ضلع دیامر، کھینر ویلی کا رابطہ پل تختے ٹوٹ کر دریا میں گرنے سے خطرے کی علامت بن گیا

چلاس(مجیب الرحمان)کھنر ویلی کا رابطہ پل اور سڑک موت کا کنواں بن گئے۔پل کے تختے ٹوٹ کر گرنے لگے پوری ویلی کی سڑک پگڈنڈی میں تبدیل ہو گئی۔کئی مقامات پر سڑک میں دریا کا پانی چڑھ آیا سڑک کا نام و نشان ہی نہیں ۔مقامی آبادی علاقے سے ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئی۔وادی کھنر کی آدھی آبادی پگڈنڈی سے بھی محروم کئی کئی دن پیدل سفر کرنے پر مجبور ہیں۔پوری ویلی میں کہیں بھی رابطہ پل ہی نہیں ہیں ۔دریا پار کرنے کے لئے عوام دریا کی بے رحم موجوں کے درمیان سے گزرنے پر مجبور ہیں۔2010اور اسکے بعد آنے والے سیلاب سے کھنر ویلی کا نقشہ ہی بدل چکا ہے۔اور پورا انفراسٹرکچر مکمل طور پر تباہ ہو چکا ہے۔کھنر ویلی کے اکثر علاقوں میں تاحال رابطہ سڑکیں اور پل ہی نہیں ہیں۔مقامی لوگوں نے اپنی مدد آپکے تحت عارضی طور پر سڑک بحال کی مگر یہ سڑک صرف ایک پگڈنڈی بن چکی ہے۔دریاکے پانی سے سڑک کے کٹاؤ کا عمل بھی مسلسل جاری ہے۔سڑک کا بہت بڑا حصہ دریا کا حصہ بن چکا ہے۔اور لوگ دریا میں ہی سفر کرنے پر مجبور ہیں۔نصف آبادی مکمل طور پر سڑک اور پیدل سفر کرنے کے کشادہ راستے سے ہی محروم ہے۔دریائے سندھ پر معلق رابطہ پل بھی مکمل طور پر بوسیدہ ہو چکا ہے اور تختے ٹوٹ کر دریا میں گر گئے ہیں۔کسی بھی وقت کوئی بھی بڑا نا خوشگوار واقعہ پیش آسکتا ہے۔عوامی حلقوں نے صوبائی حکومت سے فوری طور پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

آپ کی رائے

comments