خوبانی کے پھول اور سیاسی پھپولے

خوبانی کے پھول اور سیاسی پھپولے

15 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

پیپلزپارٹی تنظیم نوکے عمل میں ابھی قدم رکھ بھی نہ پائی تھی کہ جیالوں میں شدید اختلافات ضلعی ہیڈکواٹر خپلو میں دیکھنے میں آ رہے ہیں۔اور اخباری بیانات کے زریعے یہ ضلعی صدارت کے امیدوار اپنے مفاداتی شرئط لئے میدان میں اترنے کا اعلان کرتے صرف اخبارات تک محدود ہیں۔تاہم ضلعی ہیڈکوارٹر سے صدارت کو منسوب کرنا ایک ڈش انفارمیشن کا حصہ ہے۔جو جعفر گروپ کی لابنگ کا ایک نیا سیاسی پینتر ا و پتہ ہے۔

غلام محمد صدر پی وائی او میدان میں اس گروپ کے ابر و یے اشارئے پہ سیاسی سگنل دے رہا ہے۔جبکہ ایسا نہ ہونے پر ان کا خود صدارت میں آنے کا عندیہ قابل تحسین ضرور ہےکہ اس قدر ہمت تو ہوئیاور وہ بھی سیاچن سیکٹر سید مشہ بروم کے ایک ایسے فرزند انجنئیراسماعیل کا گاوں والا اور عزیز واقارب میں شامل ہے۔

اس تناظر میں غلام محمد کا یہ کردار بغیر پشت پناہی کے نہیں ہو پا رہا۔اس ضمن میں جی بی حلقہ ۲۲گانچھے کے پی پی کے سینئرکارکنان سے رابطے کی بھی تصدیق ہو چکی ہے۔یوں ایک گروپ ایسا ابھر رہا ہے۔جو آمد22 اپریل صوبائی و ریجنل قیادت کے سامنے ضرور مخالفت حاجی محمدابراہیم کرے گا۔اور اس کے لئے سیاسی بے جان نکات کو وجہ تسمیہ بنائے گا۔اور اس معاملے کو متنازعہ بنانا ہی اصل مدعا ہے۔جس لئے سرجوڑا اور حکمت عملی ترتیب دینے کے لئے بھی اندرون خانہ سر گرمیاں بڑھ چکی ہیں ۔تاہم سپروائزرمہدی گروپ نے رابطوں کے باوجود اب تک حامی بننے کی حامی نہیں بھری ۔صوبائی قیادت کی آمد سے قبل آخوند محمد ابراہیم و صوباٗئی جنرل سیکرٹری انجنئیر محمد اسماعیل صوبائی عہدیداروں کی آمد سے دو ردز قبل ہو گی اور انتظامی کمیٹی اس وقت تشکیل دی جائے گی۔

یہ جو نئے چہرے کا واویلا چھوڑا جا رہا ہے۔اس سیاسی غبارہ شوشا میں اتنی ہوا نہیں جتنا کہ بتایا جا رہا ہے۔غلام محمد صدر PYO گانگچھے نے تو یہ بیان تک داغ دیاکہ شہباز شریف کے پیرحاجی ابراہیم کو ہم صدر نہیں مانتے۔

یوں اگر ہم تجزیاتی نظر دوڑائیں تو ضلع گانگچھے میں اس وقت خوبانی کے درختوں پر پھول آمد بہاراں میں نہیں پھوٹ رہے ۔جتنے پی پی جیالوں کے ماضی کے داستان غم سے پھپھولے پھوٹ رہے ہیں ۔لہذا ان حالات میں مظاہرہ صبر بھی اور دانتوں کے نیچے ہونٹ دبائے ان کے غبار قلب زبان و بیان کو بھی تحمل سے سنانا ہو گااور ترجیحات کی بنیاد پر فیصلہ کرنا ناگریز ہوگا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔