ٹکٹ دینے کے معاملے پر مسلم لیگ ن ہنزہ دھڑے بندیوں کا شکار، ضلعی عہدیداراجتماعی استعفی کے لئے تیار ہوگئے

ہنزہ (تجزیاتی رپورٹ : حیدر علی گوجالی )ن لیگ کی صوبائی قیادت کو بائی پاس کر کے وفاق سے براہِ راست گورنر گلگت بلتستان کے بیٹے سلیم خان کو ٹکٹ دینے پر نون لیگ ہنزہ میں شدید چپقلشیں، دھڑے بندیاں۔ ن لیگ کے اس فیصلے سے پارٹی ٹکٹ کے دو امیدواروں نے دلبر داشتہ ہوکر آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لینے کے کا اعلان کیا ہے۔ نون لیگ کی صوبائی قیادت کے سروے کے بعد فیصلہ کیا گیا تھا کہ ٹکٹ کرنل (ر) عبید اللہ بیگ کو دیا جائے۔ تاہم سروے رپورٹ پارٹی کے اعلی حکام تک پنہچنے سے پہلے ہی وزیر اعظم نواز شریف نے گورنر اور اس کی بیوی جو خود بھی قانون ساز اسمبلی کی ممبر ہے سے فیملی تعلقات کی بنیاد پر اپےنے دستخط سے ‘پرنس سلیم خان’ کے حق میں فیصلہ سنا دیا۔

معلوم ہوا ہے کہ ن لیگ ہنزہ نگر کے ڈویژنل جنرل سکریٹری امین شیر نے صوبائی قیادت کو اس بات کی یقین دہانی کرائی تھی کہ میر اور کرنل کے علاوہ جس کو بھی ٹکٹ دیا جائیگا وہ ان کی حمایت کرے گا۔ تاہم سلیم خان کو ٹکٹ دینے کے بعد امین شیر نے آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کیا ہے اور بالٹی کو اپنا انتخابی نشان چن لیا۔ جبکہ کرنل (ر) عبید اللہ بیگ نے اپنے ساتھ ہونے والے زیادتی کا جواب دینے کیلئے الیکشن میں بھر پور طریقے سے اترنے کا فیصلہ کیا اور ہدہد کو اپنا انتخابی نشان منتخب کیا ہے۔

ادھر ہنزہ سے تعلق رکھنے والے پارٹی عہدیداروں نے آج اجتماعی استعفے دینے کا اعلان کرنے کے لئے گلگت پریس کلب کا رخ کر لیا۔ تاہم آخری لمحات میں وزیر اعلی کی مداخت پر اجتماعی استعفوں کا معاملہ دو دنوں کے لئے موخر کردیا گیا ہے۔ استعفی کے لئےپریس کلب پہنچنے والوں میں مسلم لیگ کے جانے پہچانے رہنماوں کے ساتھ ساتھ انتہائی پرانے حمایتی بھی موجود تھے۔ سلیم خان کو ٹکٹ دینے کے خلاف پورے ہنزہ میں غصے کی ایک لہر چل پڑی ہے، اور ہر طرف سے لعن طعن کیا جارہا ہے۔ پارٹی کے دیرینہ کارکن نجی محفلوں اور آف دی ریکارڈ گفتگو میں کسی آزاد امیدوار کو ووٹ دینے کا عزم ظاہر کر رہے ہیں۔

دوسری طرف پاکستان پیپلز پارٹی نے سابق سپیکر قانون ساز اسمبلی وزیر بیگ کو پارٹی ٹکٹ دیکر ضمنی انتخابات کے میدان میں دھکیل دیا ہے۔ تاہم اس صورتحال میں تحریک انصاف کے امیدوار عزیز احمد کی پوزیشن مستحکم ہوتی جارہی ہے کیونکہ موصوف ہنزہ بالا سے تعلق رکھتا ہے، اور اس کی وجہ سے بابا جان کو گوجال میں پہلے کی نسبت کم ووٹ پڑنے کا امکان ہے۔ عام آدمی پارٹی کے امیدوار دینار خان بھی مکمل تیاری کے ساتھ پہلی بار قسمت آزمائی کر رہے ہیں۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments