قبلِ مسیح کے زمانے میں پھوگچ داریل میں یونیورسٹی قائم تھی، دیامر کے بچے اعلی دماغی صلاحیتوں کے مالک ہیں، ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن امیر خان کا خصوصی انٹرویو

قبلِ مسیح کے زمانے میں پھوگچ داریل میں یونیورسٹی قائم تھی، دیامر کے بچے اعلی دماغی صلاحیتوں کے مالک ہیں، ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن امیر خان کا خصوصی انٹرویو

7 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 چلاس(انٹرویو:مجیب الرحمان،شاہد اقبال) ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن دیامر امیر خان نے خصوصی تفصیلی انٹرویو میں کہا ہے کہ ذمہ داریوں سے جی چرانے ،گھروں میں بیٹھ کر تنخواہیں لینا،سفارش،اقربا پروری کا زمانہ ختم مستقبل کے نونہالوں کی تعلیم و تربیت میں کوتاہی برتنے والوں کو سیدھا گھر بھیج دیا جائے گا۔ذمہ داریوں سے جی چرانے والوں کیلئے اب محکمہ تعلیم میں کوئی جگہ نہیں ہوگی،غفلت برتنے والوں کے خلاف بلا تفریق بروقت اور فوری ایکشن لیا جائے گااور انہیں نشان عبرت بنایا جائے گا۔ایک جذبے کے ساتھ یہاں آیا ہوں ،ایک سال کے اندر دیامر میں اہم ترین تبدیلیاں لیکر آؤنگا۔مشکلات بہت زیادہ ہیں مگر مشکلات سے ڈر کر پیٹھ نہیں دکھاؤنگا۔محنتی ٹیم کی حمایت سے سسٹم کو سٹریم لائن پر لائینگے۔ایک سال کے اندر دیامرمیں تعلیمی انقلاب ضرور آئے گا۔آئندہ دس سالوں میں ضلع دیامر تعلیمی شرح کے لحاظ سے ملک کے دیگر ضلعوں سے سبقت لے گا۔

ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن دیامر امیر خان نے کہا کہ دیامر کے بچے دنیا کے کسی بھی خطے کے بچوں سے کم نہیں ہیں۔دماغی لحاظ سے دیامر کا کوئی ثانی نہیں۔بوائز ہائی سکول چلاس کا پڑھا ہوا طالبعلم آج پاک آرمی میں کور کمانڈر ،ہڈر پرائمری سکول اور ہائی سکول چلاس کا پڑھا بچہ سیکرٹری ایجوکیشن ،اسی دیامر کا پڑھا ہوا بچہ گلگت بلتستان کا پہلا چیف انجینئیراور دیامر کا پہلا چیف انجینئیر بھی،داریل کے پڑھے بچے آج مختلف اداروں کے ہیڈ آف ڈپارٹمنس ہیں۔سب سے زیادہ پی ایچ ڈی بھی دیامر کے ہیں۔قبل مسیح میں یونیورسٹی پھوگچ داریل دیامر میں تھی۔ضرور ت شعور اور آہنی عزم اور خلوص کی ہے۔

بحیثیت ڈی آئی ایس تمام سکولوں کا دورہ کیا بہت مایوسی ہوئی سالہا سال سے استاد ڈیوٹی پر نہیں آرہے تھے۔بلا تفریق کاروائی کر کے نصف کو ڈیوٹی پر حاضر کروایا مزید بھی اپنی ڈیوٹی پر حاضر ہونگے۔بدقسمتی سے بڑے تعلیمی اداروں میں پڑھ کر آنے والے ڈومیسائل کی بنیاد پر دیامر میں بھرتی ہوئے اور اپنی مرضی سے دیگر شہروں میں چلے گئے۔اب تک جو ہوا ہو چکا آئندہ اب وہ سلسلہ نہیں چل سکے گا۔استاد جہاد سمجھ کر بچوں کی تعلیم و تربیت کریں گے۔مغرب نئی دنیا تلاش کر رہی ہے مگر ہماراقیمتی سرمایہ زنگ آلود ہو رہے ہیں۔کائنات کو مسخر کرنے کا حکم تو ہمیں ملا ہے۔ہم تعلیم و تحقیق سے کوسوں دور ہو کر رہ گئے ہیں۔

دیامر میں مزید چار ایجوکیشنلسٹ ہیڈماسٹرز گلگت سے آئینگے۔ گریڈ چودہ تک این ٹی ایس اور گریڈ سولہ اور اس سے اوپر کی پوسٹوں میں پبلک سروس کمیشن کے تحت میرٹ کے مطابق بھرتیاں ہونگی۔جس سے اساتذہ کی کمی دور ہوجائے گی۔جدید علوم سے آگاہی اور بچوں کی بہتر تعلیم و تربیت کی خاطراساتذہ کی تربیت کے لئے ملک کے دیگر شہروں سے ماہرین کو لایا جائے گا۔اور اساتذہ کو ایک مکمل اور پرفیکٹ استاد بنایا جائے گا۔جس کے لئے پلان تیار کر رہے ہیں۔

موجودہ حکومت اور سیکرٹری ایجوکیشن بھی دیامر میں تعلیمی بہتری کے لئے خصوصی دلچسپی لے رہے ہیں۔سکول انرولمنٹ سسٹم کے تحت غریب اور نادار بچے بھی علم کے نور سے منور ہو رہے ہیں۔اس سال نئے بچے توقع سے زیادہ داخل ہوئے ہیں۔غریب بچوں کو کتابیں کاپیاں یونیفارم ،بیگز و دیگر ضروریات فراہم کی جارہی ہیں۔پانچویں اورآٹھویں کلاسز میں ابھی مزید بچے داخل ہو رہے ہیں۔ابھی پبلک سکولوں سے بچے سرکاری سکولوں میں داخل ہو رہے ہیں۔صاحب استطاعت افراد بھی ارد گرد کے غریب بچوں کی تعلیم و تربیت کا خیال رکھیں۔تاکہ غریب غریب نہ رہے۔غریب کا بچہ بھی آفیسر بن سکتا ہے۔انسان اورحیوان میں بنیادی فرق ہی علم ہے۔

ڈی ڈی ای دیامرامیر خان نے کہا کہ ہر روز اسمبلی ٹائم پر سکولوں پر چھاپے مار کاروائیاں جاری رہیں گی۔تاکہ کوئی استاد اپنی ذمہ داریوں میں کوتاہی نہ برت سکے۔اس سے قبل تمام سکولوں میں کاروائیاں کیں ۔اور ڈیوٹی نہ کرنے والے اساتذہ کے خلاف قانونی کاروائی عمل میں لائی ۔جس سے استادوں کی ڈیوٹی یقینی ہونے لگی ہے۔کسی کو بھی سفارش یا اقرباء پروری کی بنیاد پر چھوٹ نہیں دی جائے گی۔

سکول گوئنگ بچوں کو سکول میں داخل کروانے کے لئے ڈور ٹو ڈور کمپین چلا رہے ہیں۔دیامر کے دوردراز کے علاقے نیاٹ گشر میں گرلز پرائمری سکول نہیں تھابچیوں کے لئے اپنی مدد آپکے تحت سکول قائم کروایایکم اپریل سے سکول شروع کروایا اس سکول میں پیسنسٹھ بچیاں داخل ہو چکی ہیں۔اور علم حاصل کر رہی ہیں۔بیالی کھنبری میں پرائمری سطح کی کو ایجوکیشن سکول میں اٹھتیس بچیاں تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔دیامر کے لوگ اب باشعور ہو چکے ہیں۔جنگی بنیادوں پر اقدامات کی ضرورت ہے۔گورنمنٹ کی جانب سے سکولوں کا قیام خوش آئند اقدام ہے۔دیامر میں قریب ترین تعلیمی ادارے موجود ہیں۔

ممبران اسمبلی نے اپنی اے ڈی پیز میں بہت زیادہ تعلیمی ادارے رکھے ہیں۔ داریل تانگیر میں دو گرلز سکول بھی تیار ہونگے۔دیامر میں سائنس ٹیچر کی کمی کا مسئلہ حل کرنے کی سیکرٹری ایجوکیشن نے یقین دہانی کروائی ہے۔فیمیل ٹیچرز کی انتہائی کمی ہے جس کی وجہ یہاں پر بچیوں کو نہیں پڑھایا گیا۔یہ مسئلہ بھی جلد حل ہوگا۔دیامر کے لوگ بچیوں کی تعلیم کے ہر گز خلاف نہیں ہیں۔

سیپ سکولز کی دوبارہ فنڈنگ ہو رہی ہے یہ سکول پہلے سے بہتر کارکردگی دکھائینگے۔ہوم سکولوں میں بہترین تعلیم ہو رہی ہے۔الگ فوکل پرسن ڈی ڈی ای مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔پر امید ہیں یہی بچیاں ہمارا سرمایہ ہیں۔پانچویں پاس کر کے ہائی سکول آئینگی۔جس سے فیمیل ایجوکیشن ریشو بہت زیادہ بڑھے گا۔سکولوں میں لیبارٹری لائبریری کا نظام بہتر ہے۔مزید بہتری لارہے ہیں۔

پرائیویٹ تعلیمی اداروں کی نسبت سرکاری اداروں میں تعلیم بہتر ہو رہی ہے۔چونکہ پرائیویٹ تعلیمی ادارے بزنس پوائنٹ ہیں۔وہاں پر ماہر استاد نہیں ہوتے ہیں۔اکثر میٹرک پاس افراد کو ٹیچر بھرتی کیا جا رہا ہے۔پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں مانیٹرنگ کا درست نظام نہیں ہے۔ان تعلیمی اداروں کو قانونی دائرے میں لانے کے لئے اقدامات اٹھائے جائینگے۔

نقل کے رجحان کو ختم کرنے کے لئے امتحانات میں مانیٹرنگ ٹیمیں چھاپے مار رہی ہیں۔آئندہ نقل کا رجحان ختم کرنے کے لئے بھر پور اقدامات کر رہے ہیں۔نقل کی بیخ کنی میں کمیونٹی بھی ساتھ دے رہی ہے۔والدین اپنے بچوں کو تعلیم دلوائیں۔انہیں حکمران بنائیں۔پڑھے لکھے نوجوان سی ٹی اور بی ایڈ کریں۔ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن نے مزید کہا کہ یوم والدین کو خوبصورت انداز میں منا رہے ہیں۔تمام قومی و مذہبی تہواروں کو شاندار انداز میں منائینگے۔

سکولوں کی سیکیورٹی کے لئے اقدامات کئے جا رہے ہیں دیامر میں تعلیمی اداروں پر دہشتگردی کا خدشہ نہیں ہے۔مگر پھر بھی سیکیورٹی کی خاطر عملے کو تربیت دی جا رہی ہے۔تاکہ سکول کی سیکیورٹی مزید بہتر ہو سکے۔یہاں کے عوام اپنی تعلیمی اداروں کے کود ہی محافظ ہیں۔

سکولوں میں فرنیچر ز کی کوئی کمی نہیں ہے۔ بلڈنگز اورفرنیچر کے تحفظ کے لئے بھی مؤثر اقدامات اٹھا ئے جا رہے ہیں۔چوکیداروں کی ڈیوٹی پر بھی چھاپے مار کر انکا قبلہ بھی درست کر دینگے۔

تعلیم کی اہمیت کا اندازہ اب دیامر کے باسیوں کو ہوچکا ہے۔دنیا میں اگر ترقی کرنی ہے تو بہتر تعلیم ہی سے ممکن ہے۔دیامر کے عوام کو اپنے بچوں کو اب گھر سے دور بھجوانے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی۔دیامر کے تمام تعلیمی اداروں کو مثالی بنائینگے۔سکولوں میں جدید سہولیات کی فراہمی اور مزید کلاس رومز تعمیر کروائے جائینگے۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔