گلگت بلتستان حکومت کا ایک سال

گلگت بلتستان حکومت کا ایک سال

6 views
0
Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

 تحریر ۔۔۔۔رجبی استوری

گلگت بلتستان میں گزشتہ سال ہونے والے انتخابات کو ایک سال تو مکمل ہو گیا جبکہ مسلم لیگ ن کہیں پیپلز پارٹی کی تاریخ پھر سے دھرانے تو نہیں جا رہی ہے ۔2015میں گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں پر ہونے والے انتخابات میں جہاں وفاقی پا رٹیوں سمیت قوم پرستوں نے بھی انتخابات میں بھر پور حصہ لیا اور اپنی بھر پور طاقت کا ظاہرہ بھی کیا۔مگر عوام کے معیار میں اترنے والی جماعت مسلم لیگ ن نے 24میں سے 15نشستیں حاصل کر کے ایک نئی تاریخ رقم کی جو اس سے قبل ہونے والے تمام انتخابات میں کسی ایک پارٹی کی سب سے زیادہ نشستیں تھیں ۔جبکہ اس کے مد نظر 2009کے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے 20میں سے 11نشستیں حاصل کیں اورگلگت بلتستان میں حکومت بنانے میں کامیاب ہوئے تھے۔۔گلگت بلتستان انتخابات 2015حقیقت میں پیپلز پارٹی بلخصوص سابق وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان وپیپلز پارٹی کے صوبائی صدر سید مہدی شاہ کے لئے ایک ڈروانا خواب ثابت ہوئی۔گلگت بلتستان کی عوام نے پیپلز پارٹی کے5سالہ دور کو مایوس کن قرار دے کر اپ سیٹ شکست دینے پر مجبور کیا۔انتخابی نتائج سے پہلے کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ پیپلز پارٹی کو اتنی بُر ی شکست ہوگی ۔جس پارٹی نے2009کے انتخابت میں اتنی بڑی اکثریت سے کامیابی حاصل کی اور 5سال حکومت بھی کرتی رہی مگر عوام کو مایوسی کے سوا کچھ نہیں ملا اور 11سیٹٰں لینے والی پارٹی کو صرف ایک سیٹ نصیب ہوئی ۔یہ کہا جائے تو کوئی تعجب نہیں کہ وہ ایک سیٹ بھی پارٹی لیول یا عوام کے کام کرنے کے بدلے نہیں ملی بلکہ شخصیت کی بنا پر ملی ہے۔

گلگت بلتستان میں اس وقت مسلم لیگ ن کا راج ہے کیونکہ عوام نے اس بار مسلم لیگی ارکین کو اپنے ووٹ سے موقع فراہم کیا اور اسمبلی تک پہنچایا تاکہ وہ پرانی روایت کو توڑ کر عوام کی خدمت کریں۔گلگت بلتستان میں اس وقت تمام شعبے تنزولی کی جانب گامزن ہیں تعلیم ،صحت بے روزگاری سمیت کئی مسائل عروج پر ہیں اور حکومت کی ایک سال کی کارکردگی بھی مایوس کن نظر آئی ایک سال کے اس عرصے میں وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان اور ان کی حکومت نے ایک اہم کام جو کچھ دن پہلے میڈیکل یونیو رسٹی کے معاہدے پر دستخط کئے لائق تحسین ہے اور اس کے سوائے ایک کام بھی یاکوئی ایسا خاطر خواہ پروجیکٹ یا ترقیاتی کام دیکھنے کو نہیں ملا بظاہر تو ایسالگتا ہے کہ مسلم لیگ ن گلگت بلتستان کی حکومت اور ارکین سابق حکومت کے نقش قدم پر عمل پیرا ہیں۔

گلگت بلتستان اسمبلی میں اپوزیشن کا کردار بھی کوئی متاثر کن نظر نہیں آرہا ہے شاید اسی وجہ سے بھی حکومت پرسکون نیند سونے میں مصروف ہے اور یوں لگتا ہے اپوزیشن بھی حکومت کا حصہ ہے جو اپنے کردار کو بھول کرحکومت کو فری ہینڈ دے چکی ہے۔اگر ایسا ہی رہا تو گلگت بلتستان میں سابق دور حکومت کی طرح لوٹ مار کا بازار گرم ہوجائیگا اور اس کی ایک کڑی یہ الزام بھی ہے کہ وزیر اعلی نے مبینہ طور پر اپنے بھائی کو 16گریڈ سے ترقی دلا کر 18گریڈ میں ایم ایس تعینات کیا ہے جبکہ ان کے متعلق یہ بھی خبریں گردش میں ہیں کہ موصوف کی ڈگری ہی جعلی ہے۔

یو ں توعرصہ دراز سے میرٹ کی پامالی تو گلگت بلتستان والوں کا مقدر بن چکی ہے کرپشن اورلوٹ مار کا اتوار بازار لگا ہوا ہے جس کے جو جی میں آتا ہے وہ اپنی مرضی سے غریب عوام کے حقوق پر ڈھاکہ ڈالتا ہے ۔وزیراعلی گلگت بلتستان خود بھی شاید بے بس نظر آرہے ہیں جسکی وجہ سے غریب عوام تو دور کی بات ہے ان کے اپنے پارٹی ورکر بھی در در کی ٹھوکریں کھانے اور اوپر کے فیصلوں پر انحصار کر کے بیٹھے ہوئے ہیں ہر بار کی طرح اس بار بھی ایک ہی خاندان کا راج نظر آرہا ہے۔

اس کی مثال ہنزہ کے ضمنی انتخابات ہیں جس میں پارٹی ٹکٹ پر اہم ورکروں کو نظر انداز کر کے شاہی وفاداریاں نبھائی گئی۔حکومت گلگت بلتستان اس وقت اپنی پوری تونائیاں صرف اور صرف ہنزہ کے ضمنی انتخاب پر لگا رہی ہے اور حلقہ میں پارٹی ٹکٹ بھی گورنر کے بیٹے کو دیا جبکہ کہا جاتا ہے اس میں پارٹی قیادت اور کارکنوں سے رائے تک نہیں لی گئی بلکہ پرانی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے فیصلہ اوپر سے تھوپا گیا ہے۔جس کی وجہ سے اکثر پارٹی کارکن ناراض ہیں اور بغاوت بھی کر چکے ہیں۔خیر اب مسلم لیگ ن سمیت دیگر پارٹیوں کے لئے سب سے بڑا میدان ہنزہ کا ضمنی انتخاب ہے جسمیں کانٹے کا مقابلہ ہونے کا امکان ہے اس وقت مسلم لیگ ن کے شہزادہ سلیم اور بابا جان جبکہ پی پی اور پی ٹی آئی بھی ٹف ٹائم دینے کے لئے کمر بستہ ہیں۔یوں تو اس ضمنی انتخاب میں اگر شہزادہ سلیم کو شکست ہوئی تو یہ مسلم لیگ ن کے لئے گلگت بلتستان میں سب سے برا دن ثابت ہوگا اور یہی ان کا بربادی کا سبب بنے گا۔اس وقت ایک طرف مسلم لیگ ن کی صوبائی اور وفاقی حکومت جبکہ دوسری طرف بابا جان جو جیل کی سلاخیں ہتھکڑیاں ،عوامی جدوجہد او ر تبدیل کا نشان سب کی نظریں اسی حلقے پر ہیں ۔ یہ تو وقت بتائے گا کہ کس میں ہے کتنا دم عوامی جدوجہد یا پھر شہنشاہت۔

گلگت بلتستان میں مسلم لیگ ن کی حکومت کو ایک سال مکمل ہو گیا ہے اور اس ایک سال میں حکومت کی کارکردگی مایوس کن ہے اکثر ممبران صرف فوٹو سیشن کے زریعے فیس بک اور اخبارات میں زندہ ہیں اگر ایسا ہی چلتا رہا تو گلگت بلتستان ترقی کے بجائے تنزولی کی جانب جائے گا۔سوشل میڈیا میں کی گئی ایک سروے کے مطابق عوام کہتی ہے کہ ابھی ٹائم ہے ابھی حکومت سنبھالنے اور سمجھنے میں توڑا وقت لگے گا جس کے بعد شائدنظام بہتر ہو سکتا ہے ۔ جبک اسی سروے کے تحت یہ بات بھی منظر پر آنے لگی کہ حکومت گلگت بلتستان کی پالسیاں بھی درست سمت پر نہیں ہیں جو گلگت بلتستان سے زیادہ کسی اور کے وفادر بنتے جا رہے ہیں۔الیکشن سے پہلے آئین اور بنیادی حقوق کے لئے بلند و بانگ داعوے کرنے والی حکومت نے صرف اور صرف ٹائم پاس کے علاوہ کچھ نہیں کیا ۔گلگت بلتستان کی عوام تماشا دیکھ رہی ہے کہ کب ان سے کئے ہوئے واعدے پورے ہوتے ہیں۔اگر مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنے آپکو پیپلز پارٹی کے سابق دور کو مد نظر رکھ کر پالیسیاں مرتب نہیں کیءں تو اگلے انتخابت میں ان کا بھی وہی حال ہوگا جو پیپلز پارٹی کا ہوا تھا ان تما م ترمشکلات سے بچنے کے لئے اب بھی وقت ہے کہ گلگت بلتستان کے عوام کے مسائل پر توجہ دی جائے اور مسائل کو حل کرنے کے لئے اقدامات بھی اگر ایسا نہ کیا گیا تو مسلم لیگ ن کا بھی گلگت بلتستان سے صفایا ہو جائے گا۔

Share on FacebookTweet about this on TwitterShare on LinkedInPin on PinterestShare on Google+

آپ کی رائے

comments

About author

پامیر ٹائمز

پامیر ٹائمز گلگت بلتستان، کوہستان اور چترال سمیت قرب وجوار کے پہاڑی علاقوں سے متعلق ایک معروف اور مختلف زبانوں میں شائع ہونے والی اولین ویب پورٹل ہے۔ پامیر ٹائمز نوجوانوں کی ایک غیر سیاسی، غیر منافع بخش اور آزاد کاوش ہے۔