متبادل اراضی فراہم کیا جائے ، نلتر 18 میگاواٹ بجلی منصوبے سے متاثرہ ہونے والے گاوں کے باسیوں نے احتجاجا بجلی گھر بحالی کا کام رکوا دیا

متبادل اراضی فراہم کیا جائے ، نلتر 18 میگاواٹ بجلی منصوبے سے متاثرہ ہونے والے گاوں کے باسیوں نے احتجاجا بجلی گھر بحالی کا کام رکوا دیا

8 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

گلگت(خبرنگار خصوصی )18میگاواٹ نلتر پاور پراجیکٹ سے متصل گاوں مومن آباد کے مکینوں کی شدید تحفظات اور احتجاج کے باعث پاور ہاوس کی بحالی پر کام اب تک شروع ہی نہیں ہوسکا ،حکومتی نمائندوں کے 15دنوں میں بجلی کی بحالی کے دعوے جھوٹ ثابت ہوگئے۔

تفصیلات کے مطابق نلتر کے گاؤں مومن آباد کے عوام نے ان کی آباد کاری کے حوالے سے2005میں ہونے والے ایک معاہدے پر عمل درآمد نہ کرنے پر18میگاواٹ نلتر پاور ہاؤس پر کام کرنے سے روک دیا ہوا ہے اور حکومت نمائندے اور اہلکار گلگت شہرکے عوام کو دلاسے دلارہے ہیں کہ 15دنوں کے اندر 18میگاواٹ کو بحا ل کردیا جاے گا اور عوام کو بجلی فراہم کئے جائے گئی ،لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے کیوں کہ جس علاقے سے 18میگاواٹ کے لئے کوہل جاتی ہے اس علاقے کے عوام نے کام کرنے کے روک دیا ہے ۔

اس حوالے سے نلتر مومن آباد کے عمائیدین محمد حسین ،سماجی شخصیت جعفر حسین ایڈووکیٹ ،عباس خان و دیگر نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوتے تب تک کوہل پر کام کرنے نہیں دیا جائے گا کیوں کہ جب کوہل پہ کام شروع کیا جائے گا تو بڑے بڑے پتھروں کو توڑنے کیلئے بلاسٹنگ کی جائے گی جس سے ہمار ے مکانات اور زمینیں تباہ ہوجائینگے ۔ان کا کہنا تھا کہ نلتر مومن آباد کے مکینوں کے مطابق جب 2003میں 18میگاواٹ نلتر کی منصوبہ بندی ہورہی تھی اس وقت مذکورہ علاقے کے مکینوں کومتبادل اراضی فراہم کی جائے گی جبکہ کہ اس معاہدے پر تاحال عمل درآمد نہیں ہوسکا ہے جس سے مجبور ہوکر ہم نے کام کرنے سے روک دیا ہے ۔یاد رہے متاثرہ پاور ہاؤس کے واٹر چینل پر فوری تور پر کام شروع نہیں ہوا تومزید 18میگاواٹ پاورہاوس بحال کرنے لئے ایک ماہ سے زیادہ عرصہ لگ سکتاہے ۔اس کے علاوہ مومن آباد کے سامنے والاگاؤں مہدی آباد کے 34گھرانے بھی برفانی تودہ کرنے سے شدید متاثر ہیں اور کہیں مکانات مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں ۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔