سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹروں کے ‘نامناسب رویے’ کے خلاف چلاس میں احتجاجی مظاہرہ، ڈاکٹروں کی بدمعاشی نامنظور کے نعرے

سرکاری ہسپتال کے ڈاکٹروں کے ‘نامناسب رویے’ کے خلاف چلاس میں احتجاجی مظاہرہ، ڈاکٹروں کی بدمعاشی نامنظور کے نعرے

17 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

چلاس(مجیب الرحمان)ڈی ایچ کیو ہسپتال کے ڈاکٹروں کے نامناسب رویئے ،فرائض میں غفلت برتنے کے خلاف علماء یوتھ کونسل کی کال پر چلاس شہر میں زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔احتجاجی ریلی کے شرکاء نے مدنی مسجد سے ایس پی آفس تک ریلی بھی نکالی۔مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر ڈاکٹروں کی بدمعاشی نامنظور،ڈاکٹروں کی لوٹ مار،مریضوں سے ناروا سلوک نامنظور کے نعرے درج تھے۔شرکاء نے ڈاکٹروں کے روئے کے خلاف فلک شگاف نعرے بھی لگائے۔صدیق اکبر چوک میں منعقدہ احتجاجی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا محمد عارف مولانا محفوظ اللہ اور مفتی حفیظ اللہ نے کہا کہ ڈی ایچ کیو ہسپتال کے ڈاکٹر مسیحا کم اور تاجر زیادہ بن گئے ہیں۔ہسپتال میں آنے والے مریضوں کو ڈانٹ پلاتے ہیں اور گالم گلوچ کرتے ہیں نہ ہی مریض کو چیک کرتے ہیں۔اور نہ ہی صحیح علاج معالجہ وقت کی پابندی بھی نہیں کرتے ہیں۔صبح دس بجے ڈیوٹی پر آجاتے ہیں اور گیارہ بجے ٹی ٹائم اور پھر کلینکس کا رخ کرتے ہیں۔ڈاکٹروں نے اپنے بزنس کی خاطر ہسپتال میں صرف دس بارہ مریضوں کا معائنہ کر کے ٹیسٹ لکھ کر اسے کلینک آنے پر مجبور کرتے ہیں اور وہاں پر بھاری بھرکم فیسیں اور ہزاروں کی اپنی ادویات بیچتے ہیں۔ہسپتال میں کوئی اپنے مریض کے معائنے کے لئے اصرار کرے تو اسکے ساتھ لڑائی بھی خود کرتے ہیں اور پھر احتجاج کے نام پر ڈیوٹی سے بھاگ جاتے ہیں۔ہسپتال میں الٹراساؤنڈ کے لئے ہفتوں کا وقت دیا جاتا ہے جبکہ کلینکس میں دس منٹ میں الٹراساؤنڈ کرتے ہیں۔فوری طور پر فیمیل الٹراساؤنڈ سپیشلسٹ تعینات کی جائے۔اور فیمیل ونگ کو تعمیر کر کے فعال کیا جائے۔ہسپتال میں ڈاکٹرز کی کمی کو پورا کیا جائے۔ڈاکٹرز کمپنیوں کے ساتھ گھٹ جوڑ کر کے عوام کو غیر معیاری مہنگی ادویات لکھ رہے ہیں۔جس سے کوئی بھی مریض ٹھیک نہیں ہوتا ہے اور اسے دور دراز کے شہروں میں جانا پڑ رہا ہے۔ڈاکٹرز اپنے فائدے کے لئے غریب مریضوں کی جانوں سے کھیل رہے ہیں۔انکے خلاف فوری کاروائی عمل میں لائی جائے۔دیامر میں کوئی آفیسر ڈیوٹی نہیں کرتا ہے۔انتظامی آفیسران نے سلیمانی ٹوپی پہنی ہوئی ہے جس سے عوام در در کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں۔ڈاکٹروں کا رویہ درست اور انہیں صحیح مسیحائی پیشے پر مامور نہیں کیا گیا اور ڈاکٹروں نے بدمعاشی نہیں چھوڑی تو عوام ہسپتال اور کلینکس کا گھیراؤ کرینگے۔ہسپتال میں غریب مریضوں کی ادویات فراہمی کے فنڈز میں اضافہ کیا جائے۔متعلقہ حکام اپنی ذمہ داریوں میں غفلت برتنے اور اپنی پوسٹنگ کی خاطر مریضوں اور انکے لواحقین کے ساتھ بدتمیزی اور انہیں رسوا کرنے والے ڈاکٹرز کے خلاف قانونی کاروائی فوری عمل میں نہیں لائی گئی تو علماء جلد ہی اگلے لائحہ عمل کا اعلان کرینگے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔