علاقے میں اساتذہ کی عدم فراہمی کے باوجود اپنی مدد آپ کے تحت میٹرک بلکہ انٹر تک کی کلاسیں بھی چلائی رہی ہیں۔ حکومت کو متعدد بارعلاقہ چھوربٹ کے طالبات کو درپیش اس مسائل سے آگاہ کیا گیا ہے اور دوران الیکشن بھی اہلیان علاقہ کی ان سکولوں کے لئے اساتذہ کہ فراہمی عوامی مطالبات میں سرِ فہرست رہا۔ حال ہی میں پورے گلگت بلتستان میں محکمہ تعلیم میں سات سو سے زائد اسامیوں پر تقرری کا فیصلہ کیا گیا ہے، مگر علاقہ چھوربٹ کے سکولوں کو یکسر نظر انداز کیا گیا ہے جو کہ نہ صرف اہلیانِ علاقہ کے ساتھ مذاق ہے بلکہ ان طالبات کے ساتھ زیادتی ہے جو حصولِ علم کی جستجو رکھتے ہیں۔ اس جدید دور میں جب دنیا کے دیگر ممالک میں عورتیں خلائی سفر کر رہی ہیں اور پاکستان کی خواتین دنیا بھر میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں، پورے علاقہ چھوربٹ میں لڑکیوں کے لئے ایک بھی ہائی سکول کا نہ ہونا حکومت اور محکمہ تعلیم کی حقوق نسواں کے بلندوبانگ دعوں کی قلعی کھولنے کے لئے کافی ہے۔

ان خیالات کا اظہارسکسا سٹوڈنٹس ویلفئر آرگنائزیشن کے سینئر ممبرعرفان چھوربٹی نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کیا۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ اوروزیر تعلییم سے مطالبہ کیا ہے کہ علاقہ چھوربٹ کے تمام تعلیمی اداروں کو بروقت اساتذہ اور مالی وسائل کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے تاکہ گانچھے جیسے ترقی پذیر علاقوں میں تعلیم کو عام کیا جا سکے بصورت دیگر علاقے میں بڑھتی ہوئی نا خواندگی کی ذمہ داری حکومت وقت پرعائد ہوتی ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments